پیغمبر اسلام سے متعلق توہین آمیز تبصروں پر انڈیا میں مظاہرے، ‘پولیس کریک ڈاؤن میں مسلمانوں کے مکانات منہدم کرنا غیر قانونی ہے‘

،تصویر کا ذریعہ@RAKESHS_IPS
- مصنف, نیاز فاروقی
- عہدہ, بی بی سی، نئی دہلی
انڈیا میں حکام نے بی جے پی کے سابق رہنماؤں کے پیغمبر اسلام سے متعلق توہین آمیز تبصروں کے خلاف مظاہروں کے دوران مظاہروں کو منظم کرنے اور فسادات کو انجام دینے کے الزام میں سینکڑوں لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ صرف ریاست اتر پردیش میں 300 سے زائد لوگوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
ملک کے کئی حصوں میں مسلمانوں نے نماز جمعہ کے بعد بی جے پی رہنماؤں کے توہین آمیز بیانات کے خلاف مظاہرے کیے تھے جو کئی مقامات پر پُرتشدد ہو گئے۔
مشرقی شہر رانچی میں مبینہ طور پر گولی لگنے سے کم از کم دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں، تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ انھیں گولی کن حالات میں لگی۔ حالانکہ متوفی کے لواحقین نے پولیس کو موت کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔
پولیس کی بربریت کی متعدد ویڈیوز، خاص طور پر یوپی سے، سوشل میڈیا پر سامنے آئی ہیں۔
ایک معاملے میں یوپی میں ریاستی اسمبلی کے رکن اور بی جے پی کے رہنما شلبھ منی ترپاٹھی نے سہارنپور سے ایک پرتشدد ویڈیو ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’فساد کرنے والوں کے لیے تحفہ واپسی۔‘
اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس ایک کمرے کے اندر کرتوں میں ملبوس نوجوانوں کو بے رحمی سے پیٹ رہی ہے۔
یوپی میں حکام نے ہفتے کے آخر میں مسلمانوں کی ملکیت والے کم از کم تین مکانات کو بھی مسمار کر دیا تھا اور یہ الزام لگایا کہ وہ غیر قانونی ہیں۔ حالانہ اس دعوے کی مالکان نے تردید کی ہے۔
یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے میڈیا ایڈوائزر، مرتیونجے کمار نے بلڈوزر کی ایک تصویر ٹویٹ کی اور لکھا کہ ’آوارہ عناصر یاد رکھیں، ہر جمعہ کے بعد ہفتہ آتا ہے۔‘ واضح رہے کہ احتجاج جمعہ کو شروع ہوا اور گھروں کو مسمار ہفتہ اور اتوار کو کیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہ@PRAYAGRAJ_POL
‘پولیس کریک ڈاؤن میں مسلمانوں کے مکانات منہدم کرنا غیر قانونی ہے‘
تجزیہ کاروں نے پولیس کے سخت کریک ڈاؤن اور مسلمانوں کے مکانات کی مسماری کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ انڈین ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے الہٰ آباد ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس گووند ماتھر نے ان کاروائیوں کو ’مکمل طور پر غیر قانونی‘ قرار دیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’اگر آپ ایک لمحے کے لیے یہ مان بھی لیں کہ یہ تعمیر غیر قانونی تھی، لیکن کروڑوں انڈین اسی طرح رہتے ہیں۔ یہ جائز نہیں ہے کہ آپ اتوار کو ایک مکان کو گرا دیں جب کہ گھر والے حراست میں ہوں۔‘
مسمار کیے گئے گھروں میں سے دو ان لوگوں کے ہیں جن پر پولیس نے پتھراؤ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ تیسرے کا تعلق ایک مقامی سیاسی جماعت ویلفیئر پارٹی آف انڈیا سے ہے، جو اس پارٹی کی مرکزی ورکنگ کمیٹی کے رکن ہیں اور ان کا نام جاوید احمد ہے۔
پولیس نے ان پر کاروبار بند کرنے کی کال دینے کا الزام لگایا ہے اور انھیں حراست میں لے لیا ہے۔
تاہم انھوں نے جمعہ کی نماز سے پہلے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر ہندی میں لکھی گئی ایک پوسٹ میں لوگوں سے درخواست کی تھی کہ وہ پرامن طریقوں پر عمل کریں اور اپنی شکایات درج کرانے کے لیے حکومت کو درخواست دیں۔
