افغانستان میں طالبان کی واپسی کے ایک برس بعد کیا بدلا؟

    • مصنف, شروتی میمن
    • عہدہ, بی بی سی ریئیلٹی چیک

آج سے ایک برس قبل افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد طالبان ملک کے دارالحکومت کابل پہنچے تھے۔

اس وقت دنیا کے ساتھ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کئی وعدے کیے تھے لیکن کیا طالبان حکومت ان وعدوں کو پورا کر سکی ہے؟

ہم نے اس تحریر میں انھی چند وعدوں کو پرکھا ہے۔

’خواتین کو پڑھنے اور کام کرنے کی اجازت دیں گے، خواتین اسلامی حدود میں رہتے ہوئے کافی متحرک ہوں گی‘

1990 میں طالبان کے گذشتہ دور حکومت کے دوران خواتین کی آزادی بری طرح متاثر ہوئی اور گذشتہ برس طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد سے بھی خواتین پر کئی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

خواتین کے لباس کے حوالے سے ضوابط اور ایسے قوانین جو ان کو کسی مرد سرپرست کے بغیر عوامی مقامات پر جانے سے روکتے ہیں، کو نافذ کیا گیا۔

مارچ کے مہینے میں نئے تعلیمی سال کے موقع پر جب سکول دوبارہ کھلے تو طالبان اپنے وعدے سے پیچھے ہٹ گئے اور لڑکیوں کو سکینڈری سکول جانے کی اجازت نہیں دی۔

طالبان اس کی وجہ خواتین اساتذہ کی کمی اور لڑکیوں کے لیے الگ سہولیات کا بندوبست کرنے کے لیے درکار وقت کو قرار دیتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق اس سے تقریباً 11 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ دنیا بھر میں اس حوالے سے تنقید بھی جاری ہے۔

تاہم لڑکیوں کو پرائمری لیول تک تعلیم حاصل کرنے کی اجازت ہے۔

فروری میں خواتین اور مردوں، دونوں کے لیے کچھ یونیورسٹیاں کھول دی گئیں لیکن ورلڈ بینک کے مطابق ملک میں کام کرنے والی خواتین کی تعداد خاصی کم ہوئی ہے۔

1998 سے 2019 کے درمیان گھر سے باہر نکل کر کام کرنے والی خواتین کی تعداد 15 فیصد سے بڑھ کر 22 فیصد ہو گئی تھی لیکن طالبان کے آنے کے بعد جب خواتین کی نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کی گئیں تو یہ شرح کم ہو کر سنہ 2021 میں 15 فیصد پر آ گئی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے جولائی کے مہینے میں اپنی ایک رپورٹ میں کہا کہ ’طالبان نے افغانستان میں خواتین اور بچوں کے حقوق کو تباہ کر دیا۔‘

اس رپورٹ میں ان نئی پابندیوں کے خلاف احتجاج کرنے والی خواتین پر تشدد کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے۔

ہم اپنی معیشت کی بحالی، تعمیر نو اور خوشحالی کے لیےکام کریں گے‘

جون میں اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ برس اگست میں طالبان کے قبضے کے بعد سے افغانستان کی معیشت 30 سے 40 فیصد تک سکڑ گئی ہے۔

افغانستان میں امریکی فنڈز سے تعمیر نو کی کوششوں کی نگرانی کرنے والے سرکاری ادارے کے ایک جائزے سے یہ پتا چلتا ہے کہ اگرچہ کچھ بین الاقوامی امداد ملک میں آتی رہی ہے لیکن معاشی حالات ابھی بھی خراب ہیں۔

بین الاقوامی فنڈز کی معطلی اور افغانستان کے زرمبادلہ کے ذخائر منجمد ہونے سے ملک کے معاشی حالات بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

اس سے نمٹنے کے لیے طالبان نے ٹیکس کی آمدن میں اضافے کے ساتھ کوئلے کی برآمدات کو بڑھانے کی کوشش کی ہے تاکہ بلند عالمی قیمتوں کا فائدہ اٹھایا جا سکے۔

جنوری میں پیش کیے گئے بجٹ کے مطابق طالبان نے ستمبر سے دسمبر 2021 کے دوران ملک کی اندرونی آمدن کے ذریعے 40 کروڑ ڈالر جمع کیے ہیں لیکن ماہرین نے ان اعدادوشمار کی شفافیت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

