بھارت کا پڑوسی ملک ’اسلامک اسلام آباد‘

،تصویر کا ذریعہGetty
بھارتی ریاست گجرات کے نصابی کتب کے بورڈ نے انگلش میڈیم سکولوں میں پڑھائی جانے والی اس کتاب کو واپس لینے سے انکار کر دیا ہے جس میں بچوں کو پڑھایا جاتا ہے کہ 1947 میں ہونے والے بٹوارے کے بعد بننے والے ملک کا نام ’اسلامک اسلام آباد‘ ہے اور اس کا دارالحکومت ’خیبر گھات‘ ہے۔
گجرات کے انگلش میڈیم سکولوں میں معاشرتی علوم کی جو کتاب پڑھائی جاتی ہے اس میں لکھا ہے کہ دوسری جنگ عظیم میں جاپان نے امریکہ پر ایٹم بم گرائے اور جنوبی بھارت میں بسنے والے تمام لوگ مدراسی کہلاتے ہیں۔
بھارت کے موقر اخبار دی ہندو کی ایک رپورٹ کے مطابق گجرات سٹیٹ بورڈ فار سکول ٹیکسٹ نے اس کتاب کو واپس لینے سے انکار کر دیا ہے۔ گجرات سکول ٹیکسٹ بورڈ کے اہلکار نے اخبار کو بتایا کہ انھوں نے دو رکنی کمیٹی قائم کر دی ہے جس کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد انٹرنیٹ پر اس کتاب کا اغلاط نامہ جاری کر دیا جائے گا۔
گجرات سٹیٹ بورڈ فار سکول ٹیکسٹ کے ایک اہلکار نے دی ہندو کو بتایا: ’ان نصابی کتابوں کو واپس لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ان کتابوں میں کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے، صرف ترجمے کے غلطیاں ہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ چلڈرن یونیورسٹی کے وائس چانسلر ہرشد شاہ اور بابا صاحب ایمبیدکر یونیورسٹی کے وائس چانسلر منوج سونی پر مشتمل کمیٹی ان کتابوں کا معائنہ کرے گی اور اس کمیٹی کے رپورٹ کو انٹرنیٹ پر جاری کر دیا جائےگا۔
گجرات بورڈ کی آٹھویں کلاس کی کتاب میں مہاتما گاندھی کی تاریخ وفات غلط ہے۔ اتنا ہی نہیں دادا بھائی نوروجی، سریندرناتھ بینرجی اور گوپال کرشن گوکھلے کو کتاب میں کانگریس کا ’ایکسٹریمسٹ‘ یعنی انتہا پسند رکن بتایاگیا ہے، جبکہ آزادی کی لڑائی میں حصہ لینے والے ان لیڈروں کو ہمیشہ اعتدال پسند سمجھا جاتا رہا ہے۔
اس کتاب کے مطابق ’ہوم رول‘ تحریکِ آزادی کے بعد 1961 میں شروع ہوا تھا جبکہ یہ تحریک بھارت کی آزادی سے بہت پہلے 1916 میں شروع ہوئی تھی۔

اسی کتاب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی تنظیم یونیسکو کا مکمل نام ’یونائیٹڈ نیشنز ایجوکیشنل سوسائٹی اینڈ چلڈرن آرگنائزیشن ہے‘ جبکہ یہ چلڈرن نہیں کلچرل آرگنائزیشن ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گجرات حکومت پر سکول کی کتابوں کے ذریعے سیاست اور فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے کے الزام بھی لگے ہیں۔
تاہم، مودی حکومت کو جھٹکا تب لگا جب نیشنل یونیورسٹی آف ایجوکیشن پلاننگ اینڈ ایڈمنسٹریشن کی دسمبر 2013 کی رپورٹ میں گجرات کو ملک میں پرائمری اور اپر پرائمری لیول تعلیم میں 28 ویں اور آٹھویں نمبر پر رکھا گیا۔
گجرات کے محکمۂ تعلیم کی کتابوں میں لاپروائی کی اور بھی کئی مثالیں منظر عام پر آئیں ہیں۔







