گیتیکا شرما کے والد 10 سال سے انصاف کے منتظر: ’میرے زخم ابھی تک ہرے ہیں‘

- مصنف, رویندر سنگھ شیوران
- عہدہ, بی بی سی ہندی کے لیے
ایک 60 سالہ شخص 14 اکتوبر 2022 کو دہلی میں ڈسٹرکٹ کورٹ کی چھٹی منزل پر سی بی آئی کے خصوصی جج وکاس دھول کی عدالت کے باہر پڑی کالی لوہے کی کرسیوں پر انتظار کر رہا تھا۔ عدالتی کارروائی شروع ہوتے ہی انھیں انصاف ملنے کا انتظار تھا۔ وہ گذشتہ 10 سال سے اس انصاف کے منتظر ہیں۔
دنیش شرما اپنی بیٹی کی خودکشی کے بعد گذشتہ 10 برسوں سے ایک ریڈی میڈ گارمنٹس کی دکان کا کام چھوڑ کر اسی طرح انصاف کی امید لگائے عدالت میں آتے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ 10 سال سے اُن کی زندگی کا یہ اصول بن گیا ہے کہ ہر تاریخ کو بیٹے انکت کے ساتھ عدالت میں حاضر ہونا پڑتا ہے۔
ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ انھیں ڈرانے دھمکانے کی مسلسل کوششیں کی گئیں یہاں تک کہ ایک بار ان پر حملہ بھی ہوا۔
حملے میں انھیں معمولی چوٹیں آئیں، معاملہ پولیس کے پاس گیا۔ گیتیکا کے والد کو بھی شبہ ہے کہ یہ حملہ گوپال کانڈا نامی شخص نے کروایا تھا۔
ان کا کیس طویل عرصے سے عدالت میں ہے تاہم انھیں امید ہے کہ ان کی بیٹی کو انصاف ضرور ملے گا۔
ایئر ہوسٹس گیتیکا شرما نے 5 اگست 2012 کو خودکشی کر لی تھی اور خودکشی سے قبل لکھی گئی اپنی تحریر میں انھوں نے لکھا کہ وہ گوپال کانڈا کی وجہ سے اپنی جان لے رہی ہیں۔ گیتیکا کی موت کے چھ ماہ بعد اُن کی والدہ نے بھی خودکشی کر لی۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
بیٹی کے بعد ماں نے کیوں خودکشی کی
ابتدائی طور پر اس معاملے میں پولیس نے گوپال کنڈا پر خودکشی کے لیے اُکسانے کا مقدمہ درج کیا تھا، لیکن گیتیکا کے خودکشی نوٹ کو دیکھنے کے بعد، دہلی کی مقامی عدالت نے ریپ کیس میں کانڈا پر مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کانڈا نے اسے دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا، جس کے بعد ریپ کے الزامات کو خارج کر دیا گیا اور خودکشی کے لیے اُکسانے جیسے الزامات کے تحت کیس جاری رکھنے کے احکامات جاری کیے۔
دنیش شرما کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی وجہ سے ان کی زندگی میں سب کچھ بدل گیا۔ بات کرتے کرتے دنیش شرما کی آواز بھرا گئی اور چھت کی طرف دیکھتے ہوئے انھوں نے ہاتھ جوڑ کر کہا کہ ’میرا گھر اجڑ گیا۔‘ وہ کہتے ہیں کہ ’گیتیکا کے جانے کے چھ ماہ بعد اس کی والدہ نے بھی خودکشی کر لی تھی۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’اگرچہ 10 سال گزر چکے ہیں، میرے زخم ابھی تک ہرے ہیں۔ گوپال کانڈا اور ارونا چڈھا نے ہمارا سب کچھ تباہ کر دیا۔‘
دنیش اس دن کو یاد کرتے ہیں کہ ’جب گیتیکا نے اپنی نوکری چھوڑ دی، گوپال کانڈا اور اس کی بیوی اسے منانے کے لیے ان کے گھر آئے تھے، کافی تحقیر کے بعد، جنوری 2011 میں، وہ گوپال کانڈا کی کمپنی میں کام پر واپس آ گئی۔‘
دنیش شرما نے روتے ہوئے کہا کہ اگر وہ دوبارہ کام پر نہیں جاتیں تو شاید ہمیں یہ دن نہ دیکھنا پڑتے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
گوپال کانڈا کے وکیل کیا کہتے ہیں
