حامد کرزئی کا دور: امید سے الزام تراشیوں تک

- مصنف, لزڈوسٹ
- عہدہ, بی بی سی نیوز
یہ پانچ دسمبر 2001 کا ایک دن تھا جب جرمنی کے شہر بون میں اقوام متحدہ کی کانفرنس میں افغان مندوبین نے حامد کرزئی کو افغانستان کا عبوری رہنما بنانے پر رضامندی کا اظہار کیا تھا۔ جب میں نے یہ خبر بی بی سی ورلڈ پر سنی تو حامد کرزئی سے ردعمل لینے کے لیے فوراً سیٹلائٹ فون کی طرف لپکی۔
جب میرا حامد کرزئی سےرابطہ ہوا تو انھیں نہیں معلوم تھا کہ انھیں عبوری رہنما چن لیاگیا ہے۔ میں نے کہا کہ آپ کا افغانستان کا رہنما بننے پر کیا ردعمل ہے تو انھوں نے سوالیہ انداز میں کہا:’ کیا میں نیا رہنما ہوں؟
جب میں نے حامد کرزئی کو بتایا کہ انھیں افغانستان کا نیا رہمنا چنے جانے کی خبر بی بی سی پر سنی ہے، تو انھوں کہا:’ یہ تو بہت اچھا ہے‘

حامد کرزئی کا تیرہ سالہ دور اب اختتام کے قریب ہے۔
میں اس دور میں حامد کرزئی سے کئی بار ملی اور ان کے دور کے اختتام پر ان سے ایک اور ملاقات کی۔
میں نےصدراتی محل میں بیٹھے حامد کرزئی سے پوچھا کہ کیا انھیں وہ دن یاد ہے جب میں نے انھیں افغان رہمنا چنے جانے کی خبر سنائی تھی؟
وہ یاد کرتے ہیں جب رات چار بجے اس محل میں پہنچے تو یہاں نہ بجلی تھی اور نہ ہیٹنگ۔
پانچ دسمبر 2001 میں حامد کرزئی نے بتایا تھا کہ میری پہلی ترجیح افغانوں کو امن مہیا کرنا ہے۔ انھوں نے کہا تھا کہ وہ چاہیں گے کہ افغانستان میں معاشی مواقعے پیدا ہوں اور ملک قانون کا بول بالا ہو۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دسمبر 2001 میں سوویت فوجوں کے خلاف صف آرا مجاہدین کے ترجمان حامد کرزئی افغانستان کے لیے ایک امید تھے لیکن تیرہ برس بعد ایک پرامید سیاستدان مغربی اتحادیوں کے خلاف الزام تراشیوں پر کیوں اتر آیا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ افغانستان آج ایک مختلف ملک ہے۔ لیکن آج بھی افغانستان میں امن نہیں ہے۔ دسمبر 2001 میں لوگوں نے طالبان کی ایک ظالمانہ حکومت کے خاتمے پر سکھ کا سانس لیا تھا۔ اب تیرہ برس جب غیر ملکی افواج افغانستان سے جانے کی تیاری کر رہی ہیں، لوگوں کو اب بھی طالبان کی واپسی کا ڈر ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
وہ ایک پرامید سیاستدان سے ایک الزام تراش میں کیسے بدلے، یہ جاننے کے لیے میں حامد کرزئی سے پوچھا: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آپ نے افغان عوام کو مایوس کیا ہے؟
حامد کرزئی کہتے ہیں افغانستان تیرہ سال پہلے سے ایک بہتر ملک ہے لیکن ہمارے مسائل اب بھی ہیں۔ ’افغانستان آج بھی دنیا کا غریب ترین ملک ہے۔ بطور قوم ہمارے سامنے ایک لمبا سفر ہے۔‘
لیکن چھپن سالہ حامد کرزئی مایوسی کا بھی اظہار کرتے ہیں۔’لوگ 2014 کو افغانستان کےلیے تباہی کا سال قرار دے رہے تھے۔ لیکن وہ غلط تھے ہم آگے بڑھ رہے ہیں۔اگر ہم افغانوں کو تنہا چھوڑ دیں تو کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔ لیکن اگر خطے کے لیے کوئی عالمی شازش ہو تو پھر ہم بھی یقیناً اس سے متاثر ہوں گے۔‘
میں تیرہ برسوں میں حامد کرزئی سے ملتی رہی ہوں۔ اس دوران میں نے محسوس کیا کہ یورپی اتحادیوں کے بارے میں ان کی زبان تبدیل ہوئی ہے۔ تیرہ برسوں میں یورپی اتحادی ’دوست سے دغا باز‘ میں تبدیل ہو چکے ہیں۔
حامد کرزئی کہتے ہیں: ’ غیر ملکی افواج نے نہ افغانستان کو استحکام دیا ہے اور نہ دیں گے۔‘ وہ کہتے ہیں ہمیں عالمی مدد کی ضرورت ہے لیکن صرف وہاں جہاں اپنے ذرائع سے پورا نہیں کر سکتے۔‘
جب دہشتگردی کے خلاف جنگ کی بات آتی ہے تو وہ پھر پرانی بات دہرانا شروع کر دیتے ہیں: ’یہ جنگ اصلی اور سچی ہونی چاہیے۔ دہشتگردی کی جنگ افغان گاؤں اور دیہاتوں میں نہیں ہے۔ اگر اس جنگ کو ختم کرنا ہے تو افغانستان کے سرحدوں کے باہر محفوظ پناہ گاہوں تک جانا ہوگا اور دہشگردوں کو باہر سے ملنے والی امداد کو بھی روکنا ہو گا۔‘
حامد کرزئی جب سے اقتدار میں آئے ہیں کہ وہ اس نقطہ نظر کا اظہار کر رہے ہیں کہ دہشتگردی کی جنگ کو صرف افغانستان تک محدود رکھ کر یہ جنگ جیتنا ممکن نہیں ہے۔
سارے شواہد یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اس مسئلے کا حل پاکستان میں طالبان کی محفوظ پناہ گاہوں میں پنہاں ہے۔
جب میں نے حامد کرزئی کو بتایا کہ ان کے مغربی اتحادی ان کے الزامات پر نہ صرف حیران ہوتے ہیں بلکہ پریشان بھی ہے۔ حامد کرزئی جواباً کہتے ہیں: ’میں تو نتائج دیکھتا ہوں۔ یہ خطہ پہلے سےزیادہ عدم استحکام کا شکار ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ مغرب مجھے غلط ثابت کرنے کے لیے اچھا کام کرے۔ نیت کا مسئلہ مختلف ہے۔ وہ ہم سے چھپا ہوا ہے۔‘
دو ہزار نو میں امریکی اہلکاروں کی طرف سے حامد کرزئی کو اقتدار سے علیحدہ کرنے کی کوشش نے حامد کرزئی کو امریکہ سے سخت بدظن کیا ۔انھوں نے گزشہ برس مجھے کہا تھا کہ جو ملک جمہوریت کو پروان چڑھانے کی بات کرے اسے جمہوریت کو تباہ کرنے کی کوششیں زیب نہیں دیتیں۔‘
حالیہ ایام میں حامد کرزئی نے نیٹو حملوں میں مارے جانے والے افغان شہریوں پر بہت شور مچایا ہے، لیکن ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ طالبان کے حملوں میں مرنے والوں کی بات نہیں کرتے۔
جب طالبان کی بات آتی ہے تو حامد کرزئی یہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ طالبان کے بہیمانہ حملے امن کو کوششوں کو رد کرتے ہیں۔
افغان طالبان کا موقف ہے کہ وہ کسی امریکی کٹھ پتلی سے مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہیں۔ لیکن حامد کرزئی کہتے ہیں: ’افغان طالبان مجھ سے ہر روز رابطہ کرتے ہیں۔ کبھی خط کے ذریعے، کبھی ملاقات کے ذریعے اور وہ امن کی خواہش رکھتے ہیں۔‘ حامد کرزئی امن مذاکرات کی ناکامی کا الزام امریکہ اور پاکستان پر عائد کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
جب میں نے افغانستان میں کرپشن کے حوالے سے بات چھیڑی تو حامد کرزئی نے مجھے ٹوکا اور کہا ’رکو، مجھے بتاؤ ان ٹھیکیداروں کو کون لے کے آیا ہے۔ افغانستان کی حکومت تو ان کو ٹھیکے نہیں دیتی ہے، امریکہ ٹھیکے دیتا ہے۔ٹھیکیداروں اور ان کے ٹھیکیداروں کو اربوں ڈالر کون دیتا ہے؟
افغان صدر کہتے ہیں: ’میں حکومتی سطح پر چھوٹے پیمانے پر ہونے والی کرپشن کی ذمہ داری تو لے سکتا ہوں، لیکن بڑے ٹھیکوں پر ہمارا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔
حامد کرزئی کہتے ہیں کہ افغانستان میں ہر ایک کے لیے بشمول جنگجو سرداروں کے لیے جگہ ہے۔ حامد کرزئی نے اپنے دور میں افغانستان میں سیاسی جماعتوں کی تنظیم کی اجازت نہیں دی ۔
حامد کرزئی نے ہمیشہ خود کو ’بابائےافغانستان ‘بنانے کی کوشش کی۔ وہ ہمیشہ کہتے تھے کہ افغان قوم میں کوئی حزب مخالف نہیں ہے۔
لیکن حامد کرزئی کو جن مسائل کا سامنا رہا ہے وہ بھی حقیقی ہیں۔ حامد کرزئی کی فوجی قوت ان جنگجو سرداروں سے کم تھی۔ غیر ملکی افواج نےافغان صدر کی منظوری اور اطلاعات کے بغیر آپریشن کیے اور شہروں میں اپنے طور پر عطیات تقسیم کیے۔
افغانستان میں ایک امریکی کمانڈر نے مجھے ایک بار بتایا تھا کہ جب وہ ایک بار افغان صدر کو قندھار میں ایک آپریشن سے متعلق پیشگی اطلاع دینے گئے، تو انھوں نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ انھیں آپریشن شروع ہونے سے پہلے بتایا جا رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
حامد کرزئی جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے اپنے دور اقتدار میں کبھی چھٹیاں نہیں گزاریاں، کہتے ہیں کہ وہ تھوڑے عرصے چھٹیاں گزارنے کے بعد دوسرے منصوبوں پر کام شروع کریں گے۔ وہ کتاب لکھنے کا بھی پروگرام رکھتے ہیں۔







