انڈیا کے انتخابات کیسے بدلے ہیں؟

1990 کےعشرے میں انتخابی مہم کا انداز بدلنا شروع ہوگیا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن1990 کےعشرے میں انتخابی مہم کا انداز بدلنا شروع ہوگیا
    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی

دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھارت میں انتخابی مہم کا انداز کچھ اس طرح بدلا ہے کہ اگر آپ اخبار یا ٹی وی کا شوق نہ رکھتے ہوں تو شاید یہ معلوم ہی نہ ہو کہ آپ کے علاقے میں الیکشن ہو رہا ہے۔

لیکن اس کے باوجود بیداری بھی بڑھی ہے اور پولنگ کی شرح بھی۔

پہلے جمہوریت کا جشن پورے زور شور اور ہنگامے کے ساتھ منایاجاتا تھا، ہر شام بڑے بڑے جلوس اور جلسے، ہر چھت سے لہراتے ہوئے جھنڈے سیاسی وابستگیوں کا اعلان کرتے ہوئے، ہر دیوار پوسٹروں سے ڈھکی ہوئی، ٹیلی فون اور بجلی کے ہر کھمبے سے بینرز بندھے ہوئے، لاؤڈ سپیکر دن رات ہندی فلموں کے مقبول گانوں کی پیروڈی بجاتے ہوئے۔۔۔بڑے چوراہوں اور بازاروں میں تو کبھی کبھی اتنا شور ہوتا تھا کہ بات کرنا بھی مشکل ہو جائے۔

دیہی علاقوں میں لوگ بڑی تعداد میں امیدواروں کے انتخابی دفاتر میں آکر بیٹھتے، رات کے دس گیارہ بجے تک بس یہ ہی بحث رہتی کہ کس برادری کا ووٹ کس امیدوار کے ساتھ جا رہا ہے اور آپ جس پارٹی کے بھی دفتر میں جاتے وہاں چند ہی منٹوں میں مقامی ورکرز آپ کو پورا حساب کتاب جوڑ کر یہ سمجھا دیتے کہ ان کا امیدوار کیوں اور کتنے ووٹوں سے جیت رہا ہے۔

لیکن 1990 کےعشرے میں انتخابی مہم کا انداز بدلنا شروع ہوگیا۔

اب بغیر اجازت کسی دیوار پر پوسٹر یا بینر لگانا قابل گرفت ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناب بغیر اجازت کسی دیوار پر پوسٹر یا بینر لگانا قابل گرفت ہے

سابق بیوروکریٹ ٹی این سیشن جب چیف الیکشن کمشنر بنے تو انھوں نے انتخابی مہم پر طرح طرح کی پابندیاں عائد کرنا شروع کردیں، انتخابی مہم میں استعمال ہونےوالی گاڑیوں کے لیے پاس جاری ہونےلگے، الیکشن میں امیدواروں کے اخراجات پر سخت نگاہ رکھی جانے لگی اور پھر پابندیاں بڑھتی گئیں، پوسٹرز، بینرز، جھنڈے سب کچھ ایسی شرائط اور پابندیوں کی نذر ہوگئے جنھیں پورا کرنا تقریباً ناممکن ہی ہے۔

اب صورتحال یہ ہے کہ اگر بغیر اجازت کسی دیوار پر پوسٹر چسپاں کیا جائے یا کسی دیوار پر سیاسی نعرے لکھے جائیں تو امیدوار کے خلاف کارروائی کی جاسکتی ہے۔

اس لیے اب آپ کسی بھی طرف نکل جائیے، الیکشن کا کوئی واضح نشان نظر نہیں آئے گا۔

اگر آپ کوئی جلسہ کرنا چاہتے ہیں یا جلوس نکالنا چاہتے ہیں تو اس کی پشگی اطلاع پولیس کو دنیا اور تحریری اجازت لینا ضروری ہے ورنہ الیکشن کمیشن اور مقامی پولیس مثالی ضابطہ عمل کی خلاف ورزی کے الزام میں آپ کے خلاف کارروائی کرسکتے ہیں!

الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے استعمال، بہتر سکیورٹی، کئی مراحل میں پولنگ اور بہتر نگرانی کی وجہ سے بوتھوں پر قبضے کی خبریں اب سننے کو نہیں ملتیں۔ ووٹوں کی گنتی کا عمل جو ایک دن صبح شروع ہوکر کہیں دوسرے دن شام کو ختم ہوتا تھا اب چند ہی گھنٹوں میں مکمل ہوجاتا ہے۔ انتخابی تشدد کے واقعات اب بس نکسلی شدت پسندوں کے غلبے والے علاقوں میں ہی پیش آتے ہیں۔

انتخابات کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے اور اس کے تئیں بیداری بھی بڑھی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنانتخابات کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے اور اس کے تئیں بیداری بھی بڑھی ہے

جو لوگ انتخابی مہم کی باریکیوں کو اندر سے جانتے ہیں وہ آپ کو بتائیں گے کہ زیادہ تر امیدوار ان پابندیوں سے خوش ہیں کیونکہ پہلے لوگ جھنڈے، پوسٹروں اور بینروں سے ہی یہ اندازہ لگاتے تھے کہ علاقےمیں کس کی ہوا ہے، اور دولت مند امیدواروں سے جھنڈے اور بینرز کی جنگ لڑنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں تھی۔

لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ پیسے کا رول کم ہوا ہے۔ جو پیسہ بچتا ہے وہ دوسرے کاموں میں استعمال ہوتا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق اس انتخابی مہم کے دوران اس کی موبائل ٹیموں نے تقریباً دو سو کروڑ روپے نقد اور چھبیس لاکھ لیٹر سے زیادہ شراب ضبط کی ہیں۔ انڈیا کے انتخابات میں ووٹروں کی وفاداری ’خریدنے‘ کے لیے شراب اور نقد رقم کا استعمال کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔

اب انتخابی جنگ گلی محلوں میں نعرے بازی کے بجائے ٹی وی، ریڈیو اور اخبارات میں اشتہارات کے ذریعہ زیادہ لڑی جاتی ہے۔

لیکن جمہوریت کے جشن کا صرف شور کم ہوا ہے ، ووٹروں میں اس کی دلچسپی نہیں، وہ جب چاہتےہیں خاموشی سے حکومتوں کو بدل دیتے ہیں۔