’مسلمانوں کے حالات کے لیے حکومت اور مسلمان دونوں ذمہ دار‘

بھارتی مسلمان طالب علم
،تصویر کا کیپشنبیشتر بھارتی مسلم نوجوانوں کو اس بات کا احساس ہے کہ انھیں ملک کی ترقی کا فائدہ نہیں ہو رہا
    • مصنف, خدیجہ عارف
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

بھارت میں عام انتخابات جاری ہیں اور ہر بار کی طرح اب بھی مسلم تنظیمیں اور خاص طور سے شمالی بھارت کے مسلمانوں کو اس بات کا احساس ہو رہا ہے کہ ان کی بات سننے والا کوئی نہیں ہے اور انھیں صرف ’ووٹ بینک‘ کی طرح استعمال کیا جا رہا ہے۔

ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ تقسیمِ ہند کے 65 برس بعد بھی کیا مسلمانوں کا کوئی لیڈر ایسا ہے جو ان کی نمائندگی کرتا ہو اور جس کی شخصیت اور سیاسی تصور بھارتی مسلمانوں کے حالات بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکیں؟

بھارت میں بیشتر مسلمان نوجوانوں کا خیال ہے کہ ملک کی اقتصادی ترقی میں وہ اپنے آپ کو بہت پیچھے پاتے ہیں اور جو بھی حکومت آئی، اس نے ان کے اصل بنیادی مسائل کے حل کا صرف ’وعدہ‘ کیا لیکن اس کو کبھی پورا نہیں کیا۔ وہ نہیں سمجھتے کوئی مذہبی تنظیم، یا کوئی مسلم لیڈر ان کی نمائندگی کر سکتا ہے تو وہ ایسے رہنما کی تلاش میں ہے جو سیکیولر ہو اور جو سبھی اقلیتوں کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو بھی ملک کی ترقی کا حصہ بنائے۔

بھارت میں کئی سرکردہ مذہبی تنظیمیں ہیں جنھوں نے تاریخی طور پر ملک کی سیاست میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ لیکن تقسیمِ ہند کے بعد جو سیاسی قیادت کا خلا پیدا ہوا تھا کیا وہ اس کو پورا کر پائی ہیں؟

جمعیت علمائے ہند کے جنرل سیکریٹری محمود مدنی کا کہنا ہے: ’جمعیت علمائے ہند اور تمام مذہبی تنظیموں نے گذشتہ 65،60 برسوں میں مسلمانوں کی شناخت کو بچانے کا کام کیا ہے، یا یہ کہیں ان کا ایمان بچانے کا کام کیا ہے۔ کسی بھی قوم کے لیے اس کی شناخت کو بچانا سب سے زیادہ ضروری ہے۔‘

محمود مدنی
،تصویر کا کیپشنجمعیت علمائے ہند کا کہنا ہے کہ انھوں نے مسلمانوں کی شناخت بچانے کا کام کیا ہے

لیکن سوال یہ ہے کہ شناخت بچانا تو ایک بات ہوئی لیکن مسلمانوں کے مسائل کا حل دوسری بات ہے۔ تو کیا ملک کی مذہبی تنظیموں کو یہ احساس ہے کہ گذشتہ تقریباً سات دہائیوں میں مسلمانوں کا ایک بھی لیڈر نہیں آیا؟

ملک کی ایک اور سرکردہ مذہبی تنظیم جماعت اسلامی کے امیر جلال الدین عمری کا کہنا ہے کہ بھارت میں تقسیم سے پہلے بھی کوئی ایک مسلم لیڈر نہیں تھا۔ ان کا کہنا ہے: ’یہ سوال ہی غلط ہے کہ مسلمانوں کا ایک رہنما ہونا چاہیے۔ اس ملک میں تو ہندوؤں کا بھی کوئی ایک لیڈر نہیں ہے اور مسلمانوں کے جو لیڈر تھے بھی تو وہ پاکستان چلے گئے تھے۔‘

ایسا نہیں ہے کہ بھارت میں مسلمان رہنما نہیں ہیں، لیکن ملی گزٹ اخبار کے مدیر اور آل انڈیا مجلس مشاورت کے صدر ظفر الاسلام خان کا کہنا ہے کہ یہ رہنما اپنی اپنی جماعتوں کی پالیسیوں کے پابند ہیں۔ ان کا کہنا ہے: ’بھارت کی پارلیمان میں جتنے مسلمان ممبران کی ضرورت ہے اتنے نہیں ہے۔ اور جو سیاستدان کسی اہم سیاسی عہدے پر ہوتے بھی ہیں تو وہ اپنی پارٹی کی پالیسی کے تحت ہی مسلمانوں کے بارے میں بات کر پاتے ہیں اور اگر کبھی وہ کچھ اس دائرے سے باہر بات کرتے ہیں تو پارٹی کی طرف سے انھیں ڈانٹ پڑتی ہے۔‘

