مودی کے خلاف سمن کی تکمیل کرانے والے کے لیے انعام

،تصویر کا ذریعہAFP
اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے آئے ہوئے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف گجرات فسادات کے سلسلے میں نیویارک کی ایک عدالت کی طرف سے جاری عدالتی سمن کی تکمیل کرانے والے کے لیے انسانی حقوق کی تنظیم نے انعام کا اعلان کیا ہے۔
نیو یارک سے صحافی سلیم رضوی کے مطابق امریکہ میں نیویارک کی ایک وفاقی عدالت نے مودی کے خلاف 2002 کے گجرات فسادات کے سلسلے میں سمن جاری کیا ہے۔
یہ مقدمہ امریکی ادارے امریکن سینٹر فار جسٹس اور گجرات فسادات کے دو متاثرین نے دائر کیا ہے اور اسی ادارے نے اب عدالتی سمن کو مودی تک پہنچانے کے لیے 10 ہزار امریکی ڈالر کا انعام رکھا ہے۔
لیکن وائٹ ہاؤس کے ایک افسر نے کہا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم کو بین الاقوامی قانون کے تحت کسی بھی امریکی عدالتی کارروائی سے سفارتی چھوٹ حاصل ہے۔
ان کے مطابق ’اقوام متحدہ میں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں حصہ لینے والے سفارت کاروں کو بھی نیو یارک میں سفارتی چھوٹ حاصل ہوتی ہے۔‘
نیویارک کی وفاقی عدالت نے مودی کو سمن مل جانے کی صورت میں 21 دن کے اندر اندر عدالت میں جواب داخل کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔
یاد رہے کہ گجرات میں 2002 میں ہوئے فسادات میں تقریباً ایک ہزار لوگ مارے گئے تھے جن میں سے زیادہ تر مسلمان تھے۔
سمن دینے کی کوشش
امریکن سینٹر فار جسٹس کی نظر اس بات پر لگی ہے کہ مودی جب نیو یارک میں گراؤنڈ زیرو، سنٹرل پارک یا میڈیسن سكوائر گارڈن میں مختلف پروگراموں کے لیے جائیں گے تو انہیں سمن دینے کی کوشش کی جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مودی کے خلاف دائر پٹیشن میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ گجرات میں 2002 میں ہوئے تشدد کو قتل عام کا نام دیا جائے۔
اس کے علاوہ اقتصادی معاوضہ اور قصورواروں کے خلاف کارروائی کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔
امریکن سینٹر فار جسٹس کے ساتھ اس معاملے میں ایک وکیل سلمان یونس کہتے ہیں ’نیو یارک میں قانون ہے کہ اگر 10 یا 15 فٹ کے فاصلے سے بھی کسی کے پاس سمن دے دیے جائیں تو اس کو سمن کی تکمیل سمجھا جاتا ہے۔‘







