افغانستان میں طالبان کی پابندیاں: پانچ افغان خواتین جو خاموش رہنے کو تیار نہیں

    • مصنف, کوئنٹن سمرویل
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

یہ محض ایک ’سنو مین‘ تھا لیکن بھوک سے مرتی افغان آبادی پر جیسے ہی موسم سرما کا آغاز ہوا تو شدید برفباری کابل کے ایک چھوٹے سے حصے میں خوشی کا پیغام لائی۔

نوجوان خواتین کا ایک گروپ سنو مین کے پاس سیلفیاں بنا رہا تھا۔ ایسے میں تین طالبان نے انھیں دیکھ لیا۔ وہ قریب آئے تو خواتین وہاں سے چلی گئیں۔

اپنے چہرے پر مسکراہٹ سجائے ایک طالب سنو مین کی جانب بڑھا، جو شاید ان کے نزدیک اسلامی تعلیمات کے خلاف تھا۔ اس نے سنو مین کے لکڑی کے بازو توڑ ڈالے، اس کی پتھر سے بنی آنکھوں اور ناک کو ختم کر دیا اور آخر میں تیزی سے اس کا سر قلم کر دیا۔

میں 10 برس بعد کابل واپس پہنچا تھا اور طالبان کا ایک رکن افغان ثقافت سے متعلق میری سمجھ میں کمی کے بارے میں مجھے پہلے ہی لیکچر دے چکا تھا۔

اس طالب نے یہ جاننے کا دعویٰ کیا تھا کہ افغان خواتین کے لیے آخر کیا بہتر ہے۔ اس کے نزدیک ’نیلی آنکھوں والے شیطانوں‘ (مغربی اقوام) ​​نے ملک کو خراب کیا تھا۔

لیکن اس کی بجائے میں خواتین سے بات کر کے ان کی رائے جاننا چاہتا تھا۔ بہت سی خواتین چھپی ہوئی ہیں، سب کو اپنے مستقبل کے بارے میں خدشات ہیں جبکہ بہت سی خواتین کو اپنی جان کی بھی فکر ہے۔

کابل کی گلیوں میں ابھی بھی خواتین نظر آتی ہیں، کچھ مغربی لباس میں تو کچھ سر پر سکارف پہنے ہوئے لیکن ان کی آزادی حملے کی زد میں ہے: کام کرنے کی آزادی، اکیلے آنے جانے کی آزادی اور اکیلے رہنے کی آزادی۔

میں اس نئے افغانستان میں رہنے والی چند خواتین سے ملا جنھوں نے آزادانہ طور پر اپنے خیالات کا اظہار کرنے کے لیے بڑا خطرہ مول لیا۔ ان میں سے صرف فاطمہ نے اس بات پر زور دیا کہ وہ اپنی شناخت یا چہرہ چھپانا نہیں چاہتیں۔

فاطمہ

عمر: 44 برس

پیشہ: دائی

طالبان نے دو بار فاطمہ کے مستقبل پر ضرب لگائی۔ اس سے پہلے جب طالبان نے افغانستان پر قبضہ کیا تھا تو 14 برس کی عمر میں ان کی زبردستی شادی کر دی گئی اور ان کی تعلیم کا سلسلہ اچانک رک گیا۔

اب ان کی عمر 44 برس ہے اور ان کے پاس کام بھی ہے لیکن بہت سی دوسری خواتین، جن سے میں نے بات کی، فاطمہ کی روزمرہ زندگی بھی ختم ہو گئی ہے۔

فاطمہ نے بہت مشکل سے تعلیم اور ملازمت حاصل کی تھی۔ شادی کے بعد انھوں نے 32 برس کی عمر تک کوئی پڑھائی نہیں کی۔ تب تک طالبان جا چکے تھے لیکن پھر بھی سب اتنا آسان نہیں تھا حتیٰ کہ نئی افغان حکومت میں بھی۔

