اگر سب کہیں کہ ’ان میں سے کوئی نہیں‘ تو کیا ہوگا

دراصل عدالت کا ارادہ تو صرف یہ تھا کہ جن لوگوں کی توقعات پر کوئی امیدوار پورا نہیں اترتا انہیں اس بٹن کے ذریعہ اپنی ناراضگی ظاہر کرنے کا موقع حاصل ہونا چاہیے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشندراصل عدالت کا ارادہ تو صرف یہ تھا کہ جن لوگوں کی توقعات پر کوئی امیدوار پورا نہیں اترتا انہیں اس بٹن کے ذریعہ اپنی ناراضگی ظاہر کرنے کا موقع حاصل ہونا چاہیے
    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی

’نوٹا‘ نہ ہوتا تو کچھ بھی نہ ہوتا

انڈیا کو نہ راہول اور سونیا گاندھی نے بچایا اور نہ نریندر مودی نے! ملک کو بچانے اور قائم و دائم رکھنے کاسہرا سپریم کورٹ اور قومی الیکشن کمیشن کے سر جاتا ہے جس نے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں’نوٹا‘ یا ’ان میں سے کوئی نہیں‘ کا بٹن فراہم کرکے کروڑوں لوگوں کو ایک نئی زندگی بخشی ہے۔

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ کیسے؟ دراصل عدالت کا ارادہ تو صرف یہ تھا کہ جن لوگوں کی توقعات پر کوئی امیدوار پورا نہیں اترتا انہیں اس بٹن کے ذریعہ اپنی ناراضگی ظاہر کرنے کا موقع حاصل ہونا چاہیے۔ اس وقت لوگ ہنس رہے تھے کہ اگر درجنوں سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں میں سے بھی آپ کو کوئی پسند نہیں آتا تو پھر ملک کے باہر سے صاف ستھرے امیدوار منگوانے چاہیے کیونکہ اگر سب نے ’نوٹا‘ کا بٹن دبانا شروع کر دیا تو پارلیمان کیا خالی رہے گی؟

بہر حال، اس بٹن کی اہمیت اب واضح ہو رہی ہے۔ پہلے بی جے پی کے ایک لیڈر نے کہا کہ جو لوگ نریندر مودی کے خلاف ہیں انہیں پاکستان جانا ہوگا اور اب وفاقی وزیر اور کشمیر کی حکمراں جماعت نیشنل کانفرنس کے سربراہ فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ جو لوگ مودی کو ووٹ دیں گے انہیں سمندر میں کود جانا چاہیے!

اب اگر پاکستان جانے سے آپ بچنا چاہتے ہوں اور سمندر میں کود کر جان دینے میں آپ کی دلچسپی نہ ہو، تو آپ کو معلوم ہی ہوگا کہ آپ کی انگلی کس بٹن کی طرف بڑھنی چاہیے!

ذرا سوچیے کہ جس طرح سے ملک اس وقت مودی کے چاہنے والوں اور مخالفین کے درمیان تقسیم ہے، اگر نوٹا کا بٹن نہ ہوتا تو کیا ہوتا، یہاں کون بچتا! کچھ لوگ ٹرینوں میں بھر کر پاکستان جا رہے ہوتے اور باقی کشتیوں میں سوار ہوکر گہرے سمندر کی طرف!

بھائی کمزور لیکن پارٹی مضبوط

من موہن سنگھ نے کہا کہ ان کے بھائی بالغ اور خود مختار ہیں، اور ان کے کنٹرول میں نہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنمن موہن سنگھ نے کہا کہ ان کے بھائی بالغ اور خود مختار ہیں، اور ان کے کنٹرول میں نہیں

وزیر اعظم من موہن سنگھ کے بھائی بی جے پی میں شامل ہوئے تو نریندر مودی جذباتی ہوگئے۔ دلجیت سنگھ کوہلی کو گلے لگا کر سٹیج سے اعلان کیا کہ ان کے ساتھ آنے سے بی جے پی مضبوط ہوگی!

کیسے، یہ ابھی واضح نہیں ہے کیونکہ بی جے پی خود من موہن سنگھ کو تو تاریخ کا سب سے کمزور وزیر اعظم مانتی ہے! خود کانگریس میں کوئی یہ نہیں کہتا کہ وزیر اعظم کی وجہ سے پارٹی مضبوط ہوئی ہے! توان کے سوتیلے بھائی میں ایسا کیا ہے جو دس سال وزیر اعظم رہنے کے بعد من موہن سنگھ میں نہیں ہے؟

بہرحال، مسٹر کوہلی کے بی جے پی میں جانے سے وزیر اعظم کو کافی تکلیف ہوئی ہے، انہوں نے کہا کہ ان کے بھائی بالغ اور خود مختار ہیں، اور ان کے کنٹرول میں نہیں۔

یہ ہی من موہن سنگھ پر بی جے پی کا سب سے بڑا الزام بھی ہے کہ ان کی حکومت میں بھی سب بالغ اور خود مختار ہی تھے، ان کی کسی نے نہیں سنی!

راہول کامیڈی شو کریں گے

راہول گاندھی اتنے مزاحیہ ہیں کہ ٹی وی پر کپل شرما کا مقبول شو جلدی ہی بند ہو جائےگا: مودی

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنراہول گاندھی اتنے مزاحیہ ہیں کہ ٹی وی پر کپل شرما کا مقبول شو جلدی ہی بند ہو جائےگا: مودی

لگتا ہے کہ نریندر مودی نے اقتدار کی باگ ڈور ابھی سے سنبھال لی ہے اور الیکشن کے بعد کون کیا کرےگا یہ فیصلے بھی کرنا شروع کردیے ہیں۔

اور اپنے وعدے کے مطابق وہ سیاسی وابستگیوں سے اوپر اٹھ کر فیصلے کر رہے ہیں۔ سب سے زیادہ فکر انہیں راہول گاندھی کی ہے، الیکشن کے بعد وہ کیا کریں گے؟ مسٹر مودی کی شاطر نگاہوں سے کچھ نہیں بچتا، ان کا کہنا ہے کہ راہول گاندھی اتنے مزاحیہ ہیں کہ ٹی وی پر کپل شرما کا مقبول شو جلدی ہی بند ہو جائےگا اور اس پروگرام میں کپل کی کامیڈی کی جگہ راہول کی ویڈیو دکھائی جایا کریں گی!

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ انہوں نے کپل شرما کے بارے میں کیا سوچا ہے؟ لیکن سیاسی بحث میں غیرمعمولی تلخی اور الزام تراشی کو دیکھتے ہوئے یہ شبہہ ضرور ہوتا ہے کہ اگر راہول کو وہ کامیڈی نائٹس میں بھیجنا چاہتے ہیں تو لوک سبھا میں حزب اختلاف کے رہنما کے لیے کہیں کپل شرما کا نام تو ان کے ذہن میں نہیں ہے؟