’خواتین کے بارے میں بات کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی‘

جواہر لال نہرو کے طلباء
،تصویر کا کیپشنبیشتر خواتین کو لگتا ہے کہ سیاسی پارٹیاں ان کے بارے میں بات نہیں کرتی ہیں
    • مصنف, خدیجہ عارف
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

بھارت میں فی الوقت ایک بے حد دلچسپ انتخابات جاری ہیں اور ان اتنخابات میں سماج کے کئی طبقوں کی طرح خواتین کو بھی یہ محسوس ہورہا ہے کہ نہ سیاسی پارٹیاں اور نہ ہی میڈیا ان کے مسائل کی بات نہیں کررہے ہیں۔

سنہ دو ہزار بارہ میں سولہ دسمبر کو ہونے والے ریپ کیس کے بعد بھارت میں گزشتہ دو سالوں میں خواتین کی سکیورٹی کا سوال ایک اہم مسئلہ رہا ہے۔ میڈیا اور سیاسی جماعتیں دونوں نے اس مسئلے پر کھل کر بات کی، حکومت نے خواتین کے جنسی استحصال اور ریپ سے متعلق ایک نیا قانون بھی بنایا۔

یہی نہیں انڈیا میں اس وقت کم از کم تین اہم خواتین امیدوار میدان میں ہیں جو ہوسکتا ہے ملک کی باگ دوڑ سنبھالیں۔ لیکن کیا ان انتخابات میں خواتین کے مسائل پر اس سنجیدگی سے بات ہورہی جس کی ضرورت ہے؟ یا پھر کسی سیاسی پارٹی نے ان کے مسائل کو اپنا اہم ایجنڈا بنایا ہے؟

انتخابات کی شروعات میں اخباری اور ویڈیو اشتہارات کے ذریعے تقریباً ہر سیاسی پارٹی نے عوام سے اچھے دنوں کا وعدہ کیا اور ساتھ ہی خواتین کو ایک محفوظ ماحول میں سانس لینے کا بھی وعدہ کیا۔ لیکن کیا یہ صرف ایک وعدہ ہے یا حقیقت میں ایسا ہوگا یا ہورہا ہے؟

سیما مصطفی
،تصویر کا کیپشنبیشتر ماہرین سیاسی پارٹیوں اور میڈیا دونوں سے خفا ہیں

اہم سوال یہ بھی ہے کہ جس ملک کی کل آبادی میں تقریباً اننچاس فی صد خواتین ہیں اور جس ملک میں خواتین کا ریپ، ان کا جنسی استحصال عام بات ہے، وہاں اتنخابات میں ان کی کتنی بات ہوپاتی ہے؟

آل انڈیا ڈیموکریٹک ایسوسی ایشن فار ویمن کی صدر سیہبا تابان کا کہنا ہے ’عورتیں ہی نہیں اس سماج میں جو بھی حاشیے پر ہیں چاہے وہ دلت ہیں، غریب ہیں، مزدور ہیں کسی کی بھی بات کرنا سیاسی ایجنڈے کا حصہ نہیں ہے۔ ساری بحث اس بارے میں ہے کہ کون سیکولر ہے اور کون نہیں۔ اور خواتین تو ہمیشہ ہی کسی بھی ایجنڈے میں ترجیحات کے اعتبار سے سب سے نیچے ہوتی ہیں۔‘

سینیئر صحافی سیما مصطفیٰ کا کہنا ہے کہ انہیں امید تھی کہ دسمبر ریپ کیس معاملے کے بعد شروع ہونے والی بیداری کے بعد انتخابات میں خواتین کے مسائل کی بات ہوگی لیکن ایسا ہوا نہیں؟ ’آپ سیاسی لیڈروں کا کوئی بھی انٹرویو دیکھ لیجیے کسی نے خواتین کے بارے میں ایک بھی سوال نہیں پوچھا ہے۔‘

شوبھا اوزا
،تصویر کا کیپشنکانگریس پارٹی کا کہنا ہے کہ خواتین کی سیکورٹی کے لیے وہ مزید اقدامات کرنا چاہتی ہے

تو کیا ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں تمام کوششوں کے باوجود بھی خواتین کے مسائل کو سنجیدگی سے نہیں لے رہیں اور وہ سیاست میں خواتین کی نمائندگی کو ان کی آبادی کے اعتبار سے بڑھانے میں ناکام رہی ہیں۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کی ترجمان اور خواتین کی شاخ کی سربراہ نرملا سیتارمن کا کہنا ہے کہ ’اس وقت کسی بھی سیاسی پارٹی نے خواتین کی نمائندگی کے بارے میں زیادہ نہیں سوچا ہے اور انتخابات میں اتنی خاتون امیدوار نہیں ہیں جتنی ہونی چاہیے تھیں۔‘

