الیکشن کمیشن کو پیڈ نیوز کی جانچ کا حق: سپریم کورٹ

،تصویر کا ذریعہAFP
بھارت کی سپریم کورٹ نے مغربی ریاست مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ اشوک چوان کی درخواست کو خارج کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ الیکشن کمیشن کو ’پیڈ نیوز‘ کے معاملات کی جانچ کرنے کا حق ہے۔
سپریم کورٹ نے چوان کے اس بیان کو خارج کر دیا کہ الیکشن کمیشن کو پیڈ نیوز‘ کے معاملے میں کارروائی کرنے کا حق نہیں ہے۔
بھارت میں بہت سے رہنماؤں اور پارٹیوں پر پیسے دے کر خبریں شائع کروانے کا الزام لگتا رہتا ہے۔
سنہ 2009 میں اشوک چوان پر یہ الزام لگا تھا کہ انھوں نے پیسے دے کر مراٹھی اخباروں میں خبریں شائع کروائی تھیں۔ اس سلسلے میں بی جے پی لیڈروں نے الیکشن کمیشن شکایت کی تھی۔
سپریم کورٹ نے دہلی ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو برقرار رکھا، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کوئی امیدوار انتخابات کے دوران نامزدگی داخل کرتے وقت اپنے انتخابی خرچے میں ’پیڈ نیوز‘ پر خرچ کی جانے والی رقم کا ذکر نہیں کرتا ہے تو کمیشن اس کی جانچ کر سکتا ہے۔
اشوک چوان نے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ الیکشن کمیشن روزانہ کی بنیاد پر اس معاملے کی سماعت کرے اور 45 دنوں کے اندر اس کا تصفیہ کرے گا۔
اشوک چوان سنہ 2009 میں مہاراشٹر اسمبلی انتخاب میں ناندیڑ کی بھوكر سیٹ سے جیتے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے سوا لاکھ ووٹوں سے کامیابی حاصل کی تھی لیکن ان کے مخالف آزاد امیدوار مادھو كنہالكر نے الیکشن کمیشن میں شکایت درج کی تھی جس میں اشوک چوان پر ایک مراٹھی اخبار میں مخصوص رقم ادا کر کے ’اشوک پرو‘ یا تہوار کے نام سے سپیشل صفحات شائع کروانے کا الزام لگایا تھا۔
الیکشن کمیشن نے اس معاملے میں اشوک چوان کو نوٹس بھیجا تھا جسے انھوں نے عدالت میں چیلنج کیا تھا۔







