’مسلمان نہ کبھی ڈرا ہے نہ ڈرے گا‘

مسلمانوں کے بعض حلقے نے ان عام انتخابات میں کھل کر بی جے پی اور مودی کی حمایت کا اعلان کیا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنمسلمانوں کے بعض حلقے نے ان عام انتخابات میں کھل کر بی جے پی اور مودی کی حمایت کا اعلان کیا تھا
    • مصنف, زبیر احمد
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، دہلی

بھارت کے پارلیمانی انتخابات 2014 کے نتائج سے یہ طے ہو گیا ہے کہ بھارت کے اگلے وزیر اعظم نریندر مودی ہی ہوں گے۔

نریندر مودی کی اکثریت کے ساتھ جیت مسلمانوں کے لیے کیا معنی رکھتی ہے؟ ان کے دل میں مودی حکومت کے خلاف کہیں کوئی خدشہ تو نہیں؟

بعض ایسے ہی سوالات کے ساتھ بی بی سی نے مسلمانوں کی دو نمائندہ شخصیتوں سے بات کی۔ ان میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سید قاسم رسول الیاس اور جمیعت علماء ہند کے محمود مدنی شامل ہیں۔

جمیعت علماء ہند کے مولانا محمود مدنی کا کہنا ہے ’ہمیں اس بات کا احساس تو انتخابی مہم کے دوران ہی ہو گیا تھا کہ اس بار سیکولر پارٹیاں، کانگریس یا یو پی اے حکومت نہیں بنا پائے گی اور یہ امید تھی کہ بی جے پی حکومت میں آئے گی۔ اب جو انتخابات کے نتائج آئے ہیں وہ حیران کن نہیں ہیں۔‘

تاہم محمود مدنی نے کہا کہ انھیں اس بات کا خدشہ ہے کہ اگر بی جے پی اپنے ایجنڈے پر قائم رہتی ہے تو ان کے نشانے پر اقلیت اور ان کے مسائل ہوں گے۔

ایگزٹ پولز میں نریندر مودی کی جیت میں مسلمانوں کے ووٹوں کے بھی کردار کو دکھایا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنایگزٹ پولز میں نریندر مودی کی جیت میں مسلمانوں کے ووٹوں کے بھی کردار کو دکھایا گیا ہے

’پہلے بھی مرکز میں بی جے پی قیادت میں این ڈی اے کی حکومت تھی۔ اس کے علاوہ کئی ریاستوں میں بی جے پی کی حکومت ہے اور وہاں مسلمانوں کی خاصی آبادی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ یہاں انھوں نے اپنا ایجنڈا نافذ کرنے کی کوشش کی ہے۔ ظاہر ہے کہ مسلمان وہاں اپنی شناخت اور دیگر مسائل کے ساتھ رہ رہے ہیں۔‘

محمود مدنی کا خیال ہے کہ مودی حکومت میں کئی اہم مسئلے پیدا ہو سکتے ہیں جیسے کہ یکساں سول کوڈ یا رام مندر کی تعمیر یا دفعہ 370، لیکن اس بار لوگوں نے ان مسائل سے ہٹ کر ترقی کے نام پر ووٹ دیا ہے۔

مدنی کے مطابق لوک سبھا انتخابات 2014 کے دوران کہیں ’ہندوتو‘ کا مسئلہ نہیں تھا۔

’ہندو لیبارٹری‘

لکھنؤ انتخابی حلقے میں مسلمانوں کے ایک طبقے نے بی جے پی صدر راج ناتھ سنگھ کی حمایت کا اعلان کیا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنلکھنؤ انتخابی حلقے میں مسلمانوں کے ایک طبقے نے بی جے پی صدر راج ناتھ سنگھ کی حمایت کا اعلان کیا تھا

جمیعت کے محمود مدنی کا کہنا ہے کہ ’یہ بات صحیح ہے کہ بی جے پی نے جس شخص کو وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پر سامنے رکھا ان کی کامیابی اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کہ انھوں نے ایک ہندو لیبارٹری کے طور پر گجرات کو تیار کیا تھا۔ اس کے علاوہ سنہ 2002 کے فسادات ان کے اکاؤنٹ میں ہیں۔ ان کو آگے بڑھانے میں یہ ایک بڑا فیکٹر تھا۔‘

محمود مدنی نے مزید کہا: ’بہر حال بی جے پی نے انتخابی مہم کے دوران کوشش کی کہ ان تضادات کو سامنے نہ آنے دیا جائے۔ یہ دکھایا گیا کہ ملک کی آبادی صلح و آشتی اور امن چاہتی ہے۔ ساتھ ہی وہ بدعنوانی سے آزاد سماج بھی چاہتی ہے۔‘

انھوں نے کہا: ’اگر واقعی بی جے پی یہ ثابت کرنا چاہتی ہے کہ وہ ایک مستحکم حکومت دے سکتی ہے تو اسے ان تمام مسائل سے خود کو علیحدہ رکھنا ہوگا۔‘

انھوں نے کہا کہ بی جے پی کے لیے خود کو ثابت کرنے کا یہ سنہری موقع ہے۔

مسلمان نہ ڈرا ہے نہ ڈرے گا

مبصرین کا کہنا ہے کہ اس بار کے انتخابات میں ترقی کا نعرہ اہم تھا اور اس میں سب شریک تھے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنمبصرین کا کہنا ہے کہ اس بار کے انتخابات میں ترقی کا نعرہ اہم تھا اور اس میں سب شریک تھے

دوسری جانب مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سید قاسم رسول الیاس کو آنے والی مودی حکومت کی کارکردگی کے بارے میں کوئی شک نہیں ہے۔

سید قاسم رسول الیاس کا کہنا ہے کہ ’مسلمان نہ کبھی ڈرا ہے اور نہ آئندہ کبھی ڈرےگا۔ اس ملک میں سماج میں بہت قوی ہے۔ ایسے میں صرف مسلمان کو ہی نہیں کسی کو بھی ڈرنے اور گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔‘

وہ کہتے ہیں: ’کوئی آئے اور کوئی جائے ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اتحاد، بھائی چارہ اور امن قائم کرنا، لوگوں کو ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرنا کسی بھی حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’نئی حکومت اپنی اس ذمہ داری کو کس طرح ادا کرتی ہے اس کا تو کچھ دن بعد ہی پتہ چلے گا۔ اسی کے بعد یہ فیصلہ کیا جا سکتا ہے کہ حکومت کیسی ہے کیسی نہیں ہے۔‘