افغانستان میں خواتین کی تعلیم پر قدغنیں: خواتین یونیورسٹی میں معاشیات، صحافت، انجنیئرنگ نہیں پڑھ سکتیں

    • مصنف, حفیظ اللہ معروف
    • عہدہ, بی بی سی پشتو

’میں بہت امید سے داخلے کا امتحان دینے گئی تھی۔ جب میں نے پرچہ دیکھا تو میرا پسندیدہ مضمون ہی نہیں تھا‘، 19 سالہ فاطمہ نے روتے ہوئے بتایا۔

فاطمہ (فرضی نام) کا تعلق افغانستان کے مشرقی لغمان صوبے سے ہے۔ فاطمہ کا اپنی پسند کا کیریئر اپنانے کا خواب طالبان کے ایک نئے حکم کی وجہ سے اب خطرے میں پڑ چکا ہے۔

لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کے ایک سال بعد طالبان، جنھوں نے 2021 میں ملک پر قبضے کے بعد اقتدار حاصل کر لیا تھا، جامعات میں خواتین کی پڑھائی پر نئی پابندیاں عائد کر رہے ہیں جن کے تحت پڑھائے جانے والے مضامین کو محدود کیا جا رہا ہے۔

ٹوٹتی ہوئی امید

فاطمہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’صحافی بننا میرا خواب تھا۔ میں ریڈیو اور ٹی وی پر کام کرنا چاہتی تھی۔ میں خواتین کے حقوق کے لیے لڑنا چاہتی تھی۔‘

وہ سکول میں تعلیم کا آخری سال طالبان کی پابندی کی وجہ سے مکمل نہیں کر سکیں تھیں۔ تاہم طالبان نے فیصلہ کیا کہ سکول کے آخری سال میں تعلیم حاصل کرنے والی لڑکیاں یونیورسٹی کے داخلہ امتحان میں شرکت کر سکتی ہیں۔

اس فیصلے کے بعد فاطمہ کو جو خوشی ہوئی، وہ قلیل مدتی ثابت ہوئی۔ طالبان کی اس چھوٹ کے ساتھ ہی خواتین کے لیے یونیورسٹی میں مضامین پر پابندیاں عائد کر دی گئیں۔

مثال کے طور پر ننگرہار یونیورسٹی، جہاں 13 شعبے ہیں، لڑکیوں کو صرف سات میں سے انتخاب کا حق دیا گیا ہے۔ ان کو صحافت، زراعت، انجینیئرنگ، معاشیات یا طب حیوانیات پڑھنے کی اجازت نہیں ہے۔

فاطمہ کہتی ہیں کہ ان کی تمام امیدیں دم توڑ چکی ہیں۔

یونیورسٹی کا داخلہ امتحان لینے والے پروفیسرز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ لڑکے کسی بھی مضمون کا انتخاب کر سکتے ہیں۔

فاطمہ نے بتایا کہ ’ہمیں انتخابی پرچہ پہلے نہیں دیا گیا۔ جب 10 لڑکیوں پر مشتمل ہمارے گروہ نے یہ پرچہ دیکھا تو ہمیں وہ شعبے نظر ہی نہیں آئے جن میں ہم داخلہ لینا چاہتے تھے، ہم سب رو پڑے تھے۔‘

فاطمہ اور ان کی ساتھیوں کے لیے یہ ایک مشکل سفر ثابت ہوا ہے۔ سکول بند ہو جانے کے بعد ان کو یونیورسٹی کے داخلہ امتحان کے لیے گھر پر تیاری کرنا پڑی۔ فاطمہ نے دیگر لڑکیوں کے ساتھ پڑھائی کا انتظام کیا۔

’ہمارے علاقے میں ٹیوشن کا بھی کوئی انتظام نہیں۔ سب کچھ بند تھا۔‘

داخلہ امتحان

افغانستان میں حکام کے مطابق اس سال یونیورسٹی میں داخلے کے لیے 30 ہزار خواتین سمیت ایک لاکھ طلبا امتحان دیں گے۔

لیکن لڑکوں اور لڑکیوں سے الگ الگ ہال میں امتحان لیا جا رہا ہے۔ ایسے صوبے جہاں امیدواروں کی تعداد زیادہ ہے، داخلہ امتحان دو سے تین دن کے دوران لیا گیا۔

افغانستان کے تمام صوبوں کی یونیورسٹیز میں لڑکیوں کو طب اور نرسنگ پڑھنے کی اجازت ہے۔ وہ ٹیچر ٹریننگ یا اسلامیات کا انتخاب بھی کر سکتی ہیں۔

سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ اگر طالبان نے ہر کسی کے لیے سکول نہیں کھولے تو آنے والے برسوں میں یونیورسٹی میں داخلے کے لیے امیدواروں کی تعداد کم ہوتی جائے گی۔

دوسری جانب طالبان حکام ان پابندیوں کو غیر اہم قرار دے رہے ہیں۔ وزارت ہائر ایجوکیشن میں امتحانات ڈویژن کے سربراہ عبدالقادر کہتے ہیں کہ تین چار مضامین کے علاوہ لڑکیاں اپنی پسند کے کسی بھی مضمون کا انتخاب کرنے میں آزاد ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’ہم لڑکیوں کو الگ کلاسز فراہم کریں گے۔ کچھ علاقوں میں خواتین امیدواروں کی تعداد کم ہے۔ اس لیے ہم ان کو مخصوص مضامین کے انتخاب کی اجازت نہیں دے رہے۔‘

حکام نے اب تک واضح نہیں کیا کہ اس سال یونیورسٹی میں مجموعی طور پر کتنے طلبا کو داخلہ دیا جائے گا۔

ملک پر طالبان کے قبضے کے بعد تعلیم کا شعبہ متاثر ہوا ہے اور امریکی فوج کے انخلا کے بعد سے اساتذہ کی بڑی تعداد ملک چھوڑ چکی ہے۔

ملک کی معیشت کا دارومدار امداد پر رہا ہے لیکن امدادی تنظیموں نے طالبان کی جانب سے لڑکیوں کو سکول جانے کی اجازت سے انکار کے بعد تعلیمی شعبے کی مالی مدد کافی حد تک روک دی ہے۔ کئی اساتذہ کو مہینوں سے تنخواہ نہیں دی جا سکی۔

میرے پاس کوئی راستہ نہیں

بی بی سی نے دریافت کیا ہے کہ طالبان کی جانب سے مضامین محدود کرنے کا معاملہ پورے ملک میں یکساں طور پر نافذ نہیں ہوا۔ مثال کے طور پر کابل یونیورسٹی میں لڑکیوں کو صحافت پڑھنے کی اجازت ہے۔

تاہم فاطمہ اس چھوٹ سے فائدہ نہیں اٹھا سکتیں کیوں کہ طالبان نے لڑکیوں پر یہ پابندی بھی عائد کر رکھی ہے کہ وہ اپنے صوبے سے باہر کسی یونیورسٹی میں داخلہ نہیں لے سکتیں۔

’میں وہی پڑھ سکتی ہوں جس کی اجازت ہے۔ میرے پاس اور کوئی راستہ نہیں۔‘ تاہم فاطمہ اپنا خواب چھوڑنے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں۔

’اگر حکومت نے اگلے سال اپنی پالیسی میں تبدیلی کی تو میں صحافت کا انتخاب کر لوں گی۔‘