فاطمہ نے بتایا کہ انھوں نے بہت کم وقت میں جلدی جلدی کچھ کورس کیے لیکن ایسا وقت بھی تھا جب انھیں پڑھائی کی اجازت نہیں تھی۔

’وہ میرا شناختی کارڈ مجھے سے لے لیتے اور کہتے کہ کلاس میں دوسری طلبا کے ساتھ بیٹھنے کے لیے آپ کی عمر بہت زیادہ ہے۔‘

آخر کار صرف دو برس پہلے ہی انھوں نے اپنی ڈگری مکمل کی اور اب انھیں ایک اور مشکل کا سامنا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’افغانستان میں لڑکیوں کا تعلیم حاصل کرنا بہت مشکل تھا، تو سوچیں کہ شادی شدہ خاتون کے لیے یہ کتنا مشکل ہو گا۔‘ لیکن فاطمہ ایسا کرنے میں کامیاب ہوئیں اور تب سے وہ ہزاروں بچوں کی ڈیلیوری کر چکی ہیں۔

فاطمہ کہتی ہیں کہ ’میں ایسے علاقے میں کام کرنا چاہتی ہوں جہاں میں خواتین کی ٹریننگ کر سکوں۔ جب ایک خاتون پڑھی لکھی ہوتی ہے تو وہ صحت مند بچوں کی تربیت کرتی ہے۔ ایسا کرنے سے وہ معاشرے کے لیے بامقصد بچے پروان چڑھا سکتی ہے اور یہ ایک ایسی چیز ہے جو تبدیلی لا سکتی ہے۔‘

بظاہر فاطمہ یہ قبول کرتی ہیں کہ طالبان کا کنٹرول مستقل رہنے کا امکان ہے لیکن وہ اس بارے میں بھی پر امید ہیں کہ اس بار وہ (طالبان) مختلف طریقے سے حکومت کر سکتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میں عاجزانہ طور پر طالبان سے درخواست کرتی ہوں کہ وہ خواتین کے پڑھنے اور ملازمت کرنے کے حق میں مداخلت نہ کریں ورنہ وہ معاشرے کا ایک بازو کاٹ دیں گے۔ ہمارے معاشرے کے دو ستون ہیں: ایک عورت اور دوسرا مرد۔ آپ ایک ہاتھ سے اپنی زندگی کیسے چلا سکتے ہیں۔‘

فاطمہ خوش قسمت ہیں کہ ان کے پاس ابھی بھی ملازمت ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’طالبان ہسپتال میں میرے کام کرنے پر پابندی عائد نہیں کر سکتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اس کی ضرورت ہے۔‘

لیکن فاطمہ کو کئی ماہ سے تنخواہ نہیں ملی اور اس کے لیے وہ طالبان نہیں بلکہ مغربی پابندیوں کو مورد الزام ٹھراتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’امریکہ اور بین الاقوامی برادری نے افغانستان کا پیسہ روک رکھا ہے۔‘

فاطمہ بعض اوقات 24 گھنٹے بھی کام کرتی ہیں اور ایک دن میں 23 ڈیلیوری بھی کرتی ہیں لیکن مریضوں اور سٹاف کو کھلانے کے لیے کوئی پیسے نہیں۔ ان کے پاس امریکہ اور بین الاقوامی برادری کے لیے ایک پیغام ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’طالبان پر پابندیاں ہمیں، طالبان کی جانب سے ہمارے حقوق کی خلاف ورزی سے زیادہ تیزی سے ماریں گی۔ ایک لڑکی بھوک سے مر جاتی ہے اور ماں یا تو بھوک کی وجہ سے اپنی بیٹی کو فروخت کر دیتی ہے یا پھر زبردستی اس پر شادی کے لیے دباؤ ڈالتی ہے۔ جب آپ بھوک سے مر رہے ہوں تو اس کے سامنے تعلیم کا مسئلہ بے معنی ہے۔‘

