آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
طالبان کا افغان خواتین ٹی وی میزبانوں کو چہرہ ڈھانپنے کا حکم: ’طالبان کے لیے خواتین ایک 'بیماری' کی طرح ہیں‘
طالبان کی جانب سے افغان خواتین ٹی وی میزبانوں اور سکرین پر آنے والی دیگر خواتین کے لیے چہرے کو ڈھانپنے کا حکم دے دیا ہے۔
مذہبی پولیس کے ترجمان نے بی بی سی پشتو کو بتایا کہ اس حکم کے بارے میں ٹی وی چینلز کو بدھ کو آگاہ کیا گیا تھا۔
یہ فیصلہ ایک ایسے موقع پر آیا ہے جب طالبان نے دو ہفتے قبل ملک کی خواتین پر سخت ترین پابندیاں عائد کرتے ہوئے انھیں حکم دیا ہے کہ وہ عوام کے سامنے مکمل ڈھانپنے والا برقعہ پہنیں۔
افغانستان میں خواتین پر پابندیاں سخت کرنے سے متعلق طالبان کے رویے میں تلخی بڑھتی جا رہی ہے۔ افغان خواتین پر بہت سی سرکاری ملازمتوں، سیکنڈری تعلیم اور اپنے شہروں یا افغانستان سے باہر تنہا سفر کرنے پر پابندی لگا دی ہے۔
کابل میں ایک مقامی ٹی وی سٹیشن میں کام کرنے والی خاتون صحافی جو اپنی شناخت ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھیں نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں اس تازہ ترین پیش رفت کے بارے میں جان کر دھچکا لگا ہے۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’وہ ہم پر بالواسطہ دباؤ ڈال رہے ہیں تاکہ ہمیں ٹی وی پر میزبانی سے روک سکیں۔‘
'میں اپنا چہرے ڈھانپ کر خبریں کیسے پڑھ سکتی ہوں؟ مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ میں کیا کروں میرے لیے کام کرنا ضروری ہے، میں اپنے خاندان کے لیے کمانے والوں میں سے ہوں۔'
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق طالبان کی وزارتِ امربالمعروف و نہی عن المنکر نے بتایا ہے کہ یہ نیا حکم 21 مئی سے نافذالعمل ہو گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ترجمان کی جانب سے اس اس حکم کو 'تجویز' کا نام دیا گیا ہے تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ اس حکم کو نہ ماننے والوں کو کیا سزا دی جائے گی۔
طلوع نیوز چینل کے مطابق 'چینل کو ملنے والی معلومات سے پتا چلتا ہے کہ یہ حکم افغانستان میں میڈیا کے تمام اداروں کو دیا گیا ہے۔'
اس فیصلے کو ٹوئٹر پر شدید تنقید کا سامنا ہے اور اکثر افراد کا ماننا ہے کہ یہ طالبان کی جانب سے شدت پسندی کو فروغ دینے کا ایک اور قدم ہے۔
ایک سماجی کارکن نے ٹویٹ کیا کہ 'دنیا میں کووڈ سے بچاؤ کے لیے ماسکس پہننا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ طالبان ماسک اس لیے پہنانا چاہتے ہیں تاکہ لوگ خواتین صحافیوں کے چہرے نہ دیکھ سکیں۔ طالبان کے لیے خواتین ایک بیماری کی طرح ہیں۔‘
ایک نجی چینل شمشاد نیوز نے ایک تصویر پوسٹ کی جس میں ان کے لیے خبریں پیش کرنے والی خاتون نے ماسک پہن رکھا تھا اور اس طرح کی دیگر تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کی جا رہی ہیں۔
سنہ 90 کی دہائی میں اپنے پہلے دورِ اقتدار کے دوران طالبان نے خواتین کو برقع کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
صحافی جنھوں نے بی بی سی سے بات کی تھی وہ چاہتی ہیں کہ بین الاقوامی برادری طالبان پر دباؤ ڈالے۔
بین الاقوامی کمیونٹی کو کہنا چاہیے کہ 'آپ کے پاس 10 دن ہیں اس فیصلے کو واپس لینے کے لیے ورنہ آپ کی امداد بھی ختم کر دی جائے گی اور روابط بھی ختم کر دیے جائیں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ 'وہ چاہتے ہیں کہ خواتین قیدیوں کی طرح گھر پر رہیں۔ ہر روز یہ ہمارے خلاف حکم صادر کرتے ہیں، مجھے نہیں لگتا ہم بچ سکتے۔'
