بھارتی انتخابات میں کامیاب اور ناکام سیاست دان

،تصویر کا ذریعہAFP
بھارتی پارلیمانی انتخابات کو دنیا کا سب سے بڑا جمہوری عمل کہا جاتا ہے۔ اس میں نو مرحلوں میں 543 نشستوں کے لیے انتخابات ہوئے۔
ان انتخابات کے نتائج کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی کو ایوان میں سادہ اکثریت حاصل ہو گئی ہے۔
ان انتخابات میں وزیراعظم کے عہدے کے امیدوار نریندر مودی سمیت دیگر رہنماؤں نے اپنی نشستوں پر کامیابی حاصل کی وہیں کئی بڑے رہنماؤں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
کون کون جیتا
نریندر مودی

،تصویر کا ذریعہAFP
بی جے پی کے وزیر اعظم کے عہدے کے امیدوار نریندر مودی ریاست گجرات کے حلقے ودوڈرا اور اترپردیش کے حلقے وارانسی سے جیت گئے ہیں۔
مودی دو حلقوں سے انتخاب لڑ رہے تھے اور دونوں سے کامیابی کے بعد انھیں ایک سیٹ خالی کرنا پڑے گی۔ ذرائع کے مطابق وہ اپنی ودوڈرا سیٹ چھوڑ دیں گے اور وارانسی سیٹ اپنے پاس رکھیں گے۔
عام آدمی پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوال بھی وارانسی کے حلقے سے نریندر مودی کے خلاف انتخاب میں حصہ لے رہی تھے اور اسی وجہ سے یہ حلقہ لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا تھا۔
ایل کے ایڈوانی
ریاست گجرات کے گاندھی نگر حلقے سے بی جے پی کے سابق صدر ایل کے اڈوانی نے انتخاب جیتا ہے۔ سینیئر سیاست دان ایل کے اڈوانی نے پہلی بار یہاں سے 1991 میں سیٹ جیتی تھی۔
راج ناتھ سنگھ

،تصویر کا ذریعہAFP GETTY
بی جے پی کے صدر راج ناتھ سنگھ اترپریش میں لکھنو کے حلقے سے انتخاب جیتے ہیں۔ بے جے پی کے لیے اس نشست کی کافی اہمیت تھی کیونکہ سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی اس حلقے سے 1991 سے 2004 کے عرصے میں پانچ بار منتخب ہو کر ایوان میں پہنچے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سونیا گاندھی

،تصویر کا ذریعہ
کانگریس پارٹی کو انتخابات میں شکست کا سامنا ہے لیکن جماعت کی صدر سونیا گاندھی نے اترپردیش کے حلقے رائے بریلی سے کامیابی حاصل کی ہے۔ سونیا گاندھی کی جیت کو کانگریس کے لیے حالیہ انتخابات میں اچھے لمحات کہا جا سکتا ہے۔
راہل گاندھی
کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی بھارتی ووٹرز کو متاثر کرنے میں ناکام رہے لیکن امیٹھی کے حلقے میں کامیاب رہے۔ ریاست اترپردیش کے اس حلقے کو ایک عرصے سے گاندھی نہرو خاندان کا گھریلو انتخابی حلقہ کہا جاتا ہے۔
راہل گاندھی اس سے پہلے 2004 اور 2009 انتخابات میں اس حلقے سے واضح برتری سے منتخب ہو چکے ہیں۔ اس بار بی جے پی کے رہنما سمرتی ایرانی اور عام آدمی پارٹی کے کمار وشواس راہل گاندھی کے مدمقابل تھے۔ اس بار راہل گاندھی ماضی کے برعکس معمولی برتری سے کامیاب حاصل کر سکے۔
ہیما مالنی

،تصویر کا ذریعہ
بھارتیہ جنتا پارٹی کی امیدوار ہیما مالنی نے ریاست اتر پردیش میں متھرا کے حلقے سے کامیابی حاصل کی۔ ان کے مقابلے میں علاقائی جماعت بہوجن سماج پارٹی کے یوگش دیوای تھے۔
ششی تھرور
کانگریس کے رہمنا اور وزیر ششی تھرور جنوبی ریاست کیرلا کے حلقے ترونتپرم سے دوسری بار کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ ان کے مقابلے میں بی جے پی کے سینیئر رہمنا راجا گوپال تھے۔
اور کس کس کو شکست ہوئی

،تصویر کا ذریعہPTI
کپل سبل
انتخابات میں شکست کا سامنا کرنے والی کانگریس جماعت کی حکومت کے وفاقی وزیر کپل سبل دہلی کے چاندنی چوک حلقے سے بے جی پی کے امیدوار ہرش وردن سے ہار گئے ہیں۔ اس حلقے میں عام آدمی پارٹی کے امیدوار تیسرے نمبر پر رہے۔ اس نشست پر بھی کافی توجہ تھی کیونکہ بے جے پی کے امیدوار ہرش ریاستی انتخابات میں اسی حلقے سے دہلی کے وزیراعلیٰ کے عہدے کے امیدوار تھے۔
نندن نلکانی
کانگریس کے ارب پتی رہنما نندن نلکانی جنوبی ریاست کرناٹک کے حلقے بنگلور ساؤتھ کی نشست پر بی جے پی کے امیدوار اور سابق وفاقی وزیر آننتھ کمار سے ہار گئے ہیں۔نلکانی بھارت کی سب سے بڑی آئی ٹی کمپنیوں میں سے ایک انفو سیس کے شریک بانی اور ارب پتی سابقہ سی ای او ہیں۔
سلمان خورشید
کانگریس کی حکومت میں وزیر خارجہ سلمان خورشید ریاست اترپردیش کے حلقے فرخ آباد سے ہار گئے ہیں۔ دو بار اس حلقے سے کامیابی حاصل کرنے والے سلمان خورشید کو علاقائی جماعت سماجوادیپارٹی کے امیدوار رامشور سنگھ نے شکست دی۔
اروند کیجریوال

،تصویر کا ذریعہAP
عام آدمی پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوال کو اترپردیش کے حلقے وارانسی(بنارس) میں وزیراعظم کے عہدے کے امیدوار نریندر مودی سے شکست ہوئی۔ عام پارٹی کو انتخابات میں صرف چار نشستوں پر کامیابی ملی ہے۔ اس جماعت نے عام انتخابات میں پہلی بار حصہ لیا تھا۔
فاروق عبداللہ
بھارت کے زیرانتظام کشمیر کی علاقائی جماعت نیشنل کانفرس کے رہنما فاروق عبداللہ کو سری نگر کے حلقے سے 30 ہزار ووٹوں سے پیپلز ڈیموکریٹ پارٹی کے طارق حمید قرّہ نے شکست دی ہے۔
حکمران نیشنل کانفرنس کو 37 سال میں پہلی بار سرینگر کی نشست پر شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔







