’من موہن سنگھ مستعفی نہیں ہوں گے‘

من موہن سنگھ نے اپنے دس سال کے دورِ اقتدار میں اب تک صرف دو پریس کانفرنسیں کی ہیں اور دو ہی مرتبہ اخباروں کے مدیران سے ملے ہیں
،تصویر کا کیپشنمن موہن سنگھ نے اپنے دس سال کے دورِ اقتدار میں اب تک صرف دو پریس کانفرنسیں کی ہیں اور دو ہی مرتبہ اخباروں کے مدیران سے ملے ہیں
    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

بھارت کے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات منیش تیواڑی نے اس قیاس آرائی کو مسترد کر دیا ہے کہ کانگریس پارٹی کے نائب صدر راہل گاندھی کی تاج پوشی کی راہ ہموار کرنے کے لیے وزیر اعظم من موہن سنگھ اپنے استعفے کا اعلان کرسکتے ہیں۔

منیش تیواڑی نے کہا کہ منگل کی صبح سے میڈیا میں گردش کرنے والی یہ خبر بالکل بے بنیاد ہے اور میڈیا کو ذمے داری سے کام لینا چاہیے۔

بھارت میں قیاس آرائی اس خبر کے ساتھ شروع ہوئی تھی کہ وزیر اعظم من موہن سنگھ تین جنوری سنہ 2014 کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر کے ممکنہ طور پر اپنے استعفے کا اعلان کر سکتے ہیں تاکہ ملک میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے پہلے راہل گاندھی حکومت کی باگ ڈور سنبھال سکیں۔

بھارتی وزیر اعظم شاذ و نادر ہی پریس سے بات کرتے ہیں۔ انھوں نے اپنے دس سال کے دورِ اقتدار میں اب تک صرف دو پریس کانفرنسیں کی ہیں اور دو ہی مرتبہ اخباروں کے مدیران سے ملے ہیں۔ وزیر اعظم کے دفتر نے بھی اس قیاس آرائی کو بے بنیاد قراد دیا ہے۔

بھارت میں رواں ماہ چار ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس پارٹی کی شکست کے بعد سونیاگاندھی نے اعلان کیا تھا کہ وزیر اعظم کے عہدے کے لیے پارٹی کے امیدوار کا اعلان مناسب وقت پر کر دیا جائے گا۔

سونیا گاندھی کے اس بیان کا یہ مطلب نکالا گیا کہ کانگریس اگر جیت بھی جاتی ہے تب بھی من موہن سنگھ وزیر اعظم نہیں بنیں گے۔

بھارت میں یہ قیاس آرائی بھی کی جا رہی ہے کہ 17 جنوری کو کانگریس پارٹی کے اجلاس میں یہ اعلان کیا جاسکتا ہے کہ پارٹی کی جانب سے وزیر اعظم کے عہدے کے امیدوار راہل گاندھی ہوں گے
،تصویر کا کیپشنبھارت میں یہ قیاس آرائی بھی کی جا رہی ہے کہ 17 جنوری کو کانگریس پارٹی کے اجلاس میں یہ اعلان کیا جاسکتا ہے کہ پارٹی کی جانب سے وزیر اعظم کے عہدے کے امیدوار راہل گاندھی ہوں گے

اسی ہفتے وزیر خزانہ پی چدمبرم نے بھی کہا تھا کہ ان کی ذاتی رائے یہ ہے کہ پارٹی کو اپنے رہنما کا اعلان کردینا چاہیے کیونکہ لوگ یہ جاننا چاہتے ہے کہ پارلیمانی انتخابات میں پارٹی کی قیادت کون کرے گا۔

بھارت میں یہ قیاس آرائی بھی کی جا رہی ہے کہ 17 جنوری کو کانگریس پارٹی کے اجلاس میں یہ اعلان کیا جا سکتا ہے کہ پارٹی کی جانب سے وزیر اعظم کے عہدے کے امیدوار راہل گاندھی ہوں گے۔

اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی سرگرم ہوگئے ہیں اور انھوں نے اہم اور متنازع موضوعات پر کھل کر بیان بھی دیے ہیں۔

بھارت کی حزب اختلاف کی جماعتیں اور تجزیہ نگار راہل گاندھی پر تنقید کرتے رہے ہیں کہ وہ ذمے داری سے بچتے ہیں اور پالیسی کے معاملات پر اپنی رائے ظاہر نہیں کرتے۔

بھارت میں پارلیمانی انتخابات اپریل میں متوقع ہیں اور ماضی کے ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے بحیثیت وزیر اعظم من موہن سنگھ کی یہ آخری پریس کانفرنس ثابت ہوسکتی ہے۔