انھوں نے لکھا کہ ’اگر آپ کسی بھی معاملے پر حکومت سے بات کرنا چاہتے ہیں تو بہترین طریقہ یہ ہے کہ وقت نکال کر اپنی بات یا مطالبے کو میمورنڈم کے ذریعے حکام تک پہنچایا جائے۔ یہ شہر ہمیشہ امن پسند رہا ہے، حالات کو دیکھتے ہوئے ہمیں خاموشی سے دعا کرنی چاہیے۔ نماز پڑھ کر اللہ کے حضور سلامتی کی دعا مانگنی چاہیے۔‘
وکلا کے ایک گروپ کی طرف سے الہٰ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو دی گئی درخواست کے مطابق یہ گھر جاوید احمد کی اہلیہ پروین فاطمہ کا تھا اور انھیں یہ ان کے والد نے ان کی شادی سے پہلے تحفے میں دیا تھا۔
درخواست میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ مقامی حکام نے انھیں انہدام سے صرف ایک دن قبل نوٹس دیا تھا، اور وہ بھی پہلے کی تاریخوں کا تھا۔
گھر سے برآمد ہونے والی دستاویزات کے بارے میں ایس ایس پی اجے کمار نے کہا کہ ان میں غیر قانونی اسلحہ، ناگریز پوسٹرز اور جاوید احمد کے عدالت سے متعلق سخت اور قابل اعتراض تبصرے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ان تمام چیزوں کو شواہد میں شامل کیا جائے گا تاکہ انھیں عدالت میں پیش کیا جا سکے۔

،تصویر کا ذریعہMADHYA PRADESH POLICE VIA TWITTER
پولیس کا یہ بھی کہنا تھا کہ گھر سے کچھ کتابیں، لٹریچر، جھنڈے، پوسٹر، بینر وغیرہ ملے ہیں اور ان سب کی تحقیقات کی جائیں گی کہ یہ کس نے لکھا ہے، کیوں لکھا ہے اور لکھنے والے کی نیت کیا ہے۔
ان کے وکیل کے کے رائے نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ جاوید احمد بے گناہ ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’وہ ضلعی انتظامیہ کے بہت قریبی ساتھی رہے ہیں۔ ایک ایسا شخص جو 20 سال سے عوام کی خدمت کر رہا ہے، جس کے خلاف کسی چھوٹے سے جرم کی بھی ایف آئی آر درج نہیں ہے، جو مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث لوگوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا نہیں ہے تو اسے کیسے قصوروار قرار دیا جا سکتا ہے۔‘
ان کے مطابق جاوید احمد کے خلاف صرف امن کی خلاف ورزی کا مقدمہ تھا، لیکن وہ بھی مجسٹریٹ کے سامنے ہوا۔
ان کے مطابق ‘انھوں نے تمام تحریکوں میں پرامن طریقے سے حصہ لیا، لوگوں کی مدد کی ہے۔ یہاں تک کہ کورونا وبا سے لے کر سیلاب تک مدد کرنے میں مصروف رہے۔‘
انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ پریاگ راج (الہٰ باد) میں اس پورے معاملے کے مرکزی ملزم جاوید احمد ہیں۔
کیا جاوید احمد نے دس جون کو مارکیٹیں بند کرنے کی کال دی تھی؟ اس سوال کے جواب میں کے کے رائے کا کہنا ہے کہ ’بالکل نہیں۔‘ ان کے مطابق اس حوالے سے جو ثبوت پیش کیا جا رہا ہے وہ جعلی واٹس ایپ پیغام ہے۔
جاوید احمد کی بیٹی آفرین فاطمہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کی طالب علم رہی ہیں اور وہاں خواتین اور مسلمانوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتی رہی ہیں۔
جاوید احمد اور آفرین دونوں 2019-20 کے شہریت کے قانون کے خلاف احتجاج میں سرگرمی سے شریک رہے تھے۔
فی الحال پولیس نے آفرین کو گرفتار نہیں کیا ہے لیکن بیان دیا ہے کہ اگر ان کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے تو کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
وہ 19 سال کی عمر میں سنہ 2018 میں اے ایم یو کے خواتین کالج کی سٹوڈنٹ یونین کی صدر رہ چکی ہیں۔ انھوں نے سنہ 2019 میں بی بی سی کے اس نامہ نگار کو بتایا تھا کہ وہ یونیورسٹی کے ہاسٹل میں رہنے والی خواتین طالبات کے حقوق سے متعلق مہم میں سرگرم رہی ہیں اور وہی ان کے انتخابی مہم کا منشور تھا۔
انھوں نے بتایا کہ یونیورسٹی حکام خواتین طالبات کے ساتھ امتیازی سلوک کرتے ہیں۔
