بھارت: انتخابات میں فریقین کے جنسی نوعیت کے حملے

۔۔۔گذشتہ دنوں لکھنو ضلعے کی انتظامیہ نے بابا رام دیو کے انتخابی جلسوں اور یوگا کیمپ پر پابندی لگا دی تھی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن۔۔۔گذشتہ دنوں لکھنو ضلعے کی انتظامیہ نے بابا رام دیو کے انتخابی جلسوں اور یوگا کیمپ پر پابندی لگا دی تھی
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

’راہل گاندھی وزیراعظم بننے کے لیے شادی نہیں کر رہے ہیں کیونکہ ان کی گرل فرینڈ غیر ملکی ہے اور وہ دلتوں کے گھروں میں ہنی مون اور پکنک منانے جاتے ہیں۔‘

کانگریس کے رہنما راہل گاندھی کے بارے میں جنسی اور ذاتی نوعیت کا یہ بیان بھارت کے ایک بڑے محترم اور مشہور سادھو بابا رام دیو نے دیا۔

بابا رام دیو ان دنوں بی جے پی کے امیدوار نریندر مودی کی حمایت میں جگہ جگہ جلسے جلوس کر رہے ہیں۔ راہل گاندھی اور ان کی ماں سونیا گاندھی ہمیشہ ان کی تقریروں کا محور ہوتے ہیں۔

سماج وادی پارٹی کے رہنما ملائم سنگھ یادو نے گذشتہ دنوں اپنی روایتی حریف اور غیر شادی شدہ رہنما مایاوتی کی ذاتی زندگی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ ’مایاوتی کو شریمیتی (شادی شدہ) کہیں، کنواری بیٹی کہیں یا بہن جی کہیں۔‘

اس کے جواب میں مایاوتی نے کہا کہ ’ملائم اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھے ہیں انھیں آگرہ کے پاگل خانے بھیجنے کی ضرورت ہے۔‘

نریندر مودی کی ذاتی زندگی پر بھی حملہ کیا گیا جو برسوں سے اپنی بیوی سے الگ رہتے رہے ہیں اور کاغذات نامزدگی داخل کرتے وقت فارم میں بیوی کا خانہ خالی چھوڑ دیا کر تے تھے۔ کانگریس کی طرف سے بیان آيا: ’جو اپنی بیوی تک کا خیال نہ رکھ سکا وہ ملک کو کس طرح چلائے گا؟‘

جواب میں مودی نے کاغذاتِ نامزدگی میں پہلی بار بیوی کا نام بھی لکھا۔

لیکن انتخابی مہم کے دوران سب سے سنسنی خیز صورتِ حال بدھ کو پیدا ہوئی جب کانگریس کے سب سے تیز طرار 67 سالہ رہنما دگوجے سنگھ نے اچانک یہ ٹویٹ کیا کہ ان کے ایک 43 سالہ صحافی سے گہرے تعلقات ہیں۔

’وہ اپنے شوہر سے طلاق لینے کا عمل شروع کر چکی ہیں۔ طلاق ہونے کے بعد میں ان سے شادی کر لوں گا۔‘

راہل گاندھی اور ان کی ماں سونیا گاندھی ہمیشہ سادھو بابا رام دیو کی تقریروں کا محور ہوتے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنراہل گاندھی اور ان کی ماں سونیا گاندھی ہمیشہ سادھو بابا رام دیو کی تقریروں کا محور ہوتے ہیں

ان کا یہ ٹویٹ دراصل دگوجے سنگھ اور ان کی صحافی دوست کی کئی تصویریں اور ویڈیوز سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں پر شائع ہونے کے بعد آیا تھا۔ سنگھ کی دوست نے کہا کہ یہ تصویریں ان کا کمپیوٹر ہیک کر کے نکالی گئی ہیں۔

ایک مثبت پہلو یہ رہا کہ بھارتی میڈیا نے اس بار کچھ تحمل کا ثبوت دیا اور انتہائی ذاتی نوعیت کے معاملات کو بہت زیادہ نہیں اچھالا۔ لیکن دگوجے سنگھ کے تعلقات افشا ہونے سے کانگریس کو بھی کچھ سبکی محسوس ہوئی ہے کیونکہ دگوجے ہی مودی کے خلاف ذاتی نوعیت کے سوالات اٹھا رہے تھے۔

انتخابی مہم کے دوران نریندر مودی کے قریبی ساتھی امیت شاہ کی گجرات کے پولیس افسروں کے ساتھ بات چیت کی ایک خفیہ ریکارڈنگ کی ایک سی ڈی بھی سامنے آئی جس میں شاہ پولیس افسروں کو مبینہ طور پر ایک نوجوان لڑکی کی جاسوسی کرنے کی ہدایت دیتے ہیں۔ مہم کے دوران راہل گاندھی اور پریانکا گاندھی نے اس سی ڈی کا کئی بار ذکر کیا اور مودی پر ایک نوجوان لڑکی کی جاسوسی کرنے کا الزام لگایا۔

انتخابی مہم کے ہی دوران ایک عدالت نے سابق مرکزی وزیر اور گورنر نرائن دت تیواری کے بارے میں ڈی این اے کے تجزیے کے بعد یہ فیصلہ سنایا کہ جس لڑکے نے ان کا بیٹا ہونے کا دعویٰ کیا ہے وہ دعویٰ بالکل صحیح ہے اور یہ بیٹا ان کی بیوی سے نہیں بلکہ ایک دوسری خاتون سے تعلقات سے پیدا ہوا۔

انتخابات کی تاریخ میں غالباً یہ پہلا موقع ہے جب حریف رہنماؤں اور جماعتوں نے ایک دوسرے پر حملہ کرنے میں تلخیوں کی کئی حدیں پار کر لیں لیکن جنسی نوعیت کے حملے اور خفیہ تعلقات جیسے معاملات بھارتی انتخابات میں ذرا نئے پہلو ہیں۔