من موہن سنگھ کے بھائی کی بی جے پی میں شمولیت پر تنقید

،تصویر کا ذریعہrangnath singh
بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کے سوتیلے بھائی دلجیت سنگھ کوہلی کی حزبِ اختلاف کی اہم پارٹی بی جے پی میں شمولیت پر کانگریس کے کئی رہنماؤں نے سخت تنقید کی ہے۔
کانگریس کے سرکردہ رہنما دگ وجے سنگھ نے اپنے ایک ٹوئیٹ میں بی جے پی اور نریندر مودی پر تنقید کرتے ہوئے بی جے پی کو ’ڈیسپریڈوز‘ تک کہہ دیا۔
اس کے کئی معنی اور مفہوم ہیں جن میں ’لفنگے‘ کے علاوہ ’مایوسی کے عالم میں سب کچھ کر گزرنے والا دلیر‘ بھی شامل ہے اور کسی بھی معنی کو مثبت تو نہیں کہا جاسکتا۔
انھوں نے سنیچر کو اپنے ٹوئیٹ میں لکھا کہ ’بی جے پی/مودی کی شاپنگ لسٹ میں وزیر اعظم کے رشتے دار اور غیر بی جے پی کے برائے فرخت سیاست داں شامل ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’کیا اس سے بدعنوانی رک سکتی ہے؟‘
مبصرین ان کے اس ٹوئیٹ کو بی جے پی کی جانب سے کانگریس کے سابق رہنماوں کو انتخابات کے لیے دیے جانے والے ٹکٹوں کے جواب کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں۔
واضح رہے کہ وزیر اعظم کے سوتیلے بھائی نے جمعہ کو امرتسر میں نریندر مودی کی ریلی میں باضابطہ طور پر بی جے پی کا دامن تھاما۔

،تصویر کا ذریعہPTI
مودی امرتسر بی جے پی کے سرکردہ رہنما ارون جیٹلی کی تشہیر کے لیے گئے تھے۔ اس موقعے پر انھوں نے کہا: ’آج وزیر اعظم من موہن سنگھ کے بھائی بی جے پی میں شامل ہو گئے ہیں۔ ہم اس سے مضبوط ہوئے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کوہلی ایک تاجر ہیں اور اپنے بھائی کے وزیر اعظم بننے کے بعد بھی وہ سیاست سے دور ہی تھے تاہم بی جے پی میں ان کی شمولیت کو کانگریس کے لیے اچھا نہیں مانا جا رہا ہے۔
کانگریس کے ایک ترجمان شکیل احمد نے کہا کہ وزیر اعظم کے بھائی یا کوئی بھی شخص اس بات کے لیے آزاد ہے اور وہ کوئی بھی جماعت میں شامل ہو سکتے ہیں۔
تاہم من موہن سنگھ کے رشتے کے ایک پوتے رندیپ سنگھ نے بھارتی میڈیا کو بتایا کہ وہ دلجیت سنگھ کے فیصلے سے افسردہ ہوئے ہیں کیونکہ ’من موہن سنگھ ایک ایماندار شخص ہیں جنھوں نے ملک کی ترقی کے لیے کام کیا ہے اور ہمارا سر بلند کیا ہے۔‘