زندگی صرف کام ہی نہیں اور اسی لیے فاطمہ ہر اس چیز کے بارے میں دکھی ہیں جو انھوں نے کھو دی۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ رات بھر جاگتی اور پریشان رہتی ہیں۔ گذشتہ پانچ ماہ کے دوران ذہنی تناؤ اور پریشانی کی وجہ سے ان کے بال جھڑنے لگے ہیں اور اس کے علاوہ بھی تبدیلیاں آئی ہیں۔

اپنے فارغ وقت میں وہ ٹیکسٹائل آرٹسٹ ہیں۔ انھوں نے مجھے اپنا کام دکھایا: روایتی مناظر کی نمائندگی، جیسے کہ ملک کا قومی کھیل بزکشی، جہاں گھوڑوں پر سوار مرد گول کرنے کے لیے مقابلہ کرتے ہیں لیکن ان کا حالیہ کام ملک میں گذشتہ کچھ ماہ میں آنے والی تبدیلیوں کی عکاسی کرتا ہے۔

ان کے کام میں کابل ایئر پورٹ سے انخلا کے دنوں کے منظر نامے اور برقعہ پہنے خواتین کی منظر کشی بھی کی گئی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کا کام اب ان چیزوں پر فوکس کرتا ہے جو افغان معاشرے میں نہیں رہیں: جیسے وہ لوگ جو ملک چھوڑ کر چلے، وہ خواتین جو غائب ہو گئیں اور وہ خواتین جو کبھی اپنے گھروں سے باہر نہیں نکلتیں۔‘

فاطمہ بتاتی ہیں کہ وہ دوسری خواتین کو سلائی کڑھائی کا کام بھی سکھاتی تھیں اور بقول ان کے بہت سی خواتین اس سے اچھے خاصے پیسے بھی کما لیتی تھیں لیکن طالبان کا ماننا ہے کہ کپڑوں پر نقش نگاری غیر اسلامی ہے اور اس وجہ سے اب وہ خواتین اپنے گھروں میں بند ہو کر رہ گئیں ہیں۔

فاطمہ نے بتایا کہ ’ہم افغانستان میں اور ملک سے باہر نمائشوں میں حصہ لیتے تھے اور منافع کماتے تھے۔ وہ خواتین اپنے خاندانوں میں واحد کمانے والی تھیں۔‘

’خواتین کے لیے نجی جگہیں اب ختم ہو رہی ہیں۔ میری ایک دوست تھی جس سے میں اپنا ہر راز اور بات شیئر کرتی تھی لیکن اب وہ کسی اور ہسپتال میں کام کرتی ہے اور میں کسی اور ہسپتال میں۔‘ فاطمہ نے بتایا کہ اب وہ دونوں ایک دوسرے سے اکیلے نہیں مل سکتیں۔

فاطمہ نے مجھے بتایا کہ حال ہی میں جب وہ بیوٹی پارلر گئیں تو ایک عورت کی تصویر پر انھوں نے سیاہی دیکھی۔

’میں نے پوچھا کہ عورت کی تصویر کے ساتھ ایسا کیوں کیا گیا تو انھوں نے جواب دیا کہ طالبان نے انھیں تین بار اسے ڈھانپنے کی تنبیہ کی تھی۔‘

’میں تمام خواتین اور بیوٹی پارلر کے باہر موجود اس تصویر کے لیے بہت روئی۔‘

امینہ

عمر: 29 برس

پیشہ: انٹیلیجنس افسر

29 برس کی امینہ کو بیوٹی پالر کے بارے میں سب سے کم تشویش ہے کیونکہ وہ کہتی ہیں کہ انھیں اپنی جان کے بارے میں زیادہ خوف لاحق ہے۔

15 اگست کو انھوں نے اپنا دن افغان انٹیلیجنس سروس کے نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی (این ڈی ایس) کے ایک سیف ہاؤس کا دورہ کر کے شروع کیا اور این ڈی ایس کے ہیڈ کوارٹر جانے سے پہلے انھیں اخراجات کی رقم دی گئی۔

