سوئمنگ پول: داخلے کے لیے گھنٹوں درکار

،تصویر کا ذریعہ

دہلی میں آج کل گرمی اپنے عروج پر ہے۔ درجہ حرات چالیسں ڈگری سینٹی گریڈ تک جاپہنچا ہے۔ جہاں گرمی زور دکھا رہی ہے، تو وہیں رہا ئشیوں کی کوشش ہے کہ گرمی کی شدت کا کوئی توڑ نکالا جائے تاکہ شدت کو کچھ کم کیا جاسکے۔

گرمی کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک بڑا ذریعہ سوئمنگ پولز بھی ہیں مگرگرم موسم کے باعث سوئمنگ پولز تک رسائی تک بھی ایک ایسا کار دارد ہے، جس کے لیے بہت زیادہ حوصلہ اور وقت درکار ہے۔

دہلی کی ایک رہائشی کہتی ہیں کہ اگر آپ کو گرمی کا اندازہ لگانا ہو تو اس سے لگا لیجئے کہ ایک بہت بڑی شمع کو صحن میں رکھ دیجئے تو وہ کچھ ہی دیر میں پگھل کر میں پانی میں تبدیل ہوجاتی ہے، پانی کے نل کھولیے تو گرم سنسناتا ہوا پانی گرمی کا احساس اور بڑھا دیتا ہے اس پر مزید ستم یہ کہ گرم موسم سے خود کو بچانے کے لیے سہولتیں بہت ہی محدود۔

ایک سرکاری سپورٹس کمپلیکس میں سوئمنگ پول کی رکنیت حاصل کرنے کے لیے ان خاتون رہائشی پر کیاگزری انھوں نے اس کا احوال بیان کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یوں تو سوئمنگ پول کی تین مہینے کا فیس بس اسی قدر ہے کہ دہلی کے کسی ا چھے ریسٹورانٹ میں ایک وقت کا کھانا کھا لیـجئے۔ مگر رکنیت ملنا کسی اولمپک مقابلے میں شرکت کی اجازت ملنےسے کم نہیں۔ اس کے لیے آپ میں اتنی ہمت ہونی چاہیے کہ آپ رکنیت کے سینکڑوں خواہش مندوں کا مقابلہ کرسکیں۔

خاتون کے مطابق میں اور میرے شوہر انتہائی صبح ہی سوئیمنگ پول کی راہ پکڑی، یہ سوچ کر کہ ہم وہاں پہلے پہنچنے والوں میں سے ہونگے، مگر پتہ چلا کہ لوگ تو وہاں رات دس بجے سے ڈیرے جمائے بٹیھے تھے۔

سوئمنگ پول کے باہر عجب نظارہ تھا سپورٹس کمپلیکس کا صدر دروازہ بند تھا، سینکڑوں لوگ وہاں جمع تھے، اندر داخل ہونے والوں کی کوئی قطار نہیں تھی کہ وہ تو خیر ویسے بھی انڈیا میں کم کم ہی نظر آتی ہے۔

سیکورٹی گارڈرز اور تیراکی کے لیے آنے والوں کے درمیان ہاتھا پائی کی نوبت تھی۔تیراکی کے لیے آنے والے زبردستی اپنے انپے نام اس فہرست میں شامل کرانے کا کوشش کررہے تھے جن لوگوں کو رکنیت حاصل کرنے کے لیے اندر داخل ہونا تھا ۔

رکنیت کے انچارج کوئی ریٹائرڈ کرنل صاحب تھے، مگر کوئی ان کی آواز کوئی نہیں سن رہا تھا۔ بہر حال کئی گھنٹے کی جدو جہد کے بعد جب کمپلیکس کی انتظامیہ کو یہ اندازہ ہونے لگا کہ یہاں بلوہ ہوسکتا ہے اور صورتحال بے قابو ہو سکتی ہے تو انھوں نے گیٹ کھول کر سب لوگوں کو اندر باسکٹ بال کورٹ میں جمع ہونے کی اجازی دیدی۔

خاتوں کہتی ہیں کہ یہ سب جان کر آپ کے ذہن میں ایک بڑا سوال یہ ہوگا کہ محض ایک سوئمنگ پول کی محض رکنیت اور داخلے کے لیے اس قدر ہنگامہ، تو صاحب مسئلہ یہ ہےکہ انڈیا ایک گنجان آباد ملک ہے، اقوام متحدہ کے مطابق صرف دہلی کی آبادی ڈ ھائی کڑوڑ کے لگ بھگ ہے۔

۔اور پھر جس کے ہاتھ لمبے یعنی جن کے تعلقات زیادہ ہوتے ہیں وہ سب پر بازی لےجاتے ہیں۔

بہرحال سات گھنٹے کی طویل جدو جہد اور پسینوں میں نہانے کے بعد رکنیت کا فارم ملا، وہ بھی اس لیے کہ ہم بھی کسی نہ کسی طرح کوئی سو لوگوں کو پیچے چھوڑنے میں کامیاب ہوگئے۔ کچھ دنوں بعد ہمارا کار ڈ بن کر آیا، ہم نے فوراً سوئمنگ پول کی راہ پکڑی یہ سوچ کی کہ آج ہم سوئمنگ پول میں داخل ہوکرگرمی کو ہرانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

خاتون کہتی ہیں کہ گرمی کی شدت میں سوئمنگ پول کے ٹھنڈے ٹھنڈے پانی کا تصور ہی طبعیت کو ہشاش بشاش بنا رہا تھا، مگر یہ کیا، ہم جو سپورٹس کمپلکس کے دروازے پر پہنچے تو وہاں ایک بڑا سا بینر آویزاں تھا کہ سوئمنگ پول ہر روز صبح دس بجے سے تین بجے تک بند رہتا ہے، غالبا یہاں کے مستقل ممبران اور اشرافیہ کے لیے۔