ان کے مطابق یونیورسٹی میں مردوں کے مقابلے خواتین کو صرف مخصوص دنوں میں ہاسٹل سے باہر جانے کی اجازت دی جاتی ہے اور وہ بھی وارڈن کی اجازت کے بعد ہی ممکن ہوتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہKANPURNAGARPOL
انھوں نے سنہ 2018 کا ایک واقعہ سنایا جب علی گڑھ یونیورسٹی کی طلبہ یونین کے دفتر میں محمد علی جناح کی تصویر پر ایک تنازعہ ہوا تھا۔ یونیورسٹی میں کئی دہائیوں سے روایت ہے جس میں طلبہ یونین قابل ذکر شخصیات کو اپنی تاحیات رکنیت دیتی ہے اور ان کی تصویر یونین ہاؤس میں رکھی جاتی ہیں۔
ان میں گاندھی، مولانا آزاد، امبیڈکر اور جناح جیسی شخصیات شامل ہیں۔ تاہم علی گڑھ میں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ہندوؤں نے جناح کی تصویر کی موجودگی کی مخالفت کی جس کے نتیجے میں ایک تنازعہ کھڑا ہوا جو کئی دنوں تک جاری رہا۔
جب یہ تنازعہ جاری تھا تو مرد طلبا احتجاج میں حصہ لینے کے لیے آزاد تھے لیکن یونیورسٹی کے ہاسٹلز میں رہنے والی خواتین طالبات کو شام کے کچھ گھنٹوں کے بعد اس میں شامل ہونے کی اجازت نہیں تھی۔
خواتین طالبات نے احتجاج کیا اور یونیورسٹی انتظامیہ نے آخر کار نرمی اختیار کی۔
یہ بھی پڑھیے
آفرین نے بتایا کہ بعد میں یونیورسٹی انتظامیہ نے والدین کو بتایا کہ لڑکیاں خود باہر گئی ہیں اور اس معاملے میں انتظامیہ ذمہ دار نہیں ہیں۔
حکام کی کال نے بہت سے والدین کو خوفزدہ کردیا۔ آفرین نے بتایا کہ ’ہم نے دوبارہ احتجاج کیا اور انھیں انتظامیہ کی طرف سے والدین کو کال کر کے ساری صورت حال کی وضاحت کرنے کو کہا گیا۔‘
جب وہ دلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی گئیں تو ان کی سیاسی سرگرمیاں جاری رہیں۔ وہ یونیورسٹی کی طلبہ یونین میں کونسلر کے طور پر منتخب ہوئیں اور اب وہ ’فراترٹی موومنٹ‘ کی قومی سیکریٹری ہیں جو کہ اس جماعت کے طلبہ ونگ ہے جس سے ان کے والد وابستہ ہیں۔
اگرچہ بی جے پی لیڈروں کے تبصروں کے دو ہفتوں تک ان کے خلاف شاید ہی کوئی عوامی طور پر احتجاج ہوا تھا لیکن گذشتہ جمعے سے پہلے سوشل میڈیا پر کئی پوسٹس گردش کرنے لگیں، جن میں لوگوں کو نماز جمعہ کے بعد احتجاج کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔
یہ واضح نہیں ہے کہ یہ پیغامات کہاں سے شروع ہوئے تھے۔ حالانکہ زیادہ تر مقامات پر احتجاج جمعہ تک ہی محدود تھا، اس معاملے پر بات چیت ختم نہیں ہوئی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سابق کرکٹر گوتم گھمبیر بھی نوپور شرما کی حمایت میں سامنے آ گئے
سابق کرکٹر گوتم گمبھیر بھی نوپور شرما کی حمایت میں سامنے آئے ہیں۔ انھوں نے ٹویٹ کر کے ’نام نہاد سیکولر، لبرلز‘ کو اس صورتحال کا مورد الزام ٹھہرایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کی ایک ایسی خاتون کے خلاف خاموشی اچھی بات نہیں جس نے معافی بھی مانگ لی ہے مگر پھر بھی اسے جان سے مارے جانے کی دھمکیاں مل رہی ہیں اور ان کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔
بی جے پی کے دیگر لیڈروں نے بھی نوپور شرما کی حمایت میں ٹویٹ کیے۔
تاہم سابق بی جے پی لیڈر اور مرکزی وزیر یشونت سنہا نے سپریم کورٹ سے درخواست کی کہ وہ مکان کو مسمار کرنے کے معاملات کا از خود نوٹس لے۔
انھوں نے کہا ’میں سپریم کورٹ سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ یوپی حکومت کی طرف سے لوگوں کے گھروں کو بلڈوز کرنے جیسی ڈھٹائی اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کا ازخود نوٹس لے۔ ایگزیکیٹیو کو خود ہی پولیس، پراسیکیوٹر اور جج بننے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔‘
مدھیہ پردیش، گجرات اور دلی جیسی ریاستوں میں بھی غیر قانونی تعمیرات کے الزام میں مکانات کو مسمار کرنے کے ایسے ہی واقعات رونما ہوئے ہیں اور اس عمل کے خلاف سپریم کورٹ اور ملک کی مختلف ہائی کورٹس میں مقدمات زیر التوا ہیں۔