طالبان عسکریت پسندوں نے 1996 اور 2001 کے درمیان اقتدار میں اپنے آخری دور کی نسبت زیادہ نرم طرز حکمرانی کا وعدہ کرتے ہوئے گذشتہ سال اگست میں ملک کا کنٹرول واپس لے لیا تھا۔ طالبان کا سابق دور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے پر تھا۔
گذشتہ حکم نامے میں طالبان نے کیا ہدایات دی تھیں؟
خیال رہے کہ دو ہفتے قبل، افغانستان کے سپریم لیڈر اور طالبان کے سربراہ ہیبت اللہ اخوندزادہ نے خواتین کے لیے عوامی مقامات پر لباس کے سخت ضابطوں کا اعلان کیا تھا۔
کابل میں ایک تقریب میں طالبان حکام کی طرف سے جاری کردہ ایک حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ ’انھیں چادوری (سر سے پاؤں تک برقعہ) پہننا چاہیے کیونکہ یہ روایتی اور قابل احترام ہے۔‘
بیان میں کہا گیا تھا کہ ’وہ خواتین جو زیادہ بوڑھی یا چھوٹی نہیں ہیں، ان کو شرعی ہدایات کے مطابق، آنکھوں کے علاوہ، اپنے چہرے کو ڈھانپنا چاہیے، تاکہ ایسے مردوں سے ملتے وقت مسائل سے بچا جا سکے جو محرم نہیں ہیں (بالغ قریبی مرد رشتہ دار)۔‘
اخونزادہ کے حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اگر خواتین کو باہر کوئی اہم کام نہ ہو تو ’بہتر ہے کہ وہ گھر میں رہیں۔‘
اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو خواتین سرکاری اداروں میں کام کرتی ہیں اور حجاب کی پابندی نہیں کرتیں انھیں نوکری سے نکال دینا چاہیے۔
طالبان حکومت نے کہا ہے کہ ’میڈیا اور منبروں پر حجاب کے قواعد، فوائد، اہمیت اور نقصانات کی وضاحت کرنی چاہیے۔‘
حکم نامے کے مطابق قائم مقام وزیر امر بالمعروف کی قیادت میں سات رکنی وفد کو بھی خواتین کے حجاب کا جائزہ لینے کے لیے مقرر کیا گیا تھا۔
وفد کے دیگر ارکان میں شیخ مولوی عبدالحکیم، مولوی نور محمد ثاقب، مولوی شہاب الدین دلاور، مولوی فرید الدین محمود، مولوی نور اللہ منیر اور مولوی نور الحق انور شامل ہیں۔
طالبان نے اپنے پہلے دور حکومت میں خواتین کے لیے برقع کو لازمی قرار دیا تھا۔
ان کی اقتدار میں واپسی کے بعد سے، وزارت برائے فروغِ فضیلت اور برائی کی روک تھام نے خواتین کو کیا پہننا چاہیے اس بارے میں کئی ’رہنما اصول‘ جاری کیے ہیں لیکن سنیچر کا حکم نامہ اس طرح کا پہلا قومی حکم تھا۔
سخت گیر اسلام پسند مارچ کے مہینے میں اس وقت بین الاقوامی غم و غصے کا باعث بنے جب انھوں نے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد پہلی بار دوبارہ کھلنے کے چند گھنٹے بعد ہی لڑکیوں کے سیکنڈری سکولوں کو بند کرنے کا حکم دیا۔
یہ بھی پڑھیے
حکام نے اس پابندی کی کبھی کوئی توجیہہ نہںی دے سکے سوائے یہ کہنے کے کہ لڑکیوں کی تعلیم ’اسلامی اصولوں‘ کے مطابق ہونی چاہیے۔
متعدد طالبان عہدیداروں کے مطابق، یہ پابندی اخونزادہ کی جانب سے جاری عائد کی گئی تھی۔
خواتین کو یہ حکم بھی دیا گیا ہے کہ وہ ان دنوں دارالحکومت کے پارکوں میں نہ جائیں جب مرد جاتے ہیں۔
کچھ افغان خواتین نے ابتدا میں اس کی سخت مزاحمت اور احتجاجی مظاہرے کیے جہاں انھوں نے تعلیم اور کام کے حق کا مطالبہ کیا۔
لیکن طالبان نے ان غیر منظور شدہ ریلیوں پر کریک ڈاؤن کیا اور کئی رہنماوں کو گرفتار کر لیا، اور ان کے زیر حراست ہونے سے بھی انکار کیا۔ ’
طالبان کے دونوں دور حکومت کے درمیان 20 سالوں میں، لڑکیوں کو سکول جانے کی اجازت دی گئی اور خواتین تمام شعبوں میں ملازمت حاصل کرنے کے قابل ہوئیں، حالانکہ ملک سماجی طور پر قدامت پسند رہا۔
ایک سخت قدامت پسند اور پدرانہ نظام والے افغانستان میں، دیہی علاقوں میں بہت سی خواتین پہلے سے ہی برقع پہنتی ہیں۔