کرزئی نے معاہدے پر دستخط نہ کیے تو تمام فوج نکال لیں گے: اوباما

امریکی صدر نے پیٹاگون کو افغانستان سے مکمل انخلا کی منصوبہ بندی کے احکامات جاری کیے ہیں

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنامریکی صدر نے پیٹاگون کو افغانستان سے مکمل انخلا کی منصوبہ بندی کے احکامات جاری کیے ہیں

امریکی صدر باراک اوباما نے افغان صدر حامد کرزئی کو خبردار کیا ہے کہ امریکہ اس سال کے آخر تک افغانستان سے اپنی تمام فوجیں نکال لے گا۔

صدر اوباما نے افغان صدر کو یہ پیغام ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے دیا ہے۔

یاد رہے کہ صدر حامد کرزئی امریکہ کے ساتھ نیٹو افواج کے انخلا کے بعد کے لیے دو طرفہ سکیورٹی معاہدہ کرنے سے انکار کر چکے ہیں۔

امریکہ کا اصرار ہے کہ جب تک مذکورہ سکیورٹی معاہدہ نہیں ہو جاتا اس وقت تک امریکہ یہ ضمانت نہیں دے سکتا کہ وہ انخلا کے بعد بھی اپنے کچھ فوجی افغانستان میں چھوڑ جائے گا جو سکیورٹی اور افغان فوجیوں کی تربیت کا کام سنبھالے رکھیں گے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ دو طرفہ سکیورٹی کے معاہدے (بی ایس اے) پر امریکہ اور صدر کرزئی کے مابین اختلافات واشنگٹن اور اس کے دیرینہ اتحادی صدر کرزئی کے درمیان مسلسل بگڑتے ہوئے تعلقات کے عکاس ہیں۔

دونوں صدور کے درمیان ہونے والی گفتگو کے حوالے سے وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر باراک اوباما نے افغان صدر حامد کرزئی کو بتایا ہے کہ چونکہ وہ دو طرفہ سکیورٹی معاہدے پر دستخط کرنے سے انکاری ہیں اس لیے امریکہ نے 2014 کے اختتام تک اپنی تمام افواج کو افغانستان سے نکالنے کی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے۔

امریکی صدر نے پینٹاگون کو ہدایت کی ہے کہ وہ افغانستان کے ساتھ سکیورٹی معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں 2014 کے اختتام تک تمام امریکی افواج کےافغانستان سے انخلا کی منصوبہ بندی کرے۔

صدر حامد کرزئی کہہ چکے ہیں کہ وہ اپنے دور صدارت میں دو طرفہ سکیورٹی معاہدے پر دستخط نہیں کریں۔ صدر حامد کرزئی کا اقتدار جولائی میں ختم ہو جائے اور وہ افغانستان کے آئین کی رو سے تیسری بار انتخابات میں حصہ لینے کے اہل نہیں ہیں۔

افغان صدر حامد کرزئی دو طرفہ سکیورٹی معاہدے پر دستخط کرنے سے انکاری ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنافغان صدر حامد کرزئی دو طرفہ سکیورٹی معاہدے پر دستخط کرنے سے انکاری ہیں

افغانستان کے کئی صدارتی امیدوار واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ وہ صدر بننے کی صورت میں امریکہ کے ساتھ دو طرفہ سکیورٹی معاہدے پر دستخط کریں گے۔

تجزیہ کارروں کا خیال ہے کہ حامد کرزئی کی طرف سے دو طرفہ سکیورٹی معاہدے پر دستخط نہ کرنے کی صورت میں افغانستان کی افواج انتہائی کمزور ہو جائیں گی۔

افغانستان کی فوج کے سربراہ ماضی میں کہہ چکے ہیں کہ اگر بیرونی دنیا سے ملنے والے امداد بند ہوگئی تو افغانستان کی افواج کو اپنی موجودہ حالت میں برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔

امریکہ اور اس کے اتحادی افغانستان کو سالانہ پانچ ارب ڈالر کی امداد دیتے ہیں جس سے افغان فوج اور پولیس کو تنخواہیں دی جاتی ہیں۔ امریکہ کے ساتھ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں یہ امداد بند ہو سکتی ہےجس سے افغانستان کو افواج برقرار رکھنے میں مشکل پیش آئے گی۔

افغان لویا جرگے نے گذشتہ برس امریکہ سے معاہدے کی منظوری دے دی تھی تاہم صدر کرزئی نے اس معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ ایساف افواج نے سنہ 2013 میں پورے افغانستان کی سکیورٹی افعان فوج کے حوالے کر دی تھی تاہم اب بھی وہاں 97 ہزار غیر ملکی فوجی موجود ہیں جن میں سے 68 ہزار فوجی امریکی ہیں۔