زویا حسن
،تصویر کا کیپشنماہرین کا خیال ہے مسلمانوں کی ترقی کے مسئلے کے حل پر عام رائے نہیں بن سکی ہے

یہ تو رہا سوال مسلمانوں کی قیادت کا، لیکن بھارت کی تقریباً 15 فیصد مسلم آبادی کو ایک جمہوری ملک میں برابری کے حقوق کی ضمانت کے باوجود تعلیم، صحت، اور نوکریوں جیسے مسائل کا کیوں سامنا ہے؟

جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں سماجیات کی پروفیسر اور نیشنل کمیشن فار مائنوریٹیز کی سابق چیئرپرسن زویا حسن کا کہنا ہے: ’مسلمانوں کی ترقی کے مسئلے پر ملک میں ایک رائے بن ہی نہیں پائی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کا جو پورا وجود ہے وہ مائنورٹی اپیزمنٹ یا مسلمانوں کو خوش کرنے کی پالیسی کے خلاف رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ حکومت اگر قدم آگے بڑھتی ہے تو ان کی تنقید کے بعد دو قدم پیچھے ہٹ جاتی ہے۔‘

2007 میں حکومت کی جانب سے مقرر کردہ کی گئی سچر کمیٹی کی رپورٹ میں یہ بات واضح ہوگئی تھی کہ بھارت کے مسلمان تعلیمی اور اقتصادی اعتبار سے سب سے پیچھے ہیں۔ اس رپورٹ کے آنے کے بعد بھی اس کی سفارشات پر عمل کیوں نہیں ہوا؟

سچر کمیٹی کے سینئیر کنسلٹنٹ پروفسیر تنویر فضل کا کہنا ہے کہ اس کے لیے حکومت اور مسلمان دونوں ہی ذمہ دار ہیں۔

لیکن اقلیتی امور کے مرکزی وزیر کے رحمٰن خان کا کہنا ہے کہ مسلمان خود کچھ نہیں کرنا چاہتے: ’حکومت کا کام ہے مسلمانوں کی مدد کرنا، لیکن مسلمان چاہتے ہیں سب کام حکومت ہی کرے۔ کتنی قومیں ہیں جنھوں نے اپنے تعلیمی ادارے بنائے لیکن شمالی ہندوستان کے مسلمان ایسا کیوں نہیں کر پائے؟‘

جمعیت علمائے ہند کے محمود مدنی کا کہنا ہے کہ وہ سیاست میں شامل ہوئے بغیر قوم کے لیے کچھ بھی نہیں کر سکتے اور سیاسی پارٹیاں انھیں صرف اپنے مفاد کے لیے استمعال کرتی ہیں۔

تین ہفتے میں بھارت کی نئی حکومت کا فیصلہ ہوجائے گا اور نئی حکومت کو ملک کے دیگر مسائل کے علاوہ مسلمانوں کے مسائل اور ان کے اعتماد کی بحالی کے چیلنج کا بھی سامنے ہوگا۔ ایسے میں کیا توقعات وابستہ کی جائیں؟

بھارتی مسلمان
،تصویر کا کیپشنبیشتر بھارتی مسلمان کسی بھی حکومت سے زیادہ توقعات نہیں رکھتے

جامعہ ٹیچرز سولیڈیرٹی کی منیشا سیٹھی کا کہنا ہے سیکیولرزم ملک اور مسلمانوں دونوں کو بچا سکتا ہے: ’اس وقت ملک کو سیکولر لیڈرشپ کی ضرورت ہے، چاہے وہ ہندو ہو یا مسلمان۔ اگر مسلم لیڈرشپ سامنے آتی ہے تو اس سے خطرہ ہے کہ معاشرے میں مذہب کی بنیاد پر تقسیم شروع ہوجائے گی۔‘

بھارت میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک کی مسلم قیادت عوام کے درمیان جا کر ان میں یہ اعتماد پیدا کرنے میں ناکام رہی ہے کہ وہ ان کی شناخت کے علاوہ ان کے سماجی اور معاشی مسائل کو بھی اہم سمجھتی ہے اور حکومت حزب اختلاف کی جانب سے ’مسلم اپیزمینٹ‘ کے الزام کے ڈر سے مسلمانوں کے لیے وہ سب نہیں کر پائی جس کی وہ نیت رکھتی تھی۔