کیرالہ میں ’دولت کے حصول کے لیے‘ دو خواتین کی مبینہ قربانی

،تصویر کا ذریعہBBC/ARUN CHANDRA BOSE
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
انڈیا کی جنوبی ریاست کیرالہ میں ’امیر بننے کی ہوس میں‘ دو خواتین کی مبینہ انسانی قربانی دینے کا معاملہ سامنے آیا ہے جس کے بعد پولیس نے تین افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزموں نے مبینہ طور پر دونوں خواتین کو مارنے کے بعد ان میں سے ایک مقتولہ کا گوشت بھی کھایا تھا۔ ملزموں میں سے ایک خود ساختہ ہیلر یعنی جادو ٹونے کرنے والا بتایا جاتا ہے۔
کوچی سٹی پولیس کمشنر سی ایچ ناگا راجو نے بتایا ہے کہ ’ایک خاتون پدمم کا قتل ستمبر کے آخری ہفتے میں کیا گیا تھا اور دوسری خاتون کا قتل جون میں کیا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق ’ملزمان نے ان دونوں خواتین کو انتہائی بے دردی سے قتل کرنے کے بعد ان کی لاشیں اپنے گھر میں ہی دفنا دی تھیں۔ ملزموں نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے اور ہم نے ان کی تصدیق بھی کر لی ہے۔‘
پولیس نے 49 سالہ روزلی اور 52 سالہ پدمم کے قتل کے الزام میں منگل کو تانترک بھگول سنگھ، ان کی بیوی لیلی اور ایک ریستوران کے مالک معمد شفیع کو گرفتار کر لیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC/ARUN CHANDRA BOSE
انھیں 26 اکتوبر تک عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا ہے۔ سٹی پولیس کمشنر سی ایچ راجو نے آج میڈیا کو مزید بتایا کہ ’ہمیں پتا چلا ہے کہ ملزمان نے پہلی مقتولہ روزلی کا گوشت بھی کھایا تھا۔
’ہمیں صرف معلوم ہوا ہے لیکن ہمارے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے۔ اس طرح کے کیسز میں اس طرح کے واقعات کے امکانات ہوتے ہیں اور ہم ان کی گہرائی سے تفتیش کر رہے ہیں۔‘
ابتدائی اطلاعات کے مطابق شفیع اور بھگول سنگھ مالی مشکلوں سے گزر رہے تھے۔ کسی نے بگھول سنگھ کو مالی تنگی سے نکلنے کے لیے انسانی قربانی دینے کی صلاح دی۔ شفیع نے اس منصوبے میں اس کا ساتھ دیا اور اطلاع کے مطابق ’انسانی قربانی کے وقت ملزموں نے جادو ٹونے بھی کیے تھے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
روزلی اور پدمم دونوں خواتین لاٹری کے ٹکٹ فروخت کرنے کا کام کرتی تھیں۔ وہ محمد شفیع کے ریستوراں میں کھانے پینے کے لیے اکثر جایا کرتیں۔ وہیں پر ان کی ریستوراں کے مالک محمد شفیع سے جان پہچان ہو گئی۔
شفیع تانترک بھگول سنکھ اور اس کی بیوی لیلی کا دوست تھا۔ تانترک کے کہنے پر شفیع ان خواتین کو پیسے کی لالچ دے کر بھگول سنگھ کے گھر لے گیا۔ روزلی چھ جون کو اور پدمم 26 ستمبر کو غائب ہوئی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہPHOTO SUPPLIED BY ARUN CHANDRA BOSE
پولیس کو شک ہے کہ ان خواتین کی گمشدگی کے 24 کھنٹے کے اندر انھیں قتل کیا گیا۔ پدمم کے گھر والوں نے گمشدگی کی رپورٹ 27 ستمبر کو درج کروائی تھی۔
اس قتل کا سراغ اس وقت ملا جب پولیس پدمم کے رشتے داروں کے ذریعے درج کروائی گئی گمشدگی کی رپورٹ کی تفتیش کرتے ہوئے شفیع تک پنہچے۔ فون کالز اور دوسرے شواہد سے پولیس کو پتہ چلا کہ پدمم شفیع سے رابطے میں تھیں۔











