نیپال: 290 مہم جو بچا لیے گئے، درجنوں تاحال لاپتہ

نیپال

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنفوجی ہیلی کاپٹر امدادی ٹیموں کی مدد کر رہے ہیں اور رات گئے کم از کم نو افراد کو زندہ بچا لیا گیا تھا

جنوبی ایشیائی ملک نیپال میں ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے میں برفانی طوفان کے بعد اب بڑا امدادی آپریشن جاری ہے۔

حکام کے مطابق مہم جوئی کے لیے ملک کے مقبول ترین مقام پر منگل کو آنے والے شدید برفانی طوفان سے اب تک 19 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔

ہلاک شدگان میں نیپالی اور اسرائیلی اور پولینڈ کے مہم جو بھی شامل ہیں۔

امدادی ٹیموں نے جمعرات کی شام تک 290 مہم جوؤوں کو متاثرہ علاقے سے نکالا ہے جبکہ لاپتہ ہونے والے کم از کم 70 افراد کی تلاش ابھی جاری ہے۔

ہلاک شدگان کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کیونکہ بہت سے مہم جو افراد سے رابطہ نہیں ہو رہا ہے۔

لاپتہ ہونے والوں میں چار کینیڈین اور ایک بھارتی باشندہ بھی ہے۔

یہ تمام افراد برفانی طوفان کا نشانہ ہمالیہ کے اناپورنا سرکٹ میں بنے جہاں غیرمتوقع طور پر شدید ژالہ باری اور برفباری ہوئی۔ اس علاقے میں اس سے برا موسم اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔

شدید بارش اور برف باری کی ایک وجہ ہمسایہ ملک سے ٹکرانے والا سمندری طوفان ہدہد بھی بتایا جا رہا ہے۔

نیپال

،تصویر کا ذریعہREUTERS

،تصویر کا کیپشنیہ سال نیپال کی مہم جوؤی کی صنعت کے لیے اچھا نہیں رہا

یہ سمندری طوفان رواں ہفتے ہی بھارت کے جنوب مشرقی ساحل سے ٹکرانے کے بعد نیپال کی جانب آیا تھا اور اب اس کا رخ چین کی طرف ہے۔

برفانی طوفان سطح سمندر سے 4,500 میٹر اوپر ایک ایسی جگہ آیا جہاں مہم جو آ کے آرام کرتے تھے۔

حکام کے مطابق کیونکہ یہ ٹریکننگ کا پسندیدہ موسم جانا جاتا ہے اس لیے ان علاقوں میں کافی تعداد میں مہم جو ہو سکتے ہیں۔

نیپالی حکام کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ ہلاکتیں ضلع مستانگ کے اناپورنا سرکٹ میں ہوئیں اور ہلاک ہونے والے یہ مہم جو تھورنگ کے پہاڑی درے سے لوٹ رہے تھے کہ برفانی طوفان کی زد میں آ گئے۔

اس واقعے کی اطلاع ملتے ہی نیپال کی فوج نے امدادی کارروائیاں شروع کر دیں جسے ہیلی کاپٹروں کی مدد بھی حاصل ہے۔

ایک زندہ بچ جانے والے نے بی بی سی نیپالی سروس کو بتایا کہ اس نے برفانی طوفان کے بعد راستے میں کئی لاشیں پڑی دیکھیں۔

یہ ہلاکتیں نیپال میں دنیا کے سب سے اونچے پہاڑ ماؤنٹ ایورسٹ پر 16 شرپا گائیڈز کی ہلاکت کے چند ماہ بعد ہی ہوئی ہیں۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ نیپال میں مہم جوئی ایک بڑی صنعت ہے اور اس واقعے سے ملک کی معیشت کی مددگار اس صنعت کو شدید دھچکا پہنچنے کا خدشہ ہے۔