وائی فائی سے لیس گجرات کا ماڈل گاؤں

- مصنف, زبیر احمد
- عہدہ, بی بی سی نیوز، دہلی
گجرات ماڈل کے متعلق تو بحث ابھی بھی جاری ہے کہ یہ ماڈل آخر کیا ہے۔ بہر حال احمد آباد سے کچھ ہی فاصلے پر واقع ایک گاؤں ماڈل ولیج کے طور پر سامنے آیا ہے۔
اسے ماڈل ولیج بنانے کا کام نریندر مودی کی وزارتِ اعلی کے دور میں ہی شروع ہوا تھا۔
بھارت کے کسی گاؤں کا تصور ایک عام ذہن میں کچھ اس طرح ابھرتا ہے: کچے مکانات، تنگ و تاریک گلیاں، بہتی نالیاں، پانی اور بجلی کی عدم موجودگی۔
اس تصویر کے برعکس یہاں بجلی، صاف پینے کا پانی اور پانی کی نکاسی کا پورا انتظام ہے۔ گاؤں کے پرائمری سکول میں کمپیوٹر اور پورے گاؤں میں وائی فائی موجود ہے۔
یہ ہےگجرات کا پنساري گاؤں جہاں شہر کی تمام سہولیات مموجود ہیں اور یہ ملک کا پہلا ایسا گاؤں ہے جو احمد آباد سے 90 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور ماڈل ولیج (نمونے کاگاؤں) کہا جا رہا ہے۔
اس گاؤں کے سرپنچ ہمانشو پٹیل کہتے ہیں 6،000 کی آبادی والے ان کے گاؤں کے ہر گھر میں بجلی اور پانی کی سہولت ہے۔ یہاں پانی کی نکاسی کا بھی نظام ہے۔

،تصویر کا ذریعہPUNSARI PANCHAYAT
پینے کے لیے منرل واٹر (پانی) کا بھی علیحدہ انتظام ہے۔
پٹیل کہتے ہیں: ’پورے گاؤں میں وائی فائی کنکشن ہے، جگہ جگہ سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گاؤں کی سرگرمیوں کو ہمانشو اپنے دفتر کے ایک بڑے سکرین پر بھی دیکھ سکتے ہیں اور اپنے سمارٹ فون کی سکرین پر بھی۔
یہاں لاؤڈسپيكرز بھی لگے ہیں۔ مجھ سے پہلے گاؤں کی سہولیات کا جائزہ لینے تمل ناڈو کے چیف سیکریٹری بھی آئے تھے اور پٹیل نے اپنے دفتر میں بیٹھ کر ان کی باتیں نشر کی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہPUNSARI PANCHAYAT
پورے گاؤں میں مجموعی طور پر 150 لاؤڈسپيكرز لگے ہیں، ان سے سرپنچ کا اعلان لوگوں تک پہنچانے میں مدد ملتی ہے۔
سمارٹ ولیج کے سرپنچ پٹیل بھی سمارٹ ہیں۔ ان کے پاس سمارٹ فون ہے، جس کے سکرین پر گاؤں کی سہولیات کی اطلاع سے متعلق ایپلیکیشنز ہیں۔
اسے ماڈل ولیج اس لیے بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں کے دو پرائمری سکول بھی سمارٹ سکول ہیں۔ ہمانشو اپنے دفتر کے اندر ایک بڑے سکرین پر ان سرکاری سکولوں کو بھی مانیٹر کر رہے تھے۔
اس کے بعد فخریہ انداز میں وہ اس سکول کی لائیو تصاویر اپنے فون کی سکرین پر دکھانے لگے۔

،تصویر کا ذریعہPUNSARI PANCHAYAT
سکول کی پرنسپل بھگوت بہن پٹیل بتاتی ہیں کہ یہ سمارٹ سکول اس لیے ہے کیونکہ ’یہاں کوئی طالب علم درمیان میں پڑھائی نہیں چھوڑتا اور یہاں امتحانات کے نتائج سب سے اچھے ہوتے ہیں۔
’یہ سمارٹ سکول اس لیے بھی ہے کیونکہ یہاں چھوٹے بچوں کو بھی کمپیوٹر ٹریننگ دی جاتی ہے۔‘
ایک بچے نے مجھے اس کا استعمال کرکے یہ بتانے کی کوشش کی کہ کمپیوٹر کے استعمال میں وہ ماہر ہے۔

،تصویر کا ذریعہPUNSARI PANCHAYAT
اس لڑکے کی کلاس میں 15 طالب علم تھے اور کمپیوٹر کی تعداد بھی تقریبا اتنی ہی تھی۔ ایسا میں نے کسی گاؤں کے سکول میں پہلے کبھی نہیں دیکھا۔
سرپنچ کہتے ہیں: ’سنہ 2006 میں اس وقت کے وزیر اعلی اور اب ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی کے دور اقتدار میں اس گاؤں کو سمارٹ ولیج بنانے کا کام شروع ہوا تھا۔‘

اب تک اسے سمارٹ بنانے میں کتنے پیسے خرچ کیے گئے ہیں؟ اس کے جواب میں ہمانشو کہتے ہیں کہ ’سنہ 2006 سے 2012 تک کے تمام منصوبوں میں 14 کروڑ روپے خرچ ہوئے اور یہ تمام پیسے ریاست اور مرکزی حکومتوں کے دیہی منصوبوں سے آئے۔‘
اس گاؤں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ سرکاری سکیموں کے صحیح استعمال سے ملک کے دوسرے گاؤں بھی ترقی کر سکتے ہیں اور نمونے کے سمارٹ گاؤں بن سکتے ہیں۔
اس گاؤں کے قیام کا مقصد گاؤں میں ہی روزگار فراہم کرنا بھی ہے اور اس سلسلے میں کئی خانوادے اس گاؤں میں واپس آگئے ہیں۔







