چین: بیس برس سے گٹر میں رہنے پر مجبور

چین کی کوان یوجھی غربت کی وجہ سے گزشتہ بیس برس سے ایک چھوٹے سے گٹر میں رہنے پر مجبور ہیں۔
چین کے سرکاری اخبار چائنا ڈیلی میں شائع ہونے والی اس خبر کے مطابق کوان یوجھی گزشتہ بیس برس سے زمین کے اندر رہ رہی ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ بے حد غریب ہیں اور ان کے پاس اپنے آبائی وطن جانے کے لیے پیسے تک نہیں ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شانگزی کے مشرقی علاقے میں موجودہ اپنا گھر منہدم ہوجانے کے بعد کوان یوجھی بیجنگ میں ایک سڑک کنارے بنے گٹر کے اندر رہنے لگیں۔
کوان کو جب نہانا دھونا ہوتا ہے تو قریب موجود پارک میں بنے ایک غسل خانے میں چلی جاتی ہیں۔ ان کے خاوند بھی ان کے ساتھ اس گٹر میں رہتے ہیں اور دونوں میں اکثر لڑائی ہوتی ہے۔
کوان جس گٹر میں رہتی ہیں وہاں سے گرم پانی کا پائپ بھی گزرتا ہے۔ یہ گرم پانی کا پائپ ان کے لیے راحت بھی اور آفت بھی۔

سردی میں ان کے رہنے کی جگہ گرم رہتی ہے لیکن گرمی کا موسم آتے ہیں گرم پانی کا پائپ کوان کے لیے تکلیف کا باعث بن جاتا ہے۔
گرمی کے موسم میں یہ گٹر اتنا تپنے لگتا ہے کہ کوان کو باہر آکر کھڑے ہونا پڑتا ہے۔
برسات میں کوان کو آسمان کو نیچے سونا پڑتا ہے کیونکہ بارش میں یہ گٹر پانی میں پوری طرح ڈوب جاتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

کوان روزی روٹی کے لیے خالی ڈبے اور بوتلیں اکٹھا کرتی ہے۔ ان کی خواہش ہے کہ وہ ایک گھر بنائیں مگر اس کے لیے ان کے پاس پیسے نہیں ہے۔
چین میں کہا جارہا ہے کہ غریبوں اور مزدوروں کے لیے رہائش ایک سنگین مسئلہ بنتا جارہا ہے۔
چین یوتھ یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر چین تاؤ نے چائنا ڈیلی اخبار کو بتایا ’چین کا آئین کہتا ہے کہ اپنے بزرگ والدین کی اقتصادی مدد کرنا ان کے خاندان کی ذمہ داری ہے۔‘

بیجنگ کی ’کریم ویب سائٹ‘ میں ایک رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے اخباروں میں کوان کی کہانی شائع ہونے کے بعد انتظامیہ کوان کا گھر بنانے کا انتظام کررہی ہے۔
اس خبر کے منظر عام پر آنے کے بعد کوان اور ان کے جیسے بزرگوں کے گٹروں میں بنے ان عارضی گھروں کو سیمنٹ سے بند کردیا گیا ہے۔