ساتھ ہی اس معاملے میں ملزم گوپال کانڈا بھی دیگر ملزمان ارونا چڈھا اور ان کے وکلا اور ساتھیوں کے ساتھ عدالت کے باہر کارروائی شروع ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔
جج وکاس دھول کی عدالت میں ٹھیک 10.38 بجے کارروائی شروع ہوئی اور کانڈا کے وکیل ایم ایس ملک نے اس وقت کے ایڈیشنل اسسٹنٹ ڈپٹی کمشنر آف پولیس راجیو رنجن سے جرح شروع کی، جو اس کیس کے تفتیشی افسر تھے۔
کیس کی سماعت کے دوران کانڈا کے وکیل کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ پولیس ریکارڈ میں ڈاکٹر وشاکھا منجال کے بیان کے علاوہ اس بات کی تصدیق کرنے کے لیے کوئی ثبوت نہیں ہے کہ گیتیکا کا اسقاط حمل کیا گیا تھا۔
یہ راجیو رنجن ہی تھے جنھوں نے اس معاملے میں تفتیشی افسر کے طور پر ایک ہزار سے زیادہ صفحات کی چارج شیٹ داخل کی تھی۔ راجیو رنجن اس وقت دہلی، انڈمان اور نکوبار جزائر پولیس سروس کے افسر تھے اور اب وہ ترقی کے بعد آئی پی ایس بن گئے ہیں۔
انڈمان اور نکوبار میں تعینات، راجیو رنجن اس معاملے میں گواہی دینے کے لیے 14 اکتوبر 2022 کو ساؤتھ ایونیو ڈسٹرکٹ کورٹ میں خصوصی طور پر آئے تھے۔
عام طور پر چارج شیٹ نچلی سطح کے افسران ہی داخل کرتے ہیں لیکن معاملے کی حسّاسیت کو دیکھتے ہوئے اسے اعلیٰ حکام کے حوالے کر دیا گیا۔ 14 اکتوبر کو عدالتی کارروائی تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہی۔
عدالت میں کانڈا کے وکیل کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ گیتیکا کے خاندان کے ساتھ کانڈا کے خاندان نے بھی کئی بار دہلی سے باہر سفر کیا ہے۔
جس میں ایک بار گیتیکا کا خاندان سرسا میں گوپال کانڈا کی رہائش گاہ اور گوا اور شرڈی کے سفر پر بھی گیا تھا۔
اس کے جواب میں دنیش شرما کا کہنا ہے کہ ’گوا جانے کی وجہ گیتیکا کی جانب سے وہاں کے ایک تھانے میں کیس کی کارروائی تھی۔ اسی سفر کے دوران وہ شرڈی مندر بھی گئے۔‘
گوپال کنڈا کے وکیل نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ کمپنی نے گیتیکا کو تقریباً ساڑھے سات لاکھ روپے دے کر دہلی کے لودھی روڈ پر واقع آئی آئی ایل ایم انسٹیٹیوٹ میں ایم بی اے میں داخلہ بھی دلایا تھا۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
گوپال کانڈا نے کیا کہا؟
اس معاملے پر اپنا موقف واضح کرتے ہوئے ملزم گوپال کانڈا نے عدالت پر اپنا اعتماد ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ میرے خلاف سیاسی سازش ہے۔
انھوں نے کہا کہ ان کا گیتیکا سے موت سے پہلے تقریباً تین ماہ تک کوئی رابطہ نہیں ہوا تھا اور ان تمام سالوں کے کام کے دوران ان کی طرف سے کوئی شکایت نہیں تھی۔
کانڈا نے کہا کہ اس کیس سے میری سیاسی زندگی بھی بہت متاثر ہوئی ہے لیکن مجھے اس عدالت سے انصاف کی امید ہے۔
اب اس کیس کی اگلی سماعت 14 نومبر کو ہو گی۔
اگست 2012 میں جب یہ معاملہ سامنے آیا تو اسے میڈیا میں کافی جگہ ملی لیکن اب میڈیا کے شور سے ہٹ کر ملزمان اور متاثرہ فریق وکلا کی جرح اور شواہد کے درمیان اس کیس کے ختم ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔
سپریم کورٹ نے حال ہی میں مقامی عدالتوں میں چل رہے مقدمات کی تفصیلات اور وجوہات جاننے کی کوشش کی ہے جو پانچ سال سے زیادہ عرصے سے زیر التوا ہیں۔ جس کی وجہ سے اب یہ معاملہ بھی جلد ختم ہونے کی امید ہے۔
