بھارت: انتخابات میں پولنگ کا تیسرا دن، 91 نشستوں کے لیے ووٹنگ جاری

دہلی کی سات سیٹوں کے لیے تقریبا سوا کروڑ سے زائد ووٹر کل 150 امیدواروں کی ہار جیت کا فیصلہ کریں گے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشندہلی کی سات سیٹوں کے لیے تقریبا سوا کروڑ سے زائد ووٹر کل 150 امیدواروں کی ہار جیت کا فیصلہ کریں گے

بھارت میں پہلے دو مرحلے کی پولنگ کے بعد تیسرے مرحلے کے لیے 14 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی 91 لوک سبھا نشستوں کے لیے جمعرات کو ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔

اس میں دارالحکومت دہلی کی سات نشتوں کے علاوہ ہریانہ، اتر پردیش، مہاراشٹر اور اوڑیسا کی 10، مدھیہ پردیش کی نو، بہار کی چھ، جھارکھنڈ کی چار اور کیرالہ کے تمام 20 سیٹوں کے لیے ووٹ ڈالے جائیں گے۔

اس کے علاوہ چھتیس گڑھ، جموں و کشمیر، چندی گڑھ، انڈمان و نکوبار اور لکش دیپ کی ایک ایک سیٹ کے لیے بھی پولنگ ہوگی۔

ان 91 سیٹوں پر تقریبا 11 کروڑ ووٹر کل 1418 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کریں گے۔

تاہم پورے ملک کی نظریں دہلی کی سات سیٹوں کے انتخابات پر لگی ہوں گی۔ دہلی کی سات سیٹوں کے لیے تقریبا سوا کروڑ سے زائد ووٹر کل 150 امیدواروں کی ہار جیت کا فیصلہ کریں گے۔

نامور امیدوار

غازی آباد سے سابق فوجی سربراہ جنرل وی کے سنگھ بھی انتخابی میدان میں ہیں

،تصویر کا ذریعہPTI

،تصویر کا کیپشنغازی آباد سے سابق فوجی سربراہ جنرل وی کے سنگھ بھی انتخابی میدان میں ہیں

دہلی میں جن لوگوں کی قسمت کا فیصلہ ہونا ہے ان میں کانگریس کے مرکزی وزیر کپل سبل، کانگریس کی مرکزی وزیر کرشنا تيرتھ، سابق مرکزی وزیر اجے ماکن، دہلی پردیش بی جے پی کے سینیئر لیڈر ہرش وردھن، دہلی پردیش کانگریس کے سابق صدر جے پی اگروال، دہلی کی سابق وزیر اعلی شیلا دکشت کے بیٹے سندیپ دیکشت جیسے معروف چہرے شامل ہیں۔

بی جے پی کی ٹکٹ پر پارٹی کے ترجمان مینا کشی لیكھی اور بھوجپوری فنکار منوج تیواری بھی انتخابی میدان میں ہیں۔ جبکہ عام آدمی پارٹی کی طرف سے دہلی حکومت کی سابق وزیر راکھی بڑلان، اور معروف ٹی وی صحافی اشوتوش جیسے نام شامل ہیں۔

دہلی کے علاوہ لوگوں کی نظریں مغربی اتر پردیش کی 10 سیٹوں پر بھی ہوں گی۔ اس میں فساد متاثر مظفرنگر، کیرانہ، سہارن پور، میرٹھ، بجنور، بلند شہر، علی گڑھ، پت، غازی آباد، گوتم بدھ نگر کے پارلیمانی علاقے بھی شامل ہیں۔

راشٹریہ لوک دل کے صدر اور مرکزی وزیر اجیت سنگھ بھی پت سے انتخابی میدان میں ہیں۔

غازی آباد سے سابق فوجی سربراہ جنرل وی کے سنگھ بھی انتخابی میدان میں ہیں۔ اس کے علاوہ مغربی اتر پردیش سے فلم ستارے جیا پردا (آر ایل ڈی کے ٹکٹ پر بجنور سے)، نغمہ (کانگریس کے ٹکٹ پر میرٹھ سے) اور راج ببر (کانگریس کے ٹکٹ پر غازی اباد) سے اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔

اداکارہ کرن کھیر چندی گڑھ سے انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں

،تصویر کا ذریعہhoture

،تصویر کا کیپشناداکارہ کرن کھیر چندی گڑھ سے انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں

اس کے علاوہ مہاراشٹر کے ودربھ علاقے کے عوام بی جے پی کے سابق صدر نتن گڈکری کی قسمت کا فیصلہ بھی کرے گی۔

کیرل کے ترونتپرم سیٹ سے ششی تھرور مسلسل دوسری بار انتخاب جیتنے کے ارادے سے انتخابی میدان میں ہیں۔

چندی گڑھ میں دو اداکارہ کرن کھیر (بی جے پی) اور گل پناگ (عام آدمی پارٹی) کانگریس امیدوار اور سابق مرکزی وزیر ریل پون کمار بنسل کو مشکل چیلنج پیش کر رہی ہیں۔

نو مرحلے میں پولنگ

مدھیہ پردیش کی چھدواڑا سے مرکزی وزیر کمل ناتھ کی قسمت کا بھی فیصلہ عوام کرے گی.

اوڈشا میں لوک سبھا کی سیٹوں کے ساتھ - ساتھ اسمبلی کے انتخابات بھی ہو رہے ہیں، جس میں بیجو جنتا دل کے نوین پٹنائک کی جیت پکی مانی جا رہی ہے۔

2009 کے عام انتخابات کے دوران ان 91 سیٹوں میں سے 45 سیٹوں پر کانگریس کے امیدواروں نے کامیابی حاصل کی تھی. جبکہ بی جے پی کو محض 13 سیٹوں پر کامیابی ملی تھی. لیکن اس بار کے انتخاب سے قبل رائے عامہ کے جائزوں میں بی جے پی کی حالت بہتر بتائی جا رہی ہے.

16 ویں لوک سبھا کی تشکیل کے لئے ملک بھر میں نو مراحل میں انتخابات کرائے جا رہے ہیں. سات اپریل سے شروع ہونے والے عام انتخابات 12 مئی کو ختم ہوں گے. 16 مئی کو ووٹوں کی گنتی کی جائے گی.