بابا رام دیو کےجلسوں اور یوگا کیمپ پر پابندی

با با رام دیو

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن’راہل جی کے بارے میں جو میں نے کہا تھا، اسے غلط طریقے سے پیش کیا گیا تھا‘

بھارت کی ریاست اتر پردیش کی لکھنؤ ضلع کی انتظامیہ نے بابا رام دیو کے انتخابی جلسوں اور یوگا کیمپ پر نے پابندی لگا دی ہے۔

یہ پابندی صرف لکھنؤ میں ہونے والے اُن کے جلسوں اور یوگا کیمپ پر ہوگی۔

رام دیو نے جمعہ کو ایک پروگرام میں کہا تھا کہ راہل گاندھی دلتوں کے گھر میں ’ہنی مون اور پکنک‘ منانے جاتے ہیں۔

اس کے بعد ان کے خلاف اتر پردیش میں دو مقدمہ درج کرائے گئے، ایک لکھنؤ میں اور دوسرا سون بھدر میں۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق، سون بھدر میں ضلع پنچایت چیئرمین انیتا راکیش نے دلت خواتین کی توہین کے لیے رام دیو کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی ہے۔

رام دیو نے ہفتہ کو اس بیان پر صفائی پیش کی تھی۔ انھوں نے کہا کہ ’راہل جی کے بارے میں جو میں نے کہا تھا، اسے غلط طریقے سے پیش کیا گیا تھا دلتوں اور راہل گاندھی کی توہین کرنا ہمارا مقصد نہیں تھا‘۔

رام دیو کے بیان پر کانگریس نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے جبکہ بی جے پی کے کچھ رہنماؤں نے اس کا دفاع کیا ہے۔

کچھ نے اسے غلط بھی قرار دیا۔

عوامی معافی کا مطالبہ

بی جے پی لیڈر یشونت سنہا نے کہا لکہ’رام دیو جی نے اپنے الفاظ واپس لے لیے ہیں اور اس معاملے میں ایف آئی آر بھی درج ہوئی ہے، لیکن بہتر ہوتا کہ وہ اس طرح کے الفاظ استعمال نہیں کرتے۔‘

’یہ بیان دلت مخالف ہے جس کے لیے رام دیو کو عوامی طور پر معافی مانگنی چاہئے ہم چاہتے ہیں کہ مودی اور بی جے پی رام دیو کے اس بیان پر رد عمل ظاہر کریں۔‘

رام دیو نے جمعہ کو لکھنؤ میں کہا تھا، ’راہل گاندھی پکنک منانے دلتوں کے گھر جاتے ہیں۔اگر وہ دلت لڑکی سے شادی کر لیتے تو ان کی قسمت کُھل سکتی تھی، وہ وزیر اعظم بن جاتے‘۔

ادھر، ہفتہ کو دہلی پردیش کانگریس کمیٹی نے بھی ان پر مقدمہ درج کرنے کے لیے دہلی پولیس پر زور دیا ہے۔

بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے رام دیو کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اتوار کو کہا کہ اگر بی جے پی ان کے خلاف کارروائی نہیں کرتی ہے تو پارٹی انتخابات کے بعد بابا رام دیو اور بی جے پی کے خلاف ملک گیر دورہ شروع کرے گی۔