بھارت: ماؤنواز باغیوں کی املاک ضبط کرنے کا حکم

،تصویر کا ذریعہAlok Putul
بھارت کی وسطی ریاست چھتیس گڑھ کی ایک عدالت نے ایک اپیل کی سماعت کرتے ہوئے 25 ماؤنوازوں باغیوں کی املاک کو ضبط کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔
ان تمام ماؤنواز افراد پر ریاست کے ضلع بستر میں حملہ کر کے کانگریس رہنماؤں سمیت 32 افراد کے قتل کا الزام ہے۔
جن ماؤنواز باغیوں کی املاک ضبط کرنے کا حکم صادر کیا گیا ہے ان میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ماؤنواز) کے سیکرٹری جنرل موپلّا لکشمن راؤ عرف گنپتی بھی شامل ہیں۔
واضح رہے کہ گذشتہ سال سنہ 2013 میں 25 مئی کو بستر کی جھيرم وادی میں ایک ماؤنواز حملے میں 32 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
اس حملے میں سابق مرکزی وزیر ودیا چرن شکل، کانگریس کے ریاستی صدر نندكمار پٹیل اور قبائلی رہنما مہندر کرما کی موت ہو گئی تھی۔
اس حملے اور ان میں ہونے والی ہلاکتوں کی جانچ کی ذمہ داری تفتیشی ادارے این آئی اے کو سونپی گئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہMUSTAFA QURESHI
این آئی اے کی ٹیم نے اپنی جانچ کے بعد اس واقعے میں مجموعی طور پر 34 ماؤنوازوں کو ملزم ٹھہرایا تھا۔
ان ملزمان میں سے نو لوگوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ باقی ماندہ لوگوں کی اب تک گرفتاری نہیں ہو سکی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جب ایک سال کی مدت کے دوران جانچ میں نامزد ملزمان کی گرفتاری نہ ہو سکی تو این آئی اے نے بلاس پور میں ضلعی اور سیشن جج کی خصوصی عدالت میں مفرور افراد کی املاک کو قرق کرنے کی اپیل کی۔
اپیل کی سماعت کرتے ہوئے عدالت نے این آئی اے کو ان افراد کی املاک کو ضبط کرنے کی اجازت دی ہے۔
واضح رہے کہ بھارت کی وسطی اور مشرقی ریاستوں میں ماؤنواز باغی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں۔
بی بی سی کے سلمان راوی کا کہنا ہے کہ بستر میں ہی کئی ایسے علاقے ہیں جہاں بھارتی سکیورٹی اہلکار اپنے کیمپوں میں قیدیوں کی طرح رہ رہے ہیں اور ان کیمپوں میں ان تک راشن پہنچانا بذات خود کسی جنگی مہم سے کم نہیں۔







