انڈیا میں مسلمان رہنما کا گھر منہدم کرنے کا معاملہ: ’میرے ابو راتوں رات پتھراؤ اور تشدد کیس کے ماسٹر مائنڈ کیسے بن گئے؟‘

سمییا فاطمہ
،تصویر کا کیپشن’میرے والد کو پھنسایا جا رہا ہے‘
    • مصنف, اننت جھنانے
    • عہدہ, نامہ نگار بی بی سی ، پریاگ راج

گذشتہ ہفتے انڈیا کے علاقے پریاگ راج میں پولیس نے جمعہ کی نماز کے بعد ہونے والے پتھراؤ اور تشدد کے کیس میں جاوید محمد کو مرکزی ملزم قرار دیتے ہوئے گرفتار کیا اور پھر اتوار کو پریاگ راج ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (پی ڈی اے) نے اُن کے گھر کو منہدم کر دیا۔

پی ڈی اے کا کہنا ہے کہ جاوید محمد کا گھر غیر قانونی طور پر بنایا گیا تھا اور اس سلسلے میں انھیں مئی کے مہینے میں ہی نوٹس بھیجا گیا تھا۔ پی ڈی اے کی کارروائی پر سخت ردعمل سامنے آ رہا ہے۔

بی بی سی ہندی نے جاوید محمد کی چھوٹی بیٹی سمیعہ فاطمہ اور ان کے وکیل کے کے رائے سے بات کر کے پورے معاملے کو سمجھنے کی کوشش کی۔

سمعیہ فاطمہ کا کہنا ہے کہ یہ گھر اُن کے والد کے نام پر نہیں بلکہ اُن کی والدہ پروین فاطمہ کے نام پر ہے۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس گھر کا نقشہ پاس نہیں ہوا لیکن یہ مسئلہ صرف ان کا ہی نہیں پورے شہر کا ہے۔ جاوید محمد کی بیٹی سمعیہ فاطمہ نے بتایا کہ وہ اور ان کا خاندان گذشتہ 20 سال سے اس گھر میں رہ رہے ہیں۔

’میرے والد راتوں رات ماسٹر مائنڈ کیسے بن گئے‘

پولیس کے اس دعوے پر کہ ان کے والد پریاگ راج تشدد کے ماسٹر مائنڈ تھے، سمعیہ نے کہا: ’ہم پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے والد کو پھنسایا جا رہا ہے۔ اس میں ان کا کوئی ہاتھ نہیں تھا۔ اگر آپ ان کی آخری فیس بک پوسٹ دیکھیں تو اس میں بھی وہ امن کی بات کر رہے ہیں۔ جو شخص امن اور ہم آہنگی کی بات کرتا تھا اور جو ہمیشہ انتظامیہ کے ساتھ تعاون کرتا رہا ہے وہ اچانک راتوں رات ماسٹر مائنڈ کیسے بن گیا؟‘

پولیس کی جانب سے جاوید محمد پر لگائے گئے الزامات پر سمعیہ نے کہا کہ ’اس مظاہرے میں ان کا کوئی ہاتھ نہیں تھا اور نہ ہی انھوں نے کسی کو بلانے کی کوشش کی اگر پولیس الزامات لگا رہی ہے تو وہ کس بنیاد پر الزام لگا رہی ہے، وہ ہمارے سامنے ثبوت پیش کیوں نہیں کر رہے، سچ یہ ہے کہ میرے والد لوگوں کو احتجاج میں آنے سے منع کر رہے تھے۔ انھوں نے اپنی آخری پوسٹ میں بھی یہی اپیل کی تھی کہ اگر کوئی احتجاج کرنا چاہتا ہے تو انتظامیہ کے پاس جائے اور سڑک پر شور شرابہ نہ کریں۔‘

منہدم شدہ گھر

،تصویر کا ذریعہANI

،تصویر کا کیپشنانتظامیہ نے جاوید محمد کے گھر کو پوری طرح منہدم کر دیا

سمعیہ نے بتایا کہ رات تقریباً 8.30 بجے پولیس اُن کے والد کو بات چیت کرنے کا کہہ کر اپنے ساتھ لے گئی۔ چار پانچ گھنٹے کے بعد پولیس سمیعہ اور ان کی والدہ پروین فاطمہ کو بھی بات چیت کے نام پر ساتھ لے گئی۔ ’ہم سے کہا گیا تھا کہ ہمیں وہاں لے جایا جا رہا ہے جہاں ابو ہیں، لیکن ہمیں خواتین کے تھانے لے جایا گیا، پہلے ہم سے ہمارے نام پوچھے گئے اور یہ بھی پوچھا گیا کہ ابو گھر میں کس طرح کی باتیں کرتے ہیں۔ رات کے وقت ہمیں کہا گیا کہ ہم فون کر کے گھر خالی کروائیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