’میں ملک بھر میں این ڈی ایس کے خواتین سٹاف میں سے 100 کی منتقلی کو محفوظ بنانے میں کامیاب رہی۔ میرے لیے یہ بالکل ناقابل یقین تھا کہ کابل پر بھی طالبان کا قبضہ ہو جائے گا۔‘

’جب میں دفتر پہنچی تو میں نے ہر کسی کو پریشان اور بھاگتے دیکھا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ وہ کہاں جا رہے ہیں تو انھوں نے کہا کہ میڈیم برائے مہربانی دفتر چھوڑ دیں، طالبان آ چکے ہیں۔‘

لیکن امینہ یہ مذاق کرتے ہوئے اپنی میز پر آئیں کہ چونکہ کابل کی ٹریفک بہت بری ہے تو طالبان اگلی صبح تک این ڈی ایس کے دفتر نہیں پہنچ سکیں گے۔

یہ بھی پڑھیے

وہ کہتی ہیں کہ بعد میں ہیومن ریسورس کا عملہ ان کے پاس آیا اور پوچھا کہ اب جب تمام عملہ جا رہا ہے تو انھیں کیا کرنا چاہیے۔ ’میں نے ان سے پوچھا کہ سب افسران کہاں ہیں؟‘

انھیں پتا چلا کہ سوائے دو ڈپٹی کمانڈرز کے سب جا چکے ہیں اور پھر دوپہر کے تقریباً اڑھائی بجے کے قریب امینہ ایک مسلح دستے کے ساتھ اپنے گھر کے لیے نکلیں اور اس کے بعد سے اب تک وہ این ڈی ایس ہیڈ کوارٹرز واپس نہیں جا سکی ہیں۔

اس سب سے پہلے انھوں نے صدر اشرف غنی، وزیر دفاع اور این ڈی ایس کے سربراہ کو یہ حکم جاری کرتے دیکھا تھا کہ کابل کو ہر ممکن طریقے سے بچایا جانا چاہیے لیکن گھر پر امینہ نے ٹیلی ویژن پر دیکھا کہ طالبان صدارتی محل کے اندر ہیں اور صدر اشرف غنی بھی بھاگ چکے ہیں۔

کئی ماہ بعد بھی امینہ اس بارے میں بہت غصہ ہیں کہ اشرف غنی اپنا ملک چھوڑ کر چلے گئے۔

’یہ ان کی ذمہ داری تھی کہ وہ اپنی آخری سانس تک مزاحمت کرتے کیونکہ وہ افغان نیشنل سکیورٹی سروسز کے چیف کمانڈر تھے۔ سکیورٹی سروسز کی قیادت کرنے والے شخص کو بھاگنا نہیں چاہیے بلکہ خون کے آخری قطرے اور اس دنیا میں اپنے آخری لمحے تک مقابلہ کرنا چاہیے۔‘

اس کے بعد کے دن کسی ڈراؤنے خواب جیسے تھے۔ طالبان نے امینہ کے گھر کی تلاشی لی لیکن اپنی جان کو لاحق خطرے کی وجہ سے وہ اس سے پہلے ہی اپنا گھر چھوڑ چکی تھیں۔

امینہ بتاتی ہیں کہ طالبان ان کی بندوق اور گاڑی اپنے ساتھ لے گئے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’فوج میں کسی کے لیے سب سے بڑا فخر اس کا ہتھیار ہوتا ہے۔ ہمارے لیے بہت تکلیف دہ ہوتا ہے کہ ایک دہشتگرد آئے اور آپ کو غیر مسلح کر دے۔‘

امینہ سمجھتی ہیں کہ افغان فورسز کو سیاستدانوں کے بند کمروں میں ہونے والے معاہدوں نے دھوکہ دیا اور شاید وہ امید کرتی ہیں کہ مغرب دوبارہ افغانستان کی مدد کو آئے گا۔

وہ کہتی ہیں کہ افغان فورسز نے ’بڑی تعداد میں جانی نقصان‘ اٹھایا۔ مجھے ایسا لگا کہ ان کی قربانی اور میرے قریبی ساتھیوں، سب کی قربانیاں خاک میں مل گئیں۔‘

