بھارتی انتخابات کا ساتواں مرحلہ، اہم کھلاڑی میدان میں

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی
بھارت کے پارلیمانی انتخابات میں بدھ کو ساتویں مرحلے کی پولنگ ہو رہی ہے جس میں 89 نشستوں کے لیے ووٹ ڈالے جائیں گے۔
اس مرحلے میں ملک کی اعلیٰ ترین سیاسی قیادت انتخابی میدان میں اتر رہی ہے۔
جن سات ریاستوں اور وفاق کے زیرِ انتظام علاقوں میں پولنگ ہوگی ان میں گجرات، بہار، اتر پردیش، مغربی بنگال، پنجاب، آندھر پردیش، جموں و کشمیر، دادرا اور ناگر ہویلی اور دمن اور دئیو شامل ہیں۔
گجرات کی تمام 26 نشستوں کے لیے ایک ساتھ ووٹ ڈالے جائیں گے۔ ریاست میں بڑودا کے حلقے سے وزیراعلیٰ اور وزارت عظمیٰ کے لیے بی جے پی کے امیدوار نریندر مودی بھی میدان میں ہیں۔
مودی دو حلقوں سے انتخاب لڑ رہے ہیں اور دوسرا حلقہ ہندوؤں کا مقدس ترین شہر بنارس ہے جہاں 12 مئی کو آخری مرحلے میں پولنگ ہوگی۔ گجرات کے ہی گاندھی نگر حلقے سے بی جے پی کے سابق صدر ایل کے اڈوانی میدان میں ہیں۔
اترپردیش کی جن 14 سیٹوں کے لیے بدھ کو ووٹنگ ہوگی ان میں رائے بریلی بھی شامل ہے جہاں سے کانگریس کی صدر سونیا گاندھی ایک مرتبہ پھر اپنی قسمت آزما رہی ہیں جبکہ لکھنؤ سے بی جے پی کے صدر راج ناتھ سنگھ الیکشن لڑ رہے ہیں۔
تجزیہ نگار مانتے ہیں کہ وزیراعظم کی کرسی کی دوڑ میں راج ناتھ سنگھ ’ڈارک ہارس‘ ہیں اور اگر حکومت سازی کے لیے بی جے پی کو نئے اتحادیوں کی ضرورت پڑتی ہے تو سنگھ کے نام پر اتفاق ہوسکتا ہے کیونکہ انہیں پارٹی کا معتدل چہرہ مانا جاتا ہے۔
پنجاب کے امرتسر حلقے سے راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے لیڈر ارون جیٹلی میدان میں ہیں۔ یہ ان کی زندگی کا پہلا الیکشن ہے اور انہیں کانگریس کے سابق وزیراعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ سے سخت چیلنج کا سامنا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

اگر بی جے پی کی حکومت بنتی ہے اور جیٹلی الیکشن جیت جاتے ہیں تو نئی حکومت میں انہیں انتہائی اہم رول ملنا طے ہے کیونکہ وہ نریندر مودی کے سب سے قریبی ساتھی مانے جاتے ہیں۔
کشمیر کے سری نگر حلقے سے فاروق عبداللہ دوبارہ منتخب ہونے کی کوشش کر رہے ہیں اور مودی کے ساتھ ان کی لفظوں کی جنگ پوری شدت کے ساتھ جاری ہے۔ فاروق عبداللہ کے اس بیان پر کافی تنقید ہوئی ہے کہ اگر انڈیا میں فرقہ پرست حکومت بنتی ہے تو کشمیر اس کے ساتھ نہیں رہ سکتا۔
اتر پردیش کے جھانسی حلقے سے سادھوی اوما بھارتی میدان میں ہیں اور اپنے اس بیان کی وجہ سے کافی سرخیوں میں رہی ہیں کہ اگر بی جے پی کی حکومت بنتی ہے تو پرینکا گاندھی کے شوہر رابرٹ وڈرا کو جیل بھیجا جائے گا۔
اس کے بعد پولنگ کے دو مرحلے باقی رہ جائیں گے جن کے لیے ووٹ سات اور بارہ مئی کو ڈالے جائیں گے۔
انتخابی مہم میں جیسے جیسے شدت آئی ہے، سیاسی بحث کا معیار بھی زوال پذیر ہوا ہے اور سرکردہ سیاسی رہنما براہ راست ایک دوسرے پر ذاتی حملے کر رہے ہیں۔
لیکن ان ذاتی حملوں سے یہ اشارہ بھی ملتا ہےکہ بی جے پی نے اتحادیوں کی ممکنہ فہرست سے کن رہنماؤں کے نام خارج کر دیے ہیں۔ سر فہرست مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی ہیں جن پر مودی نے مالی بے ضابطگیوں کا الزام لگایا ہے۔
ادھر کانگریس کے سینئر رہنماؤں نے یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ اکثریت نہ ملنے کی صورت میں حکومت سازی کے لیے کانگریس کسی سیکولر اتحاد کی حمایت کرسکتی ہے۔
نتائج کا اعلان سولہ مئی کو کیا جائے گا۔







