برقعہ ویسے ہی جیسے چاکلیٹ پر ریپر

شمالی افغانستان میں ایک غیر رجسٹر شدہ سکول پر ہزاروں خواتین کو شدت پسندی کی جانب مائل کرنے کا الزام لگایاگیا ہے۔
بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ صوبہ قندوز میں اشرف المدارس مدرسے میں پڑھایا جا رہا ہے کہ ریڈیو سننا، ٹی وی دیکھنا اور تصاویر اتارنا غیر اسلامی ہیں اور یہ کہ خواتین کو گھر سے باہر نکل کر کام نہیں کرنا چاہیے۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس سکول میں خواتین کے حقوق کو نظر انداز کیا جا رہا ہے تاہم سکول کے بانیوں کا کہنا ہے کہ وہ خواتین کو ضروری اسلامی تعلیمات مہیا کر رہے ہیں۔
یہ مدرسہ چار سال پہلے دو بااثر ملاؤں نے شروع کیا تھا اور یہاں تقریباً چھ ہزار خواتین تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔
اس سکول میں تعلیم حاصل کرنے والی بڑی لڑکیاں اپنا سر چہرہ اور آنکھیں ڈھانپ کر رکھتی ہیں اور ہاتھوں میں دستانے اور پیر میں موزے پہن کر رکھتی ہیں۔ جبکہ کچھ سر سے پیر تک خود کو برقعہ میں بند رکھتی ہیں۔
ایک سرکاری سکول کی ٹیچر واضمہ کا کہنا ہے کہ اس مدرسے کی طالبِ علم جب دوسرے سکول کی بچیوں کو معمول کے لباس میں دیکھتی ہیں تو وہ انہیں برا بھلا کہتی ہیں کہ وہ اپنا جسم پوری طرح نہیں ڈھانپتیں اس لیے وہ گنہگار ہیں۔
مدرسے کے سربراہ مولوی عبدالخلیق اس تنقید کو مسترد کرتے ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس مدرسے کا مقصد لڑکیوں کو تاریخ سمجھانے اور اسلام کی بنیادی تعلیم سے آراستہ کرکے انہیں پُر اعتماد بنانا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ اسلام میں خواتین بھی مذہبی تقاریب میں حصہ لیتی تھیں یہاں تک کہ وہ جنگوں میں بھی شریک ہوتی تھیں لیکن اب مسلمان بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔
اس بارے میں خود اس مدرسے کی لڑکیوں کا کیا کہنا ہے۔

حالانکہ مدرسے کی طالبات کو میڈیا سے بات کرنے کی اجازت نہیں ہے لیکن ایک لڑکی نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی سے بات کی۔
اس لڑکی کا کہنا تھا کہ جس طرح چاکلیٹ پر اگر ریپر نہ ہو تو اس پر مکھیاں بیٹھنے لگیں گی بالکل اسی طرح برقعہ خواتین کا ریپر یا کور ہے۔
اس لڑکی کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان میں ایک پناہ گزین کے طور پر بڑی ہوئی اور اس پہلے ایک پرائیویٹ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی تھی۔
اس لڑکی نے کہا ’میں پہلے تنگ اور چھوٹے لباس پہنا کرتی تھی جو ایک مسلم عورت کے لیے مناسب نہیں ہے لیکن اب مجھے اسلام کی سچائی کا علم ہے اور میں یہ بھی جانتی ہوں کہ مسلم عورتوں کے لیے پارٹیوں میں زور سے بولنا اور قہقہے لگانا بھی مناسب نہیں ہے۔
اشرف المدارس میں دس سال کی عمر سے کم بچیوں کے لیے زیادہ سخت قوانین نہیں ہیں۔
مدرسے کے اصول سخت ہیں اور جو طالبِ علم اپنا سبق یاد نہیں کرتے یا اصولوں کی پابندی نہیں کرتے انہیں سزا بھی دی جاتی ہے۔
افغانستان کے نائب وزیرِ تعلیم شفیق شمیم نے اس مدرسے کے بارے میں تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ تاہم انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ قندوز میں مسائل ہیں۔
اس مدرسے کے ناقدین یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اس کے لیے فنڈز کہاں سے آتے ہیں۔
مولوی عبدل خالحق کا کہنا ہے کہ کچھ خرچہ طالبِ علموں کی جانب سے ملنے والے عطیے سے پورا کیا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ لڑکیوں نے اپنے زیورات فروخت کر کے مدرسے کی عمارت کے لیے بیس ہزار ڈالر کی رقم جمع کی تھی۔
انہوں نے ملک کے دوسرے صوبوں میں بھی اس مدرسے کی شاخیں کھولنے کا ارادہ ظاہر کیا۔







