چین کار دھماکہ: پانچ مشتبہ افراد حراست میں

پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے چین کے دارالحکومت بیجنگ کے معروف تیانامن سکوئر پر پیر کو ہونے والے کار بم دھماکے میں پانچ مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے۔
چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شن ہوا کے مطابق پولیس نے اس واقعے کو پہلی بار ’شدید دہشت گردانہ حملہ‘ قرار دیا ہے۔
کار میں سوار تینوں افراد کا تعلق چین کے سنکیانگ علاقے میں اویغور کی مسلم اقلیتی برادری سے بتایا جاتا ہے۔
اس حملے میں دو راہگیر مارے گئے تھے جبکہ 38 افراد زخمی ہو گئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق کار بھیڑ میں گھس کر دھماکے سے پھٹی اور فوری طور پر شعلوں کی گرفت میں آ گئی تھی۔
شن ہوا کے مطابق پولیس نے کہا ہے کہ تیانامن سکوئر پر جو کچھ ہوا وہ ’شدید دہشت گردانہ حملہ تھا جو احتیاط کے ساتھ منصوبہ بند طریقے سے کیا گیا۔‘
پولیس نے کہا کہ جو جیپ پل پر فاربیڈن سٹی سے ٹکرائی اسے ایک شخص چلا رہا تھا جب کہ اس میں اس کی ماں اور بیوی بھی موجود تھی۔
انھوں نے کہا کہ تینوں نے جیپ میں پٹرول چھڑک کر آگ لگائی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ پیر کو انہیں جو گاڑی ملی اس میں پٹرول کا ایک کنستر، دو چاقو اور ایک پرچم تھا جس پر شدت پسندانہ مذہبی نعرہ لکھا ہوا تھا۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ کار کی نمبر پلیٹ سنکیانگ صوبے میں رجسٹر ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس کا کہنا تھا کہ انھوں نے بیجنگ میں ایک دوسری جگہ سے بھی کچھ چاقو دستیاب کیے جہاں ایک پرچم بھی تھا۔
بدھ کو شائع ہونے والی خبروں میں کہا گیا ہے کہ آٹھ مشتبہ افراد کے بارے میں پولیس کی جانب سے ایک نوٹس بیجنگ کے ہوٹلوں میں گردش کر رہا ہے اور ان افراد کے بارے معلومات حاصل کی جارہی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ان میں سے سات افراد کے نام اویغور نسل کے مخصوص گروپ سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ آٹھواں نام بظاہر چین کی اکثریتی برادری ہان سے تعلق رکھتا ہے۔
پیر کو ہونے والے حملے میں مرنے والے ایک سیاح کا تعلق فلپائن سے تھا جبکہ دوسرے سیاح کا تعلق گوانگ ڈونگ صوبے سے تھا۔ زخمی ہونے والے 38 افراد میں سے تین فلپائن کے سیاح ہیں، جب کہ ایک کا تعلق جاپان سے ہے۔







