انڈیا: کیرالہ میں دو خواتین کی مبینہ قربانی، باغیچے سے جسم کے 61 ٹکڑے برآمد، ’تیز دھار چاقو سے بے دردی سے کاٹا گیا‘

پولیس اور مقامی افراد

،تصویر کا ذریعہPTI

    • مصنف, بی سدھاول
    • عہدہ, بی بی سی تمل سروس کے لیے

انتباہ: اس رپورٹ کے کچھ حصے آپ کے لیے پریشان کن ہو سکتے ہیں۔

انڈیا کی جنوبی ریاست کیرالہ میں دو خواتین کی مبینہ انسانی قربانی کے معاملے میں مزید چونکا دینے والی معلومات سامنے آ رہی ہیں۔ انسانی قربانی کے لیے ریاست تمل ناڈو کی ایک خاتون سمیت دو خواتین کو اغوا کیا گیا تھا۔

اس واقعہ کے سامنے آنے کے بعد الانتھور، جہاں یہ واقعہ پیش آیا، کے لوگ انتہائی حیران ہیں۔ یہاں رہنے والے بہت سے لوگوں کو شبہ ہے کہ گرفتار شفیع نامی ملزم نے ان دو قربانیوں کے علاوہ مزید قتل بھی کیے ہوں گے۔

واضح رہے کہ پولیس نے 49 سالہ روزلین اور 52 سالہ پدمم کے قتل کے الزام میں منگل کو تانترک بھگاول سنگھ، ان کی بیوی لیلیٰ اور ایک ریستوران کے مالک معمد شفیع کو گرفتار کیا تھا۔

ڈینڈیگُل کی ایک خاتون نے اپنی شناخت ظاہر کیے بغیر بی بی سی سے بات کی۔ وہ ملزم بھگاول سنگھ کے گھر کے قریب ہی رہتی ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ بھی پراسرار شخص شفیع کے جال میں پھنسنے والی تھیں لیکن آخری وقت میں کسی طرح بچ گئيں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میں شفیع سے ملنے ہی والی تھی، اس نے مجھے کہا کہ وہ مجھے ایک لاکھ روپے تک دے گا لیکن آخری لمحات میں میرا ارادہ بدل گیا اور میں اس کے ساتھ نہیں گئی۔ پھر شفیع روزلین کو لے گیا۔‘

شفیع کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ وہ یقین نہیں کر سکتیں کہ ان کا شوہر اتنا گھناؤنا جرم کر سکتا ہے۔

پولیس نے بھگاول سنگھ کے گھر کے باغیچے سے ان دونوں مقتول خواتین کی لاشوں کے 61 حصے برآمد کیے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ انھیں تیز دھار چاقو سے بے دردی سے کاٹا گیا۔ یہ بھی پتا چلا ہے کہ ان میں سے 56 حصے پدما نامی خاتون کے تھے، جبکہ ہڈیوں کے پانچ حصے روزلین کے تھے۔

بدھ کے روز ان میں سے 35 حصوں کو پوسٹ مارٹم اور تجزیہ کے لیے بھیج دیا گیا تھا۔ باقی حصوں کو جمعرات کو جانچ کے لیے بھیجا گیا۔

دونوں خواتین کے جسموں کے حصے مل جانے کے بعد ان کے ڈی این ٹیسٹ کے لیے ان خواتین کے لواحقین کے خون کے نمونے بھی لیے گئے تاکہ ان کی تصدیق ہو سکے۔

کیرالہ

مقامی لوگ کیا کہتے ہیں؟

الانتھور کے رہائشی شاجی کا کہنا ہے کہ اس قتل کے واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد ہم سب حیران رہ گئے اور صدمے میں ہیں۔

’آج کے دور میں جب معاشرہ اتنا پڑھا لکھا اور ترقی یافتہ ہے، اس قسم کا واقعہ انتہائی خوفناک ہے۔ دولت کے لیے یہ انسانی جان کی قربانی دی گئی۔ یہ واقعہ کوڈاتھیئی کے واقعے سے بھی زیادہ خوفناک ہے جہاں ایک ہی خاندان کے چھ لوگوں کو زہر دے دیا گيا تھا۔‘

شاجی اس واقعے کا ذکر کر رہے تھے جس میں ایک خاتون نے زہر کھلا کر اپنے ہی خاندان کے چھ افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔

مقامی دکاندار جو، پچھلے دو سال سے بھگاول سنگھ کے گھر کے پاس رہ رہے ہیں، کا کہنا ہے کہ وہ بھگاول سنگھ کے خاندان کو اچھی طرح سے نہیں جانتے، بس آتے جاتے وہ ان کی طرف دیکھ کر مسکرا دیا کرتے تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’وہ ایک آیوروید وید (جڑی بوٹیوں والے حکیم) ہیں۔ بہت سے لوگ ان کے پاس علاج کے لیے جاتے تھے۔ وہ اور ان کی بیوی لیلیٰ لوگوں سے اچھی طرح سے بات کرتے تھے۔

