انتخابی ضابطہ عمل کی خلاف ورزی، مودی کے خلاف ایف آئی آر

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی
بھارت میں وزارت عظٰمی کے لیے بی جے پی کے امیدوار نریندر مودی کے خلاف انتخابی ضابطہ عمل کی خلاف ورزی کے الزام میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔
نریندر مودی نے گجرات کے دارالحکومت گاندھی نگر میں بدھ کی صبح ووٹ ڈالنے کے بعد ایک سیاسی تقریر کی تھی جو براہ راست ٹی وی پر نشر کی گئی۔
انھوں نے ووٹ ڈالنے کے بعد اپنی ایک تصویر بھی ٹوئٹر پر ڈالی جس میں انھوں نے اپنے ہاتھ میں بی جے پی کا انتخابی نشان اٹھا رکھا ہے۔
کمیشن نے کہا کہ نریندر مودی نے انتخابی ضابطہ عمل کی خلاف ورزی کی ہے کیونکہ پولنگ کے دن کسی قسم کی انتخابی مہم کی اجازت نہیں ہے۔
اپنے نوٹس میں کمیشن نے کہا کہ صاف ظاہر ہے کہ یہ ایک سیاسی تقریر تھی جس کا مقصد رائے دہندگان کو متاثر کرنا تھا۔ مودی پورے ملک میں انتخابی نتائج کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
کمیشن نے تقریر نشر کرنے والے ٹی وی چینلوں کے خلاف بھی کارروائی کا حکم دیا ہے۔
نریندر مودی گجرات کے ودودرا حلقے سے الیکشن لڑ رہے ہیں لیکن ان کا ووٹ گاندھی نگر میں ہے جہاں سے بی جے پی کے سابق صدر لال کرشن اڈوانی پارٹی کے امیدوار ہیں۔
مسٹر مودی نے پولنگ بوتھ سے باہر نکل کر کہا تھا کہ ’اب ماں بیٹے کی حکومت کو کوئی نہیں بچا سکتا۔اب ایک مضبوط حکومت اقتدار سنبھالنے والی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی جے پی کی ترجمان میناکشی لیکھی نے کہا کہ: ’ہم الیکشن کمیشن کا احترام کرتے ہیں لیکن نریندر مودی نے ضابطہ عمل کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔۔۔یہ کوئی باقاعدہ پریس کانفرنس نہیں تھی۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty
نریندر مودی بنارس سے بھی الیکشن لڑ رہے ہیں اور 24 اپریل کو جب چھٹے مرحلے کی پولنگ جاری تھی تو وہ ایک بڑے جلوس کی شکل میں کاغذات نامزدگی داخل کرانے پہنچے تھے۔
اس جلوس کو گھنٹوں براہ راست ٹی وی پر دکھایا گیا جس کی وجہ سے کانگریس اور عام آدمی پارٹی نے الیکشن کمیشن سے شکایت کی تھی۔
بدھ کو گجرات کی سبھی 26 سیٹوں کے لیے بھی ووٹ ڈالے گئے۔ اس الیکشن میں گجرات کے نتائج کی خاص اہمیت ہے کیونکہ نریندر مودی گجرات کے وزیر اعلٰی بھی ہیں اور وزارت عظمٰی کے لیے بی جے پی کے امیدوار بھی۔
نگاہیں اس بات پر لگی رہیں گی کہ گجرات میں بی جے پی 26 میں سے کتنی سیٹیں جیتتی ہے۔ اسمبلی کے انتخابات میں تو گجرات میں بی جے پی حاوی رہتی ہے لیکن پارلیمان کے الیکشن میں بی جے پی اور کانگریس کے ووٹ شیئر میں تقریباً پانچ فیصد کا فرق رہتا ہے، جو کافی کم ہے۔
گجرات کے نتائج سے یہ معلوم ہوگا کہ خود اپنی ریاست میں ان کا جادو کتنا چلا۔