بھارتیہ جنتا پارٹی تو اقتدار میں نہیں تھی لیکن کانگریس پارٹی دس برس سے اقتدار میں ہے۔ اس نے ملک کی خواتین کے لیے کیا کیا؟ کانگریس کی خواتین سیل کی صدر شوبھنا اوزا اپنی حکومت کی کامیابیوں میں جنسی استحصال کے خلاف نئے قانون کوایک بڑی کامیابی سمجھتی ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ انہیں خواتین کی سکیورٹی کے مسئلے کو مزید اہمیت دینے کی ضرورت ہے۔

یہ سچ ہے کہ دسمبر ریپ کیس معاملے کے بعد حکومت اور عوام دونوں کی آنکھیں کھلی ہیں۔ لیکن اس کا اثر کیا ہوا؟ سینٹر فار رسرچ انفارمیشن سینٹر فار ڈیولپنگ کنٹریس کی شپر نگم بتاتی ہیں کہ حکومت نے جو قانون بنایا ہے وہ ایک ’اچھا قانون ہے‘ لیکن اب سوال یہ ہے کہ اس کا نفاذ کیسے کیا جائے کہ کسی کے ساتھ نہ انصافی نہ ہو۔

قانون بن رہے ہیں، کچھ معاملات میں سزائیں بھی ہورہی لیکن تقریبا، پندرہ برسوں سے بھارت میں خواتین کو پارلیمان میں 33 فی صد ریزرویشن کی صرف بات ہورہی ہے؟

سیما مصطفیٰ کہتی ہیں ’خواتین کا ریزرویشن بل تو اب کبھی منظور نہیں ہوگا۔ وہ اس لیے نہیں ہوگا کیونکہ جو سیاسی پارٹیاں اس کو منظور کرانے کے لیے مہم چلا رہی تھیں وہ اب نہیں ہیں۔ اور آج کے دور میں کوئی بھی پارٹی اگر اس بل کو منظور کروانا چاہتی تو وہ کم از کم اپنی پارٹی میں تو خواتین کو 33 فی صد ریزرویشن دیتی۔‘

بھارت میں اس وقت ایک سرگرم میڈیا موجود ہے جو ملک کی سوچ کو کوئی بھی سمت دینے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ تو کیا میڈیا سبھی مسائل پر بات کررہی ہے؟

پیپلی لائیو بنانے والی بالی وڈ فلم ہدایت کار اور سماجی کارکن انوشا رضوی کہتی ہیں کہ میڈیا کو اس کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی ہے۔ ’میڈیا کا تو اس وقت ایک طرفہ کردار ہے۔ وہ ایک بھیڑ چال ہے۔ وہ صرف شخصیات کی بات کررہی ہے۔ خاص طور سے ٹی وی پر کوئی معنی خیز بحث نہیں ہورہی ہے۔‘

انوشا رضوی
،تصویر کا کیپشنانوشا رضوی کا کہنا کہ میڈیا اپنی ذمہ داری صحیح سے نبھارہا ہے

یہ ایک دلچسپ بات ہے کہ بھارت میں فی الوقت مایاوتی، جے للیتا، ممتا بینرجی تین ایسی امیدوار ہیں جو ہوسکتا ہے کل اقتدار سنبھالیں۔ کیا وہ ایک عورت ہونے کے ناطے خواتین کے حالات بدلنے میں اہم ثابت ہوسکتی ہیں؟

سیما مصطفیٰ اس بات سے اتفاق نہ کرتے ہوئے کہتی ہیں یہ تو ایک سوچ کی بات ہے۔ جتنی بھی خواتین آج سیاست میں ہیں وہ تو ایک میل ڈومینٹیڈ اسی سماج سے یہاں تک پہنچی ہیں۔

بھارت میں جب انتخابات شروع ہوئے تھے تو تقریباً ہر سیاسی پارٹی اور بہت حد تک میڈیا میں بھی تقریباً ہر موضوع پر بات ہوئی۔ سیاسی پارٹیوں نے اپنے اپنے منشور میں عوام کی زیادہ سے زیادہ خواہشات کو شامل کرنے کی کوشش کی لیکن دیکھتے ہی دیکھتے ساری انتخابی بحث کب شخصیات کے ارد گرد سمٹ گئی پتا نہیں چلا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ سوا بلین آبادی کے بعض اہم سنجیدہ مسائل کو اس طرح سیاسی بحث میں نظر انداز کرنا ایک افسوسناک بات ہے اور خواتین کی بات نہ کرنا آبادی کے بہت بڑے حصے کو نظر انداز کرنا ہے۔