مردوں کا ’ذہنی سرکٹ‘ عورتوں سے مختلف

انسانی ذہن کے جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ مردوں اور خواتین کے ذہن اپنی ساخت کے اعتبار سے بہت مختلف ہوتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے مردوں اور خواتین میں ذہن کے دائیں اور بائیں نصف کرے کو آپس میں منسلک کرنے والی اندرونی ’تاریں‘ مختلف انداز میں جُڑی ہوتی ہیں۔

ان تاروں سے مراد ان راستوں کی ہے جن کے ذریعے ذہن کے مختلف حصے ایک دوسرے کو پیغامات بھیجتے ہیں۔

نیلا دماغ (اوپر والی دو تصاویر) مرد کا ہے جب کہ نیچے نارنجی سرکٹوں والا دماغ عورت کا ہے
،تصویر کا کیپشننیلا دماغ (اوپر والی دو تصاویر) مرد کا ہے جب کہ نیچے نارنجی سرکٹوں والا دماغ عورت کا ہے

<link type="page"><caption> انسانی دماغ کی پیچیدہ وائرنگ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/science/2013/02/130217_brain_scan_mb.shtml" platform="highweb"/></link>

امریکہ کی یونیورسٹی آف پینسلوینیا میں محققین نے تقریباً ایک ہزار افراد کے ذہنوں کے سکینز کا جائزہ کیا جن میں مرد، عورتیں، لڑکے اور لڑکیاں شامل تھے۔

مردوں کے ذہنوں میں تاروں کا یہ جال سامنے کی جانب سے ذہن کے پیچھے والے حصے کی جانب بچھا ہوتا ہے اور ذہن کے دائیں اور بائیں کروں کو آپس میں منسلک کرنے والی تاریں نسبتاً کم ہوتی ہیں۔

اس کے برعکس خواتین میں ذہن کے دائیں اور بائیں کروں کے درمیان بہت سی تاریں ہوتی ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ شاید یہی وجہ ہے کہ مرد ایک وقت میں ایک کام سیکھنے اور اسے انجام دینے میں تو بہتر ہوسکتے ہیں مگر عورتیں ایک ہی وقت میں کئی کام کرنے کے لیے زیادہ موزوں ہوتی ہیں۔

اس تحقیق کے شرکا سے بطور ٹیسٹ مختلف کام کرنے کے لیے بھی کہا گیا اور ان کے نتائج اس مفروضے کی حمایت کرتے ہیں۔

خواتین نے چیزوں پر غور کرنے، چہروں اور الفاظ کو یاد رکھنے اور سماجی شعور میں سبقت حاصل کی جبکہ مردوں نے اپنے ارد گرد کی جگہ کا اندازہ لگانے اور حرکت کرنے میں تیزی کا مظاہرہ کیا۔

محقق ڈاکٹر روبن گر کا کہنا تھا کہ ’یہ بہت دلچسپ بات ہے کہ خواتین اور مردوں کے ذہن جیسے ایک دوسرے کی مدد کرنے کے لیے بنائے گئے ہوں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ذہن کے اندر پیغامات کے راستوں کا تفصیلی جائزہ لینے سے ہم یہ بہتر طور پر سمجھ سکیں گے کہ مرد اور عورتیں سوچتے کیسے ہیں اور ان سے ہمیں ذہنی امراض کے بارے میں بھی پتا چلے گا۔ ذہنی امراض کا انحصار اکثر مریض کی جنس پر ہوتا ہے۔‘