اس کیس میں ابھی دو اہم گواہوں کو پیش ہونا باقی ہے جن میں سے ایک امریکہ کا رہنے والا شریش تھوراٹ ہے اور دوسرا گواہ اس کیس کا تفتیشی افسر ہے۔

،تصویر کا ذریعہHindustan Times
گیتیکا شرما کون تھی؟
گیتیکا شرما نے ایئر ہوسٹس بننے کا خواب دیکھا۔ 18 اکتوبر 2006 کو وہ گوپال کانڈا کی کمپنی ایم ڈی ایل آر (مرلی دھر لاکھ رام) ایئر لائنز میں ٹرینی کیبن کریو ممبر بنیں۔ یہ ایئر لائن اب بند ہو چکی ہے۔
اس وقت گیتیکا کی عمر صرف ساڑھے سترہ سال تھی۔ یعنی وہ ابھی بالغ بھی نہیں ہوئی تھی۔ اس لیے گیتیکا کو چھ ماہ تک ٹریننگ پر رکھا گیا اور اس کے بعد انھیں کیبن کریو میں شامل کر لیا گیا۔ انھیں 28 اگست 2008 کو سینیئر کیبن کریو کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔
یہ بھی پڑھیے
گیتیکا نے پانچ اگست 2012 کو خودکشی کر لی تھی۔ کانڈا پر ایئر ہوسٹس گیتیکا کی خودکشی کے لیے اکسانے کا الزام ہے۔ گیتیکا نے اپنے خودکشی کے نوٹ میں کانڈا پر مختلف الزامات عائد کیے تھے۔
اس معاملے میں اہم ملزم ارونا چڈھا کو 8 اگست اور گوپال کنڈا کو 18 اگست 2012 کو گرفتار کیا گیا تھا۔ گیتیکا کی ماں انورادھا نے بھی 16 فروری 2013 کو خودکشی کر لی تھی۔
کانڈا اور اس کے ساتھیوں کو بھی اس کے خودکشی نوٹ میں ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔ پھر تقریباً ڈیڑھ سال بعد مارچ 2014 میں کانڈا کو ضمانت مل گئی۔ اس کے بعد دہلی ہائی کورٹ نے ان کے خلاف ریپ کا الزام ختم کر دیا تھا۔
تاہم گیتیکا خودکشی کیس میں ان پر مقدمہ چل رہا تھا جو اب بھی جاری ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
گوپال کانڈا کون ہے؟
سرسا کے رہنے والے گوپال کانڈا نے اپنی زندگی کا آغاز سرسا شہر میں جوتوں کی ایک چھوٹی دکان سے کیا۔ اس کے بعد وہ سرسا کے طاقتور سیاستدان اوم پرکاش چوٹالہ خاندان کے قریب ہو گئے اور وہ آہستہ آہستہ کامیابی کی سیڑھیاں چڑھنے لگے۔
سنہ 1999 اور 2004 کے درمیان جب ہریانہ میں آئی این ایل ڈی کی حکومت تھی، گوپال کانڈا کا کاروبار کافی پھیلا ہوا تھا۔ چوٹالہ حکومت کے جانے کے بعد، گوپال کانڈا نے 2009 میں آزاد امیدوار کے طور پر چوٹالہ خاندان سے فاصلہ رکھتے ہوئے کامیابی حاصل کی اور بھوپندر سنگھ ہڈا کی حکومت میں وزیر مملکت برائے داخلہ بن گئے۔
سنہ 2012 میں گیتیکا خودکشی کیس کے بعد انھیں استعفیٰ دینا پڑا اور وہ جیل بھی گئے۔ جیل سے آنے کے بعد گوپال کانڈا نے ’ہریانہ لوکیت‘ کے نام سے پارٹی بنائی۔ اس کے ساتھ انھوں نے سنہ 2014 کا اسمبلی الیکشن بھی سرسا سے لڑا تھا لیکن پھر انھیں انڈین نیشنل لوک دل کے مکھن لال سنگھل نے شکست دی تھی۔
سنہ 2019 کے انتخابات میں کامیابی کے بعد گوپال کانڈا نے حکمراں بی جے پی کو غیر مشروط طور پر اپنی حمایت کا اعلان کیا تھا۔
لیکن بی جے پی نے میڈیا میں معاملہ اٹھائے جانے کی وجہ سے کانڈا کی حمایت لینے سے انکار کر دیا تھا۔
گوپال کانڈا کے بھائی گووند کانڈا بی جے پی کے رُکن ہیں اور انھوں نے سال 2021 میں ایلن آباد ضمنی انتخاب میں بی جے پی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا تھا۔