وہ امریکہ اور برطانیہ کو درخواست کے ساتھ اپنی بات ختم کرتی ہیں: ’دنیا اور عالمی برادری کو دہشتگرد طالبان کے خلاف ہماری قربانیوں اور کوششوں کو کبھی نہیں بھولنا چاہیے اور اس حقیقت کو بھی نہ بھولا جائے کہ ہم نے ماضی میں 20 برس تک حکومت بنائے رکھی۔‘

مینا

عمر: 22 برس

یونیورسٹی طالبعلم

مینا مغرب سے کوئی التجا نہیں کرتیں سوائے اس کے کہ ’ہمیں اکیلا چھوڑ دیا‘ جائے۔ وہ کہتی ہیں کہ طالبان کی واپسی سے قبل اور ملک میں 20 سال کی مغربی معاونت کے باوجود بھی خواتین کے حقوق خطرے میں تھے۔

مینا ایک بہت قابل سٹوڈنٹ ہیں اور افغانستان کے محکمہ تعلیم کے قومی امتحانات میں نمایاں پوزیشن بھی حاصل کر چکی ہیں۔ چار برس کی پڑھائی کے بعد ان کی گریجویشن مکمل ہونے میں صرف ایک ماہ باقی تھا جب طالبان آ گئے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’صرف چند گھنٹوں‘ میں ان کا مستقبل بدل گیا۔ اب کوئی یونیورسٹی ڈپلومہ نہیں ہو گا۔ مینا اپنے خاندان کے دیگر افراد کی طرح سفارت کار بننا اور آکسفرڈ میں پڑھنا چاہتی تھیں لیکن ان کے لیے افغانستان کی خدمت ہمیشہ اولین ترجیح رہی۔

وہ کہتی ہیں کہ ’تعلیم کے بغیر ہماری ملازمتوں پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ ہمارے مستقبل کے بارے میں کوئی روشن امکانات نہیں۔‘

مینا اپنی کامیابی کے لیے پر عزم ہیں۔ وہ اپنے تعلیم یافتہ اور خود مختار بننے کی جس جنگ کا ذکر کرتی ہیں، وہ افغان خواتین کے لیے کوئی معمولی بات نہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’جب میں پیدا ہوئی تو میری آنٹیاں صدمے سے رونے لگیں کہ لڑکی کیوں ہوئی۔‘

مینا اس بات کی ایک یاد دہانی ہیں کہ طالبان کے آنے سے پہلے بھی افغانستان میں خواتین کے حقوق کی حالت تسلی بخش نہیں تھی۔ وہ جمہوری افغان کے دوران بڑی ہوئی ہیں لیکن وہ کہتی ہیں کہ پھر بھی انھیں اپنی ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز اور حق کے لیے لڑنا پڑا۔

’بہت سے لوگوں اور رشتہ داروں نے مجھے یہ بتایا کہ قانون اور سیاسیات کی تعلیم لڑکیوں کے لیے اچھی نہیں۔‘

مینا اور ان جیسی بے شمار لڑکیوں کی کامیابیاں راتوں رات ختم ہو گئیں۔ اب وہ محسوس کرتی ہیں کہ ان کی دنیا بہت محدود ہو گئی ہے۔ وہ اب اپنا زیادہ تر وقت اپنے کمرے میں لکھتے ہوئے گزارتی ہیں لیکن وہ افغانستان کی صورتحال کی جو منظر کشی کرتی ہیں وہ بہت پیچیدہ ہے۔

وہ کہتی ہیں اپنی بربریت کے لیے مشہور طالبان کی وجہ سے اب گلیوں میں خواتین اور لڑکیوں کو کم ہراساں کیا جاتا ہے۔

’اب ایک مثبت چیز یہ ہے کہ پہلے بہت سے لوگ لڑکیوں کے لیے ناشائستہ الفاظ استعمال کرتے تھے لیکن اب وہ ایسا نہیں کر سکتے۔‘