’جب انھیں گرفتار کیا گیا تو ہم سب سوچ رہے تھے کہ اس بے قصور جوڑے کو کیوں گرفتار کیا جا رہا ہے لیکن جب حقیقت سامنے آئی تو ہم سب حیران رہ گئے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ پولیس کو اس معاملے کی مزید سنجیدگی سے مکمل تفتیش کرنی چاہیے کیونکہ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ یہاں دو سے زیادہ قتل ہوئے ہوں گے۔

پولیس

پولیس تفتیش

مقامی لوگوں کے مطابق پولیس نے ان سے یہ بھی پوچھا ہے کہ وہ بھگاول سنگھ کے بارے میں کیا جانتے ہیں اور کیا انھیں کبھی ایسا محسوس ہوا کہ وہ مشہور ہونا چاہتے ہیں۔

باغیچے سے جب جسم کے اعضا کو نکالا جا رہا تھا تو پنچایت کی رکن سالی لالو وہاں موجود تھیں۔ وہ اس واقعے کی سرکاری گواہ بھی ہیں۔

سالی لالو نے کہا کہ ’ملزم پولیس کو جگہ بتا رہے تھے اور وہیں سے جسم کے اعضا نکالے جا رہے تھے، میں اس کی گواہ ہوں۔ ایسا لگتا تھا جیسے کسی کھیت سے آلو نکالے جا رہے ہوں۔ جسم کے اعضا کو درستگی کے ساتھ کاٹا گیا تھا۔‘

وہ کہتی ہیں کہ یہ ایک ایسا منظر تھا جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھیے

پولیس نے دوپہر ایک بجے کھدائی شروع کی اور رات دس بجے تک جسم کے حصوں کی تلاش جاری رہی۔ جائے وقوعہ سے مقتول خواتین کے زیر استعمال سامان جیسے لپ سٹک، پرس، چشمے (عینک) وغیرہ بھی برآمد ہوئے ہیں۔

سالی لالو کا کہنا ہے کہ ’پہلے ہمیں سر ملا، پھر بازو۔ جب ملزمان سے جسم کے باقی حصوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے مختلف جگہوں کی طرف اشارہ کیا۔ وہاں کھدائی کی گئی تو باقی حصے ملے۔ پولیس کو اس کی تحقیق کرنی ہے کہ کیا یہاں دوسری انسانی قربانیاں بھی تو نہیں دی گئیں۔‘

روزلین کی بیٹی منجو ورگیس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’جنوری سنہ 2015 سے 2022 تک اتر پردیش میں ٹیچر تھیں۔ وہ جنوری میں کیرالہ کے کالاڈی میں اپنی ماں کے ساتھ رہنے آئی تھیں۔ اگلے ہی دن انھوں نے ایک ٹرسٹ کے ساتھ کام کرنا شروع کر دیا تھا۔‘

روزلن (بائيں) اور پدما

’میری ماں لاٹری کے ٹکٹ نہیں فروخت کرتی تھیں‘

منجو نے 6 جون کو کلاڈی پولیس سٹیشن میں اپنی ماں کی گمشدگی کی شکایت درج کرائی تھی۔

وہ کہتی ہیں کہ انھیں میڈیا رپورٹس سے جوڑے سمیت تین افراد کی گرفتاری کا علم ہوا۔

منجو کا کہنا ہے کہ ان کی ماں کالاڈی میں رہتی تھیں، بھائی اڈوکی میں اور وہ وڈاکانچیری میں رہتی تھیں۔ جب منجو نے اپنی ماں کو اپنے پاس رہنے کو کہا تو انھوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ سارا سامان لانا مشکل ہو گا۔

میڈیا رپورٹس میں روزلن کے بارے میں کہا گیا کہ وہ لاٹری کے ٹکٹ فروخت کرتی تھیں تاہم منجو اس کی تردید کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کی والدہ آیورویدک (جڑی بوٹیاں) مصنوعات فروخت کرتی تھیں۔

پولیس والوں نے منجو کو چھتری، کاسمیٹکس اور بیگ دکھایا جس کی شناخت انھوں نے کی کہ یہ چیزیں ان کی ماں کی ہیں۔

روزلن کی شناخت کی تصدیق کے لیے منجو کا ڈی این اے نمونہ لیا گیا ہے اور اسے جانچ کے لیے تریوندرم میڈیکل کالج بھیج دیا گیا ہے۔

جب شفیع کے بارے میں پوچھا گیا تو منجو نے کہا کہ وہ اسے نہیں جانتی۔

جمعرات کو ارناکولم کی ایک عدالت نے شفیع، بھگاول سنگھ اور لیلیٰ کو 12 دن کی پولیس حراست میں بھیجا ہے۔