کیا یہ ہندو جمہوریہ ہے ؟

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، دہلی
بھارت میں تیس برس بعد پہلی بار کسی جماعت نے حکومت سازی کے لیے تن تنہا اکثریت حاصل کی ہے ۔ نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی نے اپنی تاریخ کی سب سے بڑی جیت رقم کی ہے اور اب مودی ملک کے نئے وزیر اعظم ہوں گے ۔
وزیراعظم منموہن سنگھ اپنے عہدے سے مستعفی ہو چکے ہیں اور صدر مملکت اب موجودہ پارلیمنٹ کسی بھی وقت تحلیل کر سکتے ہیں۔
الیکشن کمیشن کی طرف سے منتخب ارکانِ پارلیمان کی فہرست صدر مملکت کے پاس پہنچنے کے بعد ان کی طرف سے نریندر مودی کو حکومت سازی کی دعوت دی جائے گی۔
بی جے پی نے یہ غیر معمولی فتح ملک گیر سطح پر حاصل کی ہے ۔ انھیں پہلی بار ملک کے ان علاقوں میں کامیابی حاصل ہوئی ہے جہاں اسے پہلے انھیں رسائی نہیں مل سکی تھی۔
ان چھوٹی بڑی جماعتوں کو بھی زبردست کامیابی ملی جنھوں نے بی جے پی سے اتحاد کیا۔ اتر پردیش اور بہار میں اس نے حریف جماعتوں کا پوری طرح صفایا کر دیا ہے اور بنگال ، آندھرا اور تمل ناڈو جیسی ریاستوں میں اس نے اپنے پیر جما لیے ہیں۔
نریندر مودی کی سیاسی پرورش ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس کی سر پرستی میں ہوئی ہے۔ انھیں ایک ہندو قوم پرست اور سخت گیر رہنما تصور کیا جاتا ہے اور گجرات میں ان کے اقتدار کے ابتدائی دنوں کا ماضی متنازع رہا ہے۔
ان کی قیادت میں بی جے پی نے پہلی بار اپنے طور پر پارلیمان میں اکثریت حاصل کی ہے۔ تو کیا بھارت کی عوام نے ایک اکثریتی فرقے کی جمہوریت یا دوسرے لفظوں میں ہندو جمہوریت کے لیے ووٹ دیا ہے؟

،تصویر کا ذریعہAFP
یہ ایک ایسا سوال ہے جس پر بھارت میں زبردست بحث چھڑی ہوئی ہے اور مسلمانوں سمیت ملک کا ایک بہت بڑا طبقہ اس تشویش میں مبتلا ہے کہ مودی کی جیت کا مطلب کہیں یہ تو نہیں کہ ملک کا سیکولر نظام بدل جائےگا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کہیں یہ ملک سیکیولر جمہوریت کی جگہ ایک ہندو جمہوریت میں تو نہیں تبدیل ہو رہا ؟۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ بی جے پی ایک قدامت پسند اور ہندو قوم پرست جماعت ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بی جے پی نے 543 رکنی پارلیمنٹ کے لیے اپنی جماعت سے محض ایک یا دو مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیا۔
اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بھارت کی تاریخ میں غالباً یہ پہلا موقع ہے جب دنیا میں سب سے زیادہ آبادی والے مسلمانوں کے خطے اتر پردیش سے ایک بھی مسلم رکن پارلیمان منتخب ہو کر دلی نہیں پہنچا ہے۔ بھارت کی تاریخ میں پہلی بار سب سے کم مسلمان پارلیمنٹ میں پہنچے ہیں ۔
لیکن دوسری سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ یہ انتخاب مذہب اور منفیت کے ایجنڈوں پر نہیں لڑا گیا۔ مودی نے پوری انتخابی مہم کے دوران صرف ترقی اور ایک شفاف حکومت کے قیام کی بات کی۔ اس کے برعکس کانگریس اور علاقائی جماعتوں نے اپنے پروگرام اور پالیسیوں کو اجاگر کرنے کی بجائے منفی پراپیگنڈے کا سہارا لیا۔

منموہن سنگھ کی حکومت عوام کے ذہن میں ایک مفلوج حکومت تھی۔ لوگ اسے بدعنوانی میں ڈوبی ہوئی حکومت سمجھتے تھے۔ گزشتہ پانچ برس میں لوگ مہنگائی سے تنگ آ چکے تھے اور منموہن سنگھ میڈیا سے بات کرنا پسند نہیں کرتے تھے۔
ان حالات میں لوگوں نے مودی کے تبدیلی کے نعرے کو قبول کیا۔ عوام نے تبدیلی کو ووٹ دیا ہے اور ان کا یہ ووٹ بی جے پی کے لیے نہیں بلکہ صرف مودی کے لیے ہے۔
مودی یہ بات جانتے ہیں۔ انھوں نے اپنی فتح کے بعد ہندوئیت کے خدشات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی حکومت کا رہنما اصول ملک کا آئین ہوگا۔
بھارتی عوام نے ایک مضبوط ، مستحکم اور شفاف حکومت کی امید میں مودی کو اپنا رہنما منتخب کیا ہے جو بھارت کی سیاست اور جمہوریت میں ایک مثبت تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔
ملک کے نئے وزیراعظم مودی کا انتخاب بھارتی قوم کا ایک اجتماعی مثبت عمل ہے۔ ترقی اور تبدلی کے ان کے نعرے کو نہ صرف پورے ملک میں عوام نے قبول کیا ہے اور ان کی مخالفت کرنے والی جماعتیں اس وقت اپنے وجود کے بحران سے نبرد آزما ہیں۔