جب میں نے پوچھا کہ اس وجہ کیا ہے تو انھوں نے کہا کہ اگر وہ (مرد) ایسا کریں گے تو انھیں سزا ملے گی لیکن وہ ابھی بھی باہر جانے کے بارے میں فکر مند رہتی ہیں۔

بہت سی خواتین کو خوف ہے کہ خود کو مناسب طریقے سے نہ ڈھانپنے یا کسی مرد کے بغیر سفر کرنے پر طالبان کے چیک پوائنٹس پر انھیں ہراساں کیا جا سکتا ہے۔

طالبان پر یہ الزام بھی ہے کہ وہ خواتین کے موبائل فون کی ایسے مواد کے لیے تلاشی لیتے ہیں جسے وہ نامناسب سمجھتے ہیں۔

مینا ابھی بھی اپنے دوستوں سے بات کرتی ہیں لیکن زیادہ تر فون پر موجود چیٹ ایپس کے ذریعے۔

لیکن مینا نے امید نہیں چھوڑی۔ جب میں نے ان کی شناخت چھپانے کے لیے ایک اندھیرے کمرے میں ان کا انٹرویو کیا تو انھوں نے کہا کہ وہ خاموش نہ رہنے کی امید کرتی ہیں۔

’میں اپنے ملک کی خدمت کرنا اور اپنی صنف کے حقوق کے بارے میں بولنا چاہتی ہوں۔ میں اپنے حقوق کے لیے لڑنا چاہتی ہوں۔ اپنے حقوق، اپنے خاندان کے حقوق، دوستوں اور ساتھ کام کرنے والوں کے حقوق کے لیے لڑنا خوش کن ہے۔‘

خواتین کو حق تعلیم سے محروم کرنے کے طویل مدتی اثرات مرتب ہوں گے لیکن انھیں کام کرنے کی جگہ سے ہٹانا، جیسا کہ طالبان نے بڑی تعداد میں کیا، فوری طور پر محسوس کیا جا رہا ہے کیونکہ افغانستان کو بدترین انسانی بحران کا سامنا ہے۔

بہت سی خواتین ایسی بھی تھیں جو اپنے خاندان میں واحد کمانے والی تھیں۔

زاہرہ اور سمیرا

عمر: 34 اور 36 برس

پیشہ: پولیس

زاہرہ اور سمیرا دو خاتون پولیس اہلکار ہیں جو ایک دوسرے کو بچپن سے جانتی ہیں۔ انھوں نے مجھے اپنی پولیس ٹریننگ کے دور کی تصاویر دکھائیں۔

امریکی فنڈنگ ​​کی وجہ سے پولیس اور فوج میں خواتین کی تعداد میں اضافہ ہوا لیکن امریکی فوج کے جانے کے بعد یہ رقم غائب ہو گئی۔

زاہرہ طالبان کے قبضے سے پہلے کابل کے مشرق میں صوبہ لغمان میں اپنے عہدے پر فائز تھیں۔ جب طالبان نے افغان افواج پر قابو حاصل کیا تو انھوں نے اپنی جان لینے کا بھی سوچا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’ہمیں نہیں معلوم کہ ہمیں اپنے ملک میں رہنا چاہیے یا کہیں اور۔ اب بہت مشکل ہو گیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے میں سانس نہیں لے سکتی۔ میرے بچے سکول جا رہے تھے لیکن اب نہیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ معاشی حالات دن بدن بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ ’ہم بغیر ملازمت کے اپنے گھروں میں محدود ہو کر رہ گئے ہیں اور ہمارے پاس زندگی گزارنے کے لیے کوئی کمائی نہیں‘ لیکن خواتین نے اس کے علاوہ اور بھی بہت کچھ کھویا ہے۔

