بچے کو سزا کے طور پر’کتے کے پنجرے‘ میں بند کر دیا

بچے کے والدین کے مطابق کتے کو باہر نکال کر ان کے بیٹے کو پنجرے میں بند کر دیا گیا

،تصویر کا ذریعہPATHIRAPALLI

،تصویر کا کیپشنبچے کے والدین کے مطابق کتے کو باہر نکال کر ان کے بیٹے کو پنجرے میں بند کر دیا گیا

بھارتی ریاست کیرالا میں حکام ایک سکول میں مبینہ طور پر ایک پانچ سالہ بچے کو بطورِ سزا کتے کے پنجرے میں بند کرنے کی معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق سکول میں کلاس کے دوران ایک پانچ سالہ بچے کو دوسرے بچے سے بات کرنے پر سزا کے طور پر کتے کے پنجرے میں بند کر دیا گیا۔

پولیس نے سکول کے پرنسپل کو بھی گرفتار کیا لیکن بعد میں انھیں چھوڑ دیا گیا۔

سکول نے سزا دینے سے متعلق اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے انھیں ’سازش‘ قرار دیا۔

بچے کے والدین کے مطابق کتے کو باہر نکال کر ان کے بیٹے کو پنجرے میں بند کر دیا گیا۔ یہ سکول پرنسپل کے مکان کے احاطے میں قائم ہے اور اب اسے حکومت نے بند کر دیا ہے۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کو پیش آیا لیکن اس کے بارے میں پولیس کو منگل کو اس وقت آگاہ کیا گیا جب بچہ اس واقعے کے بارے میں اپنی بہن کو بتا رہا تھا۔

پیر کو والدین نے سکول کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا
،تصویر کا کیپشنپیر کو والدین نے سکول کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا

اس بچے کی بڑی بہن اسی سکول میں پڑھتی ہے اور اطلاعات کے مطابق وہ اپنے بھائی کو دی جانے والی سزا کی عینی شاہد ہے۔

پیر کو والدین نے اس واقعے کے خلاف سکول کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے سکول کے پرنسپل اور ٹیچر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

سماجی فلاح و بہبود کے وزیر ایم کے منیر کے مطابق اس نوعیت کے رویے کو بالکل نہیں برداشت کیا جائے گا۔

’بچوں کے حقوق کے کمیشن نے اس واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور میں نے حکام سے کہا ہے کہ وہ ہر ممکن اقدام کریں تاکہ ذمہ داران کو مثالی سزا دینے کو یقینی بنایا جا سکے۔‘

وزیر تعلیم پی کے عبدالرب کے مطابق ان کے محکمے نے سکول کے کام کرنے کے طریقۂ کار کے متعلق تحقیقات کے لیے ایک الگ کمیٹی بنا دی ہے۔

بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور سماجی کارکنوں نے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