’اگر ان کا دماغ درست کرنا ہے تو ان کا بائیکاٹ کریں‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا میں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی یعنی بی جے پی کے رکن پارلیمان پرویش ورما نے گزشتہ اتوار کو دہلی میں منعقدہ ایک جلسہ عام میں ایک مخصوص' کمیونٹی' کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی ہے۔
انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس میں شائع خبر کے مطابق پرویش ورما نے یہ بیان وشو ہندو پریشد کے پروگرام 'ویراٹ ہندو سبھا' میں شرکت کرتے ہوئے دیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ 'آپ انہیں جہاں بھی دیکھتے ہیں میں کہتا ہوں کہ اگر ان کا دماغ ٹھیک کرنا ہے تو اس کا ایک ہی علاج ہے، اور وہ ہے ان کا مکمل بائیکاٹ... کیا آپ اس سے اتفاق کرتے ہیں؟اگر ہاں تو اپنے ہاتھ اٹھا کر بتاییں ... مجھ سے بات کریں۔ .. ہم ان کا مکمل بائیکاٹ کریں گے، ہم ان کی دکانوں، ان کے ٹھیلوں سے کوئی سامان نہیں خریدیں گے، انہیں کوئی اجرت نہیں دیں گے'۔
اس واقعہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں وہاں موجود ہجوم ورما کے الفاظ دہراتے ہوئے سنائی دے رہا ہے۔
اسی تقریب میں شریک ایک اور شخص جگت گرو یوگیشور نے کہا ہے، 'اگر ایسے لوگ ہمارے مندروں کو انگلی دکھائیں تو ان کی انگلی نہ کاٹیں، ان کا ہاتھ کاٹ دیں '۔
اسی تقریب میں ایک اور شخص راہول بھارتی نے کہا ہے کہ 'اگر آپ تانڈو یعنی ناچنے کی کوشش کریں گے تو آپ کا ایک بھی مدرسہ نہیں بچے گا اور ایک مسجد بھی نہیں بچے گی، ہندو کو کمزور مت سمجھو۔ ہندو انڈیا کے آئین کی پابندی کرتا ہے۔ اگر آپ اس ملک میں رہنا چاہتے ہیں، تو پھر ملک کے آئین پر عمل کرنا پڑے گا'۔
یہ جلسہ چند روز قبل مشرقی دہلی میں ایک ہندو نوجوان منیش کے قتل کے خلاف احتجاج میں منعقد کیا گیا تھا۔ دہلی پولیس نے اس معاملے میں چھ نوجوانوں ساجد، عالم، بلال، فیضان، محسن اور شاکر کو گرفتار کیا ہے۔
جب پرویش ورما سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ انہوں نے کسی خاص کمیونٹی کا نام نہیں لیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اپنی صفائی دیتے ہوئے انہوں نے کہا'میں نے ان خاندانوں یا ان لوگوں کا بائیکاٹ کرنے کے لیے کہا ہے جو ایسے کام کرتے ہیں، اگر ایسے خاندان کسی قسم کا ریسٹورنٹ یا کاروبار چلاتے ہیں تو ان کا بائیکاٹ کیا جائے، میرے علاقے میں بھی ایسے جرائم ہوئے ہیں اور ایسے واقعات میں ان کے کاروباری اداروں کا بائیکاٹ کیا جائے گا'۔
یہ بھی پڑھیئے









