امریکہ میں نریندر مودی کے خلاف سمن جاری

نریندر مودی

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنبھارت کے وزیر اعظم جمعے کو امریکہ پہنچ رہے ہیں

امریکہ میں نیویارک کی ایک وفاقی عدالت نے بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف 2002 کے گجرات فسادات کے سلسلے میں سمن جاری کیا ہے۔

گجرات میں 2002 میں ہونے والے فسادات میں تقریباً ایک ہزار سے زائد لوگ مارے گئے تھے جن میں سے زیادہ تر مسلمان تھے۔

یہ مقدمہ امریکی ادارے امریکن سینٹر فار جسٹس (اے جے سی) اور گجرات فسادات کے دو متاثرین نے دائر کیا ہے۔ سینٹر کے مطابق درخواست فسادات میں نریندر مودی کی مبینہ کردار کے سلسلے میں ہے۔

بھارت کے وزیر اعظم جمعے کو امریکہ پہنچ رہے ہیں۔

امریکہ میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار برجیش اپادھیائے کا کہنا ہے کہ اے جے سي نامی ادارے کے بارے میں بھی زیادہ لوگ نہیں جانتے ہیں، لیکن ایسے سمن سے مودی کو کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔

نامہ نگار کے مطابق پہلے بھی ایسا ہوا ہے کہ اس وقت کے وزیر اعظم من موہن سنگھ یا کانگریس صدر سونیا گاندھی کے خلاف کسی امریکی عدالت نے کسی انسانی حقوق کی تنظیم کی درخواست پر سمن جاری کیے ہوں۔

ہمارے نمائندے کا کہنا ہے کہ نریندر مودی وزیر اعظم کے طور پر امریکہ آ رہے ہیں اور انھیں سفارتی استثنٰی حاصل ہے، یعنی وہ مقامی قانون کے دائرے سے باہر ہیں۔

مودی کے خلاف دائر پٹیشن 28 صفحات پر مشتمِل ایک شکایت ہے جس میں معاوضے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اے جے سي کے ڈائریکٹر ڈاکٹر بریڈلي نے ایک بیان میں کہا: ’وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف یہ معاملہ انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزی کے خلاف ایک صاف پیغام ہے۔‘