’دنیا کی نظر میں بھارتی جمہوریت شرمسار‘

بھارتی پارلیمان

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنایک رکن نے پارلیمان میں مرچوں کا سپرے کیا جس کے بعد مزید ہنگامہ شروع ہو گیا

تلنگانہ بل کے معاملے پر پارلیمنٹ میں جمعرات کو جس طرح کے ہنگامے ہوئےاس سے لوک سبھا کی سپیکر میرا کمار بھی حیران رہ گئیں اور انھوں نے آندھراپردیش کے 17 ممبران پارلیمنٹ کو معطل کر دیا.

معطل کیے گئے ارکان پارلیمنٹ میں سيمادھرا کے رہنما ایل راج گوپال بھی شامل ہیں جنہوں نے ایوان میں مرچوں کا سپرے چھڑک دیا تھا، جس کے بعد ایوان میں افراتفری مچ گئی تھی۔

اس پورے واقعے پر مختلف سیاسی رہنماؤں نے مِلا جلا ردِ عمل ظاہر کیا ہے۔

لوک سبھا کی سپیکر میرا کمار نے کہا ’اس واقعے نے دنیا کی نظر میں ہندوستانی جمہوریت کو شرمسار کیا ہے ہماری جمہوریت کی پوری دنیا میں تعریف ہوتی ہے لیکن اب یہ واقعہ ہماری جمہوریت پر دھبہ ہے۔‘

کانگریس لیڈر دگ وجے سنگھ نے کہا کہ ’یہ ہندوستانی جمہوریت کے لیے شرم کی بات ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ذمہ دار ممبرانِ پارلیمان کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے۔‘

انھوں نے کہا: ’15 ویں لوک سبھا میں ریکارڈ وقت برباد کیا گیا ہے، عوام اپنے نمائندوں کو پارلیمنٹ میں بھیجتے ہیں کہ وہ بحث میں حصہ لے سکیں لیکن زیادہ تر وقت اس بات میں خرچ ہوتا ہے کہ اگر آپ ہماری بات نہیں سنتے تو ہم پارلیمنٹ نہیں چلنے دیں گے۔‘

لوک سبھا میں اپوزیشن کی رہنما سشما سوراج نے کہا کہ پارلیمنٹ میں جو ہوا اس کے لیے کانگریس ذمہ دار ہے۔

سشما سوراج نے ایک ٹی وی چینل سے کہا: ’مجھے لگتا ہے کہ یہ ہنگامہ کانگریس کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔‘

بی جے پی رہنما روی شنکر پرساد نے کہا کہ حکمراں پارٹی میں نظم و ضبط کے فقدان کی وجہ سے ہی ایوان کی کارروائی میں خلل پیدا ہوگیا ہے۔

لوک سبھا میں ہونے والے ہنگامےپر تنقید کرتے ہوئے تیلنگانہ راشٹر سمیتی (ٹی آر ایس) کے سربراہ کے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ ہنگامے میں شامل ممبران پارلیمنٹ کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔

انھوں نے کہا: ’آج پورے ملک کو پتہ چل گیا کہ تیلنگانہ کے لوگ کیوں آندھرا پردیش سے الگ ہونا چاہتے ہیں۔ ان ممبران پارلیمنٹ کا برتاؤ پورے ملک کو دیکھنا چاہیے۔‘