سمعیہ نے کہا کہ ’پہلے پولیس کا رویہ ہمارے ساتھ ٹھیک تھا، لیکن ایک ایک کر کے تمام خواتین کانسٹیبل آئیں اور عجیب و غریب باتیں کرنے لگیں، ہمیں دھمکیاں دیں۔ اس کے بعد ایک مرد کانسٹیبل نے آ کر میری ماں کو ہندی میں گالی دی۔ ہم جمعہ اور ہفتہ کی رات وہیں رہے۔ اس کے بعد اتوار کو ہمیں ایک رشتہ دار کے گھر چھوڑ دیا گیا۔ اس کے کچھ دیر بعد ہمارا گھر منہدم کر دیا گیا۔‘

’امی کی زمین تھی مکان کا نقشہ منظور شدہ نہیں تھا‘

زمین کی ملکیت کے سوال پر سمعیہ نے کہا کہ ’یہ زمین میری والدہ کی ہے، ہمارے نانا نے انھیں تحفے میں دی تھی۔ ہم پانی کا بِل اور گھر کا ٹیکس ادا کرتے تھے۔ ہمارے پاس تمام کاغذات موجود ہیں، وہ بھی امی کے پاس ہیں کیونکہ زمین امی کے نام پر ہے۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ مکان گرانے کی کیا وجہ تھی تو سمعیہ نے کہا کہ ’نقشہ پی ڈی اے سے پاس نہیں ہوا تھا، اس کی کوئی وجہ تھی، کئی بار ہم گھر میں اس بارے میں بات کرتے تھے۔ ابو کو پریشانی ہوئی کہ مکان کا نقشہ منظور نہیں کیا گیا، لیکن اس پر کم از کم 25 سے 30 لاکھ روپے کا خرچ آ رہا تھا۔‘ انھوں نے کہا کہ پریاگ راج میں کئی ایسے گھر ہیں جن کے نقشے پاس نہیں ہوئے ہیں۔

گھر

،تصویر کا ذریعہANI

،تصویر کا کیپشنمنہدم کرتے وقت گھر سے سامان نکالا جا رہا ہے۔

’گھر سے غیر قانونی اسلحہ برآمد ہوا تو نظر کیوں نہیں آیا‘

جاوید محمد کے گھر سے غیر قانونی اسلحہ اور قابل اعتراض مواد برآمد ہونے کے پولیس کے دعوے پر ان کی بیٹی نے کہا کہ جب ان کا گھر گرایا جا رہا تھا تو اس کا لائیو براڈ کاسٹ ہو رہا تھا، اندر سے جو سامان نکل رہا تھا وہ سب نے دیکھا۔ ’اس وقت ہمارے گھر سے نہ کوئی ہتھیار ملا اور نہ ہی کوئی اور چیز۔ اب گھر ٹوٹنے کے بعد پولیس کو ہتھیار مل رہے ہیں۔‘

سمعیہ نے یہ بھی بتایا کہ ان کے والد کے پاس لائسنس یافتہ بندوق ہے لیکن یہ بھی الیکشن کے وقت انتظامیہ کے پاس جمع کروا دی گئی تھی اور آج تک ہمیں بندوق گھر واپس لانے کا وقت نہیں ملا۔‘

آخر میں انھوں نے کہا کہ گھر دوبارہ بن جائے گا، لیکن اب ایک خاندان دوبارہ نہیں بن سکے گا۔ ’انھوں نے ایک خاندان توڑ دیا ہے۔‘

ساتھ ہی خاندان کے وکیل کے کے رائے نے بھی اسی بات کو دہرایا اور کہا کہ گھر کی مالک پروین فاطمہ ہیں نہ کہ جاوید محمد۔ ان کا کہنا تھا کہ ’بلڈوزر پالیسی‘ خود قانون اور آئین کی خلاف ورزی ہے۔ ’اس معاملے میں دوہری غلطی ہوئی ہے، پہلے تو انھوں نے جاوید محمد کا گھر گرانے کا اعلان کیا لیکن انھوں نے جو گھر گرایا وہ جاوید محمد کا نہیں تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ ایک دن کی بھی مہلت دیے بغیر مکان گرا دیا گیا۔

رائے نے یہ بھی کہا کہ نقشہ پاس نہ ہونے کی صورت میں بھی اتر پردیش اربن ڈویلپمنٹ ایکٹ میں مکان کو گرانے کا کوئی قانون نہیں ہے گھر کو سیل کیا جا سکتا تھا۔

مزید کارروائی پر کے کے رائے نے کہا کہ ہم اس انہدام کے خلاف سپریم کورٹ میں پٹیشن بھی دائر کریں گے۔ ہم جاوید محمد کی اہلیہ اور بچوں کی غیر قانونی حراست کا معاملہ ہائی کورٹ میں الگ سے اٹھائیں گے۔