نیپال: ماؤنٹ ایورسٹ کی سکیورٹی میں اضافہ

حکام کے مطابق ایورسٹ کے بیس کیمپ میں فوج اور پولیس پر مشتمل دفتر رواں برس اپریل میں کھولا جائے گا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنحکام کے مطابق ایورسٹ کے بیس کیمپ میں فوج اور پولیس پر مشتمل دفتر رواں برس اپریل میں کھولا جائے گا

نیپال میں حکام کا کہنا ہے حکومت کوہ پیماؤں کے جھگڑوں سے بچنے کے لیے ماؤنٹ ایورسٹ کے بیس کیمپ میں سکیورٹی ٹیم تعنیات کرے گی۔

خیال رہے کہ گذشتہ سال اپریل میں یورپی کوہ پیماؤں اور قلیوں کے ایک گروپ کے درمیان جھگڑا ہوا تھا۔ اگرچہ اس جھگڑے کا تصفیہ ہو گیا تھا تاہم حکام کا کہنا ہے کہ ماؤنٹ ایورسٹ کی ڈھلوانوں میں بھیڑ بڑھتی جا رہی ہے۔

حکام کے مطابق ایورسٹ کے بیس کیمپ میں فوج اور پولیس پر مشتمل دفتر رواں برس اپریل میں کھولا جائے گا۔

نیپال کی وزارتِِ ثقافت کے ایک اہل کار دیپرندرا پاؤدل نے بی بی سی نیپالی سروس کے سریندرا پھوئل کو بتایا کہ یہ سکیورٹی ٹیم نو افراد پر مشتمل ہو گی جس میں نیپال کی فوج، پولیس اور مسلح پولیس کے تین تین اہل کار شامل ہوں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس سکیورٹی ٹیم کو نیپال کی وزارتِ ثقافت کے اہل کاروں کی بھی مدد حاصل ہو گی۔

نامہ نگاروں کے مطابق گذشتہ برس یورپی کوہ پیماؤں اور قلیوں کے درمیان ہونے والے جھگڑے کی وجہ سے وہاں کوہ پیماؤں کی سلامتی سے متعلق خدشات کا اظہار کیا گیا تھا۔

خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ نئے دفتر کے قیام سے کوہ پیماؤں کو اپنی شکایات، پہاڑی کی صفائی اور کوہ پیمائی کے قواعد و ضوابط پر عمل درآمد کرنے میں مدد ملے گی۔