بھارت امریکہ سفارتی تنازع؟ دہلی میں امریکی سفیر مستعفی

،تصویر کا ذریعہAP
- مصنف, برجیش اپادھیائے
- عہدہ, بی بی سی اردو، واشنگٹن
بھارت میں امریکہ کی سفیر نینسی پاول نے اعلان کیا ہے کہ وہ مئی کے آخر میں سرکاری نوکری سے چھٹی لے رہی ہیں اور انھوں نے صدر اوباما کو اپنا استعفیٰ بھیج دیا ہے۔
خیال رہے کہ نینسی پاول بھارت میں سنہ 2012 سے سفیر کی حیثیت سے کام کرتی رہیں ہیں۔
وہ یوگنڈا، گھانا، پاکستان اور نیپال میں امریکی سفیر رہ چکی ہیں۔
بھارتی میڈیا میں خبریں گردش کر رہی تھیں کہ نینسی پاول کو بھارتی سفارت کار دیويانی كھوبراگڑے کی نیو یارک میں گرفتاری سے پیدا ہونے والی کشیدگی کا خمیازہ بھگتنا پڑ سکتا ہے۔
امریکی محکمۂ خارجہ میں اعلیٰ عہدے پر کام کرنے والے ایک سابق اہل کار نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکی حکومت وقت سے قبل اپنے سفیر کو ہٹانے کا فیصلہ بہت ہی غیر معمولی صورت حال میں کرتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے بتایا کہ وکی لیکس کے ذریعے خفیہ امریکی دستاویزات افشا ہونے کے بعد کچھ سفیروں کو ہٹایا گیا تھا کیونکہ وہاں کی حکومتوں نے ان سفیروں کے ساتھ کام کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاول کے معاملے میں ایسا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا کیونکہ بھارت میں ہونے والے انتخِابی سروے کے مطابق انتخابات کے بعد موجودہ حکومت کے لوٹنے کا امکان کم ہے اور ایسے میں سفیر کو تبدیل کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا ان کی ترجیح نہیں ہوگی۔ نئی حکومت کی شکل کیا ہوگا یہ ابھی کہیں طے نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جہاں تک نریندر مودی کو ویزا جاری نہ کرنے کا سوال ہے یا ان سے رابطہ کرنے میں دیر کرنے کی بات ہے تو اس کی ذمہ داری صرف سفیر کی نہیں تھی۔

،تصویر کا ذریعہ Reuters
واضح رہے کہ بھارتی سفارت کار دیویانی كھوبراگڑے کو ان کی نوکرانی سنگیتا رچرڈز کی طرف سے شکایت پر گرفتار کیا گیا تھا۔
اُن پر الزام تھا کہ وہ اپنی گھریلو ملازمہ کو قانون کے مطابق اجرت ادا نہیں کر رہی تھیں۔
دیویانی کھوبراگڑے کو ویزا فراڈ اور اپنی نوکرانی کو انتہائی کم اجرت دینے کے الزامات میں گذشتہ سال 13 دسمبر کو گرفتار کیا گیا تھا اور فردِ جرم عائد ہونے کے بعد امریکہ چھوڑنے کو کہا گیا تھا۔
دوسری جانب امریکی وزارتِ خارجہ نے ان خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ صدر اوباما کو پاول کی قابلیت پر پورا بھروسہ ہے۔
امریکی وزارتِ خارجہ کا کہنا تھا کہ نینسی پاول کی ریٹائرمنٹ کا بھارت کے انتخابات سے کوئی تعلق نہیں اور یہ پہلے سے ہی طے تھا، پاول 37 سال کی کامیاب سروس کے بعد چھٹی لے رہی ہیں اور ڈیلاویئر میں واقع اپنے گھر کو لوٹ رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جہاں تک نریندر مودی کو ویزا جاری نہ کرنے کا سوال ہے یا ان سے رابطہ کرنے میں دیر کرنے کی بات ہے تو اس کی ذمہ داری صرف سفیر کی نہیں تھی۔
لیکن واشنگٹن میں تجزیہ کار یہ ضرور کہہ رہے ہیں کہ اگر بھارت میں ایک نئی حکومت آتی ہے تو نئے سفیر کے لیے نئی شروعات کرنا آسان ہوگا تاہم کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ نئے سفیر کی تقرری میں کئی مہینے لگ سکتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ جب تک اوباما نئے نام کا اعلان کریں گے اس کے کچھ ہی ہفتوں میں امریکی کانگریس کا سیشن ختم ہونے کو ہو گا اور پھر امریکہ میں بھی کانگریس کے انتخابات کی سرگرمی تیز ہو جائے گی جس کے دوران انتظامیہ کی نئی تقرریوں کو منظوری ملنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔







