انڈیا: جھارکھنڈ میں لڑکی کو جلا کر ہلاک کرنے کے الزام میں دو افراد گرفتار

’وہ گزشتہ کچھ عرصے سے میری بیٹی کو پریشان کر رہا تھا، دس بارہ روز قبل اس نے انکیتا کی کسی سہیلی سے اس کا نمبر لے لیا اور بار بار فون کر کے اسے تنگ کرنے لگا۔ میری بیٹی نے مجھے اس بارے میں بتایا تو پہلے تو میں نے نظر انداز کر دیا۔ لیکن بائیس اگست کی شام اس نے انکیتا سے کہا کہ اگر وہ اس سے نہ ملی تو وہ اسے جان سے مار دے گا۔‘
یہ بیان انڈین ریاست جھارکھنڈ کے شہر دمکاے رہائشی سنجیو سنگھ کا ہے۔ وہ انکیتا کے والد ہیں جسے انہیں کے محلے کے رہائشی شاہ رخ حسین نامی ایک نوجوان شخص نے یکطرفہ پیار کے نام پر آگ لگا دی۔
اس واقعے کے بعد مشرقی انڈیا کے متعدد شہروں میں احتجاج ہو رہا ہے۔
انکیتا محص انیس برس کی تھی۔ اسے رانچی کے ایک ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا، جہاں اس نے آخری سانسیں لیں۔
انکیتا کے والد نے بتایا ’جب انکیتا نے مجھے دھمکی والی بات بتائی تب تک رات ہو چکی تھی۔ میں نے سوچا کہ صبح اس لڑکے اور اس کے گھر والوں سے بات کروں گا۔ اسی درمیان 23 اگست کی الصبح اس نے کھڑکی کے پاس سوئی میری بیٹی کے اوپر پیٹرول چھڑک کر جلتی ہوئی ماچس کی تیلی پھینک دی۔ انکیتا اس حادثے میں بری طرح جھلس گئی۔ ہم اس کی جان نہیں بچا سکے۔ میری معصوم بیٹی مر گئی۔‘
پولیس نے اس معاملے میں دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم شاہ رخ گزشتہ کئی روز سے انکیتا کو فون کر کے پریشان کر رہا تھا۔ دوسرے شخص چھوٹو خان کو اس جرم میں ساتھ دینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسی نے شاہ رخ کو پیٹرول فراہم کرایا۔
انڈیا کے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق وہاں سالانہ ہزاروں ایسے واقعات کی پولیس کے پاس شکایت درج کرائی جاتی ہے جن میں کوئی لڑکا کسی لڑکی کو پریشان کر رہا ہو۔
صنفی حقوق کے لیے کام کرنے والوں کا دعویٰ ہے کہ اصل تعداد سرکاری اعدادوشمار سے کہیں زیادہ ہے کیوں کہ بیشتر معاملوں میں تو متاثرین خوف زدہ ہوکر پولیس کے پاس جاتے تک نہیں ہیں۔
گزشتہ چند برسوں میں ایسے متعدد معاملے سامنے آتے رہے ہیں جن میں یکطرفہ پیار کے دعوؤں کی بنیاد پر کسی لڑکی پر تیزاب پھینک دیا گیا۔
انکیتا کے معاملے میں انڈیا میں بھڑکنے والے احتجاج کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مقتولہ اور ملزم کا تعلق مختلف مذاہب سے بھی ہے۔
انکیتا کے رشتہ داروں نے بتایا کہ وہ ایسی لڑکی تھی جو سب کا بہت خیال رکھتی تھی، اپنے گھر والوں سے بہت محبت کرتی تھی اور آگے پڑھنا چاہتی تھی۔
انکیتا کی دادی وملا دیوی نے بتایا ’وہ سرکاری نوکری حاصل کرنا چاہتی تھی تاکہ گھر کے اخراجات اٹھانے میں اپنے والد کی مدد کر سکے۔‘
انکیتا کی والدہ کینسر کے سبب ڈیڑھ برس قبل انتقال کر گئیں۔ گھر میں انکیتا کے دادا، دادی، والد اور چھوٹا بھائی ساتھ رہتے تھی۔
ان کی دادی نے بتایا ’انکیتا کی والدہ کے انتقال کے بعد اس نے اپنے چھوٹے بھائی کا ماں کی طرح خیال رکھا۔ وہ بہت حساس لڑکی تھی۔‘

انکیتا کا بیان
انکیتا نے انتقال سے قبل 23 اگست کی صبح ہسپتال میں مقامی میڈیا اور انتظامیہ کے ایک اہلکار سے بات کی تھی۔
اس کے بیان کا ویڈیو اب سوشل میدیا پر وائرل ہو رہا ہے۔ بعد میں اسے بہتر علاج کے لیے وہاں سے رانچی ایک ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا جہاں انکیتا نے آخری سانسیں لیں۔
اس ویڈیو میں انکیتا سنگھ نے کہا ’اس کا نام شاہ رخ ہے، وہ دس پندرہ روز سے تنگ کر رہا تھا۔ ہم سکول جاتے تھے تو آگے پیچھے آتا تھا۔ میرا نمبر کسی سے لے لیا تھا۔ کہتا تھا کہ بات نہیں کرے گی تو ایسے کریں گے، ویسے کریں گے۔ سب کو ماریں گے۔ وہ بہت سی لڑکیوں سے بات کرتا تھا۔ انہیں گھماتا تھا۔ اس نے ہم کو رات ساڑھے آٹھ بجے دھمکی دی تھی۔ اور چار بجے صبح ایسا کر کے چلا گیا۔‘
معاملے میں سیاسی رنگ
انکیتا کی ہلاکت کے بعد سے مقامی ہندو قوم پرست ادارے یہ دعویٰ بھی کر رہے ہیں کہ یہ ’لو جہاد‘ کا معاملہ تھا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ شاہ رخ ایک ہندو لڑکی کو مذہب تبدیل کرنے کے لیے مجبور کر ہا تھا۔
پولیس اہلکار امبر لکڑا نے بی بی سی کو بتایا کہ اس معاملے کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ شاہ رخ گزشتہ کئی روز سے انکیتا کو فون کر کے پریشان کر رہا تھا۔
انہوں نے کہا ’ہم معاملے کی سنجیدگی کا خاص خیال رکھ رہے ہیں کیوں کہ ہم جانتے ہیں کہ لڑکے اور لڑکی کا تعلق مختلف مذاہب سے ہے۔‘

بھارتی جنتا پارٹی ریاست جھارکھنڈ میں حزب اختلاف کی جماعت ہے اور دعوے کر رہی ہے کہ ریاستی حکومت نے فوری اقدامات نہیں کیے۔
یہ بھی پڑھیے:
ریاست میں مقامی مکتی مورچہ پارٹی کی راہنمائی والی متحدہ حکومت ہے جس کا کہنا ہے کہ معاملے کی تفتیش کی ذمہ داری ایک سینیئر اہلکار کو سونپی گئی ہے۔ اس کے علاوہ انکیتا کے خاندان والوں کو معاوضے کے علاوہ یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ انہیں جلد انصاف ملے گا اور مجرم کو سخت سزا دی جائے گی۔
جھارکھنڈ کی ہائی کورٹ نے بھی پولیس سے رپورٹ مانگی ہے اور انکیتا کے خاندان والوں کو سکیورٹی فراہم کرانے کے احکامات بھی جاری کیے ہیں۔
انکیتا کو پہلے جس ہسپتال لے جایا گیا تھا وہاں کے ڈاکٹر نے بتایا کہ اس کا جسم 45 فیصد جھلس چکا تھا۔
اپنا نام واضح نہ کرنے کی شرط پر انہوں نے بتایا کہ انکیتا کا چہرہ جلنے سے بچ گیا تھا لیکن جسم بری طرح جل گیا تھا۔
انکیتا کی دادی نے کہا ’ہمارے پاس اب اس کی یادوں کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اس کے بغیر یہ گھر خالی لگتا ہے۔‘