افغانستان کی بدتر معاشی حالت میں بین الاقوامی فنڈز کی معطلی، سکیورٹی چیلنجز، موسمیاتی تبدیلی اور عالمی خوراک کی افراط زر جیسے عوامل کا کردار ہے۔

’افغانستان میں منشیات کی پیداوار نہیں ہو گی، ہم افیون کی پیداوار دوبارہ صفر پر لائیں گے‘

افیون پوست کی کاشت کے حوالے سے طالبان کا وعدہ ایک ایسی پالیسی کا آئینہ دار ہے جسے انھوں نے کچھ کامیابی کے ساتھ دو دہائی قبل اقتدار میں آنے پر متعارف کرایا تھا۔

افیون کو ہیروئین بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور افغانستان کئی سال تک دنیا بھر میں افیون کی پیداوار کا سب سے بڑا مرکز رہا ہے۔

اس برس اپریل میں طالبان نے پوست کی کاشت پر پابندی کا اعلان کیا تھا۔

اس بارے میں اعدادوشمار تو دستیاب نہیں کہ اس اعلان کے بعد کیا پیشرفت ہوئی تاہم صوبہ ہلمند کے ایسے علاقے جہاں پوست کاشت کی جاتی ہے، وہاں سے ایسی اطلاعات ملی ہیں کہ طالبان کسانوں کو پوست کے کھیت تباہ کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔

جولائی میں ایک امریکی رپورٹ کے مطابق اگرچہ اس اقدام سے طالبان کسانوں اور ان افردا کی حمایت کھو دیں گے، جو منشیات کی تجارت میں ملوث ہیں لیکن اس کے باوجود وہ منشیات پر پابندی پر عمل پیرا ہیں۔

تاہم منشیات سے حاصل رقم سے چلنے والی افغانستان کی معیشت کے ایک ماہر ڈاکٹر ڈیوڈ مینز فیلڈ اس جانب نشاندہی کرتے ہیں کہ طالبان کی جانب سے افیون کی کاشتکاری پر پابندی سے قبل ہی اس کی کٹائی کی جا چکی تھی۔

ڈاکٹر ڈیوڈ کہتے ہیں کہ ’جنوب مغربی افغانستان میں دوسری (سالانہ) فصل عام طور پر ایک چھوٹی فصل ہوتی ہے۔۔۔ اس لیے اسے تباہ کرنے سے کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا۔‘

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ دوسری منشیات جیسے کہ کرسٹل میتھ کی پیداوار میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ طالبان نے اس کی تیاری میں استعمال ہونے والے پودے ایفیڈر پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’ہم سکیورٹی کو یقینی بنائیں گے‘

اگرچہ طالبان کو اقتدار میں لانے والی کشیدگی کافی حد تک ختم ہو گئی ہے لیکن اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ برس اگست سے لے کر اس برس جون تک 700 عام شہری مارے گئے ہیں جبکہ 1400 سے زیادہ زخمی ہوئے۔

تاہم یہ اعداد و شمار پچھلے برسوں کے مقابلے میں بہت کم ہیں، جب یہ کشیدگی عروج پر تھی۔

اگست 2021 سے اب تک تقریباً 50 فیصد ہلاکتیں شدت پسند تنظیم نام نہاد دولت اسلامیہ کے خراسان گروپ کی کارروائیوں کی وجہ سے ہوئیں، جو اب بھی افغانستان میں سرگرم ہے۔

حالیہ مہینوں میں آئی ایس خراسان کے متعدد حملوں میں شیعہ مسلم یا دیگر اقلیتی آبادی والے شہری علاقوں میں عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔

اس کے ساتھ ہی طالبان مخالف دوسرے گروپ جیسے قومی مزاحمتی محاذ (این آر ایف) اور افغانستان فریڈم فرنٹ (اے ایف ایف) کی موجودگی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

افغانستان میں طالبان مخالف درجنوں عسکریت پسند گروپوں کی موجودگی کے حوالے سے اقوام متحدہ نے جون میں کہا کہ ’مجموعی طور پر سکیورٹی کا ماحول تیزی سے غیر متوقع ہوتا جا رہا ہے۔‘

اقوام متحدہ کے مطابق طالبان کی طرف سے ماورائے عدالت قتل، گرفتاریوں اور تشدد کے متعدد واقعات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے،

اگست 2021 سے جون 2022 کے درمیان سابق حکومت اور سکیورٹی عہدیداروں کے ماورائے عدالت قتل کے کم از کم 160 واقعات درج ہوئے۔