کابل میں خواتین کا احتجاج: زینب عبدالعلی کے قتل کی مذمت اور لاپتہ عالیہ عزیزی کی بازیابی کا مطالبہ

’زینب عبدالعلی اپنی دو سہیلیوں کے ساتھ ایک دوست کی شادی پر گئی تھیں۔ واپسی کے وقت راستے میں تین چوکیاں پڑتی ہیں۔ انھیں تینوں چوکیوں پر روکا گیا، آخری چوکی پر بھی روکا گیا مگر پھر جانے دیا گیا۔ جب وہ پندرہ، بیس میٹر آگے بڑھیں تو پیچھے سے ان پر فائرنگ ہوئی۔‘

زینب عبدالعلی کے منگیتر عبدالمجید بشیر یار کا دعویٰ ہے کہ ’زینب کو پولیس کی ایک چوکی سے گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔‘

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں اتوار کو ایک بار پھر کئی خواتین احتجاج کے لیے نکلیں۔ ان خواتین نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر یہ مطالبات درج تھے کہ زینب احمدی اور زینب عبدالعلی کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے اور کئی ہفتوں سے لاپتہ سابق دور حکومت میں جیل خانہ جات کی اعلیٰ افسر عالیہ عزیزی کو بازیاب کروایا جائے۔

ان خواتین کی تعداد تقریباً چالیس، پچاس کے لگ بھگ تھی جو کابل یونیورسٹی جا کر احتجاج کرنا چاہتیں تھیں۔ وہاں پر سخت ناکہ بندی کے باعث یہ یونیورسٹی تو نہ پہنچ سکیں مگر انھوں نے اس کے قریب ہی احتجاج کیا۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس موقع پر خواتین مظاہرین پر مرچوں کا سپرے کیا گیا۔

احتجاجی مظاہرے میں موجود انسانی حقوق کی کارکن خاتون مرزیہ محمد کا دعویٰ تھا کہ ’اس موقع پر احتجاج کرنے والی خواتین پر مرچوں کا سپرے کیا گیا جس سے کئی خواتین متاثر ہوئیں اور کچھ کو ہسپتال بھی جانا پڑا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا ’سخت ترین ناکہ بندی اور ہمارے خلاف انتہائی جارحانہ رویے کے باوجود ہم لوگ کم از کم احتجاج کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں۔‘

مرزیہ محمد کے مطابق کابل کے علاوہ افغانستان کے دیگر شہروں میں خواتین کا اپنے حقوق کے لیے احتجاج جاری ہے۔ مگر یہ احتجاج بطور خاص زینب احمدی، زینب عبدالعلی کے قتل کی مذمت اور لاپتہ عالیہ عزیزی کی بازیابی کے لیے تھا۔

مرزیہ محمد کا کہنا تھا کہ عالیہ عزیزی کئی ہفتوں سے لاپتہ ہیں ’ان کا کچھ پتہ نہیں وہ کہاں ہیں، کس حال میں ہیں۔ ان کے ساتھ کیا ہورہا ہے۔ یہ ایک خاتون کے ساتھ ظلم عظیم ہے۔‘

انھوں نے دعویٰ کیا کہ’ گذشتہ کچھ دنوں سے خواتین کے قتل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ زینب احمدی سابق دور حکومت میں کابل کی عدالت میں خدمات انجام دیتی تھیں ان کو راہ چلتے قتل کیا گیا ہے۔ ان کی دو ہفتے قبل شادی ہوئی تھی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اس قتل کے بعد زینب احمدی کے اہل خانہ اتنے خوفزدہ ہو چکے ہیں کہ وہ کسی سے بات کرنے پر بھی تیار نہیں ہیں۔ اسی طرح زینب عبدالعلی کو جمعے کی شام قتل کیا گیا۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’ہمارا مطالبہ ہے کہ ان خواتین کے قاتلوں کو منظر عام پر لایا جائے۔‘

طالبان کا موقف

صحافی محمد زبیر خان کے مطابق عالیہ عزیزی کی گمشدگی کے حوالے سے افغان طالبان کا کہنا ہے کہ 'ان کے بارے میں ہم نے پورے افغانستان میں تحقیقات کی ہیں، وہ کسی جیل میں نہیں۔ یہ کوئی اور ہی واقعہ لگتا ہے۔'

انعام اللہ سمنگانی (مرکزی نائب ترجمان ) کا زینب عبدالعلی کے حوالے سے کہنا ہے کہ واقعہ رات کے وقت پیش آیا تھا جب 'چیک پوسٹ پر ایک گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا گیا۔ مجاہدین نے دیکھا گاڑی میں خاتون بھی تھی تو مجاہدین نے جانے دیا۔ اس دوران پیچھے سے مجاہدین پر نامعلوم افراد کی فائرنگ ہوگئی۔ فائرنگ کا تبادلہ دونوں طرف سے ہوا۔اس میں مذکورہ گاڑی بھی نشانہ بنی جس میں یہ خاتون زخمی ہوگئیں۔ خاتون کو مجاہدین ہی نے ہسپتال پہنچایا جہاں وہ دم توڑ گئیں۔ اس حوالے سے مزید تحقیقات ابھی جاری ہیں۔'

’عالیہ عزیزی کے بچے ماں کو یاد کررہے ہیں‘

ہرات سے تعلق رکھنے والی عالیہ عزیزی اکتوبر سے لاپتہ ہیں۔ مختلف میڈیا رپورٹس کے مطابق عالیہ عزیزی نے گذشتہ دور حکومت میں روایت پسندی کو توڑتے ہوئے یونیفارم پہنا تھا۔

عالیہ عزیزی نے محکمہ جیل خانہ جات میں شمولیت کے لیے باقاعدہ تربیت حاصل کی تھی اور وہ کئی سالوں تک خدمات انجام دیتی رہیں۔

ان کے قریبی رشتہ داروں کے مطابق انھوں نے یہ فیصلہ اپنے خاندان کی غربت کے خاتمے اور بچوں کی خاطر کیا تھا۔ وہ اپنے بچوں کو اچھا مستقبل دینا چاہتی تھیں جس کے لیے انھوں نے ملازمت اختیار کی تھی۔

عالیہ عزیزی نے طالبان حکومت کے شروع کے دنوں میں بھی اپنے فرائض انجام دیے تھے۔ طالبان حکومت کی جانب سے ان کو ہرات کی ایک جیل میں باقاعدہ فرائض ادا کرنے کا کہا گیا تھا۔ مگر دو اکتوبر کو جب وہ اپنے فرائض ادا کررہی تھیں تو لاپتہ ہو گئیں۔

عالیہ عزیزی کے قریