نیو یارک: بھارتی سفیر دیویانی کے وارنٹ گرفتاری جاری

عدالت نے یہ بھی کہا کہ امریکی حکومت ان پر چاہے تو نئے سرے سے مقدمہ دائر کر سکتی ہے کیونکہ اب دیويانی کے پاس سفارتی استثنیٰ نہیں ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنعدالت نے یہ بھی کہا کہ امریکی حکومت ان پر چاہے تو نئے سرے سے مقدمہ دائر کر سکتی ہے کیونکہ اب دیويانی کے پاس سفارتی استثنیٰ نہیں ہے
    • مصنف, برجیش اپادھیائے
    • عہدہ, نامہ نگار بی بی سی اردو ، واشنگٹن

نیو یارک میں گرینڈ جیوری نے دیويانی كھوبراگڑے کے خلاف ویزا دھوکہ دہی، غلط بياني اور اپنی گھریلو ملازمہ کو مناسب سے کم تنخواہ دینے کے الزام میں گرفتاری وارنٹ جاری کیا ہے۔

نیو یارک میں سرکاری وکیل پریت بھرارا کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ گرینڈ جیوری نے دیويانی کے خلاف نئے سرے سے مقدمہ چلانے کی درخواست کی منظوری دے دی ہے۔

بدھ کو وفاقی عدالت نے كھوبراگڑے کے خلاف چل رہے مقدمے کو یہ کہہ کر خارج کر دیا تھا کہ جب پچھلی بار گرینڈ جیوری نے ان پر مقدمہ چلانے کے لیے منظوری دی تھی اس وقت ان کے پاس سفارتی استثنیٰ حاصل تھا۔

لیکن عدالت نے یہ بھی کہا کہ امریکی حکومت ان پر چاہے تو نئے سرے سے مقدمہ دائر کر سکتی ہے کیونکہ اب دیويانی کے پاس سفارتی استثنیٰ نہیں ہے۔

ہندوستان کی حکومت نے مقدمہ خارج کیے جانے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا تھا لیکن امریکی وزارت خارجہ نے عدالت کے فیصلے پر حیرت کا اظہار کیا تھا۔

’عام قانون موجود‘

امریکی وزارت خارجہ کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ اس طرح کے معاملات میں دوبارہ مقدمہ دائر کرنا عام قانونی عمل کا حصہ ہے۔

اس کے علاوہ محکمہ خارجہ نے دیويانی کو نو جنوری کو امریکہ چھوڑنے کا بھی حکم دیا تھا اور اس کے تحت وہ ابھی امریکہ نہیں آ سکتیں۔

سرکاری وکیل پریت بھرارا کی ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ سارے الزام وہی ہیں جو پہلے تھے اور دیويانی اگر امریکہ آتی ہیں تو ان کے خلاف قانونی کارروائی شروع ہو جائے گی۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ نیو یارک کی عدالت میں حاضر ہونے کے لیے دیويانی کے وکیل کو نوٹس بھیجا جائے گا۔

دیويانی کے وکیل نے فی الحال کوئی بیان نہیں دیا ہے۔

بدھ کے فیصلے سے امید ظاہر کی جا رہی تھی کہ شاید یہ کیس اب ختم ہو گیا ہے لیکن امریکی قانونی عمل کے تحت فی الحال ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا۔