اپنی دوست کی بات پر سر ہلا کر رضامندی کا اظہار کرتے ہوئے سمیرا نے کہا کہ ’میں اپنی زندگی کے بڑے بڑے چیلنجز حل کر لیتی تھی لیکن اب نہیں۔ میں اپنی بیٹی کے سکول جاتی تھی اور آزادانہ طور پر بازار میں گھومتی تھی۔ میرے پاس پیسے تھے، میں چیزیں خرید سکتی تھی اور فخریہ انداز میں اپنا تعارف کرا سکتی تھی لیکن اب ایسا نہیں۔ میں نے اپنے وجود کا احساس کھو دیا۔ اب میری کوئی شناخت باقی نہیں رہی۔‘

سمیرا طالبان کے قبضے کے بعد کے دنوں کو بیان کرتی ہیں، جب وہ کابل میں اپنے گھر کی چھت کے ایک پرسکون کونے میں بیٹھی جہازوں کو آسمانوں پر اڑتے دیکھ رہی تھیں، جو ان کے ملک کی ہزاروں خواتین اور مردوں کو حفاظت میں لے کر جا رہے تھے۔

زاہرہ اس کے بعد کے مہینوں کو اس طرح بیان کرتی ہیں جیسے ’سفیدی پر سیاہی ڈال دی گئی ہو۔‘

خواتین خوفزدہ ہیں۔ جب ان کے پڑوس میں نئے لوگ آتے ہیں تو وہ مشکوک محسوس کرتی ہیں۔

طالبان دعویٰ کرتے ہیں کہ انھوں نے سابق حکومت میں کام کرنے والوں کے لیے عام معافی کی پیشکش کی ہے تاہم اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس کے پاس مصدقہ اطلاعات ہیں کہ طالبان کے قبضے کے بعد سے گزشتہ حکومت میں خدمات انجام دینے والے 100 سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔

پولیس افسر اور خواتین کی جیل کی سربراہ عالیہ عزیزی چار ماہ سے لاپتہ ہیں۔ وہ اس وقت سے لاپتہ ہیں جب طالبان حکام نے انھیں کام کے لیے بلایا تھا۔ ایک سوشل میڈیا مہم #FreeAliaAzizi کے ذریعے ان کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔

کابل میں خواتین کے حقوق کے لیے مارچ میں شریک چار خواتین، جو اپنے خاندان کے افراد کے ساتھ غائب ہو گئی تھیں، کو رہا کر دیا گیا ہے لیکن طالبان مسلسل یہ کہتے رہے کہ یہ خواتین ان کے پاس نہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ عالیہ عزیزی ان کے پاس نہیں۔

زاہرہ کہتی ہیں کہ ان خدشات کی وجہ سے، ان کے بچے یہ خواہش کرتے ہیں کہ کاش ان کی والدہ سیکیورٹی سروسز میں نہ ہوتیں۔

’میں انھیں کہتی ہوں کہ ٹھیک ہے اور امید کرتی ہوں کہ ایک دن انھیں اس بات کا اندازہ ہو گا کہ فرائض کی ادائیگی میں ہم نے اپنی جانوں کو قربان کیا، خود کو خطرے میں ڈالا اور ابھی بھی فرض کی ادائیگی کے لیے تیار ہیں۔ تو میں اس دن کے آنے کا انتظار کر رہی ہوں۔‘

وہ مزید کہتی ہیں کہ ’امریکہ اور نیٹو نے یہ ملازمتیں کرنے کے لیے ہماری حوصلہ افزائی کی۔ امریکہ، کینیڈا، جرمنی اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی خواتین نے ہماری ٹریننگ کی۔ انھوں نے کہا تھا کہ وہ کندھے سے کندھا جوڑے ہمارے ساتھ کھڑی رہیں گی لیکن آخر میں وہ ہمیں اکیلا چھوڑ کر چلے گئے۔‘

رپورٹنگ: کوئنٹن سمرویل

ایڈیٹر: کیتھرین ویسٹ کوٹ

پروڈکشن: پال سارجنٹ اور ڈومینک بیلے

ڈیزائن: جائے روکس اور پرینہ شاہ

ڈویلپمنٹ: زو تھامس اور بیکی رش

خاکے: کلاوے رزیکس

فوٹوگرافی: ڈیو بل