نیپال کوہ پیمائی حادثے میں کم از کم 39 افراد ہلاک

بہت سے کوہ پیماؤں کو برف سے شدید زخم آئے ہیں اور ان کے اعضا کاٹے جا سکتے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبہت سے کوہ پیماؤں کو برف سے شدید زخم آئے ہیں اور ان کے اعضا کاٹے جا سکتے ہیں

جنوبی ایشیائی ملک نیپال میں حکام کا کہنا ہے اس ہفتے کے اوائل میں ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے میں آنے والے برفانی طوفان میں کم از کم 39 کوہ پیما ہلاک ہو گئے ہیں۔

پہاڑو پر کوہ پیماؤں کو بچانے والی ٹیم چوتھے دن بھی لاپتہ کوہ پیماؤں کی تلاش میں ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ برف کے نیچے مزید لاشیں دبی ہو سکتی ہیں۔

ہلاک شدگان میں نیپالی، اسرائیلی اور پولینڈ کے مہم جو بھی شامل ہیں۔

نیپال کے اب تک کے اس سب بڑے ٹریکنگ حادثے میں امدادی ٹیموں نے 282 کوہ پیماؤں کو بچا لیا ہے جبکہ لاپتہ ہونے والے متعدد افراد کی تلاش ابھی جاری ہے۔

بہت سے کوہ پیماؤں نے اپنے گائیڈز پر الزام لگایا ہے کہ انھوں نے انھیں بے یارو مددگار چھوڑ دیا جبکہ بعضوں کا کہنا ہے کہ اچانک موسم تبدیل ہوجانے سے وہ غیر محفوظ ہو گئے۔

ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کیونکہ بہت سے کوہ پیماؤں سے رابطہ نہیں ہو سکا ہے۔

اینڈریو نارتھ کا کہنا ہے نیپال ایک غریب ملک ہے اور حکام اس بڑے حادثے کا سامنا کرنے میں مشکلات سے دوچار نظر آتے ہیں
،تصویر کا کیپشناینڈریو نارتھ کا کہنا ہے نیپال ایک غریب ملک ہے اور حکام اس بڑے حادثے کا سامنا کرنے میں مشکلات سے دوچار نظر آتے ہیں

مرنے والوں میں اسرائیل، کینیڈا، بھارت، سلوواک اور پولینڈ کے باشندے شامل ہیں۔

بہت سے کوہ پیماؤں کو برف سے شدید زخم آئے ہیں اور خدشہ ہے کہ ان کے اعضا کاٹنے پڑیں گے۔

سنیچر کو بھی ہیلی کاپٹرز اناپورنا ٹریل کے گرد چکر کاٹ رہے تھے جہاں زیادہ تر اموات ہوئی ہیں۔

شدید بارش اور برف باری کی ایک وجہ ہمسایہ ملک سے ٹکرانے والا سمندری طوفان ہدہد بھی بتایا جا رہا ہے۔

یہ سمندری طوفان رواں ہفتے ہی بھارت کے جنوب مشرقی ساحل سے ٹکرانے کے بعد نیپال کی جانب آیا تھا اور اب اس کا رخ چین کی طرف ہے۔

حادثے کے چوتھے دن سنیچر کے روز بھی ہیلی کاپٹر سے لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنحادثے کے چوتھے دن سنیچر کے روز بھی ہیلی کاپٹر سے لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے

برفانی طوفان سطح سمندر سے 4,500 میٹر اوپر ایک ایسی جگہ آیا جہاں مہم جو آرام کیا کرتے ہیں۔

ایک زندہ بچ جانے والے کوہ پیما نے بی بی سی نیپالی سروس کو بتایا کہ اس نے برفانی طوفان کے بعد راستے میں کئی لاشیں پڑی دیکھیں۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ نیپال میں مہم جوئی اور کوہ پیمائی ایک بڑی صنعت ہے اور ہرسال ہزاروں لوگ یہاں آتنے ہیں تاہم اس واقعے سے ملک کی اس صنعت کو شدید دھچکا پہنچنے کا خدشہ ہے۔

بی بی سی کے اینڈریو نارتھ کا کہنا ہے نیپال ایک غریب ملک ہے اور حکام اس بڑے حادثے کا سامنا کرنے میں مشکلات سے دوچار نظر آتے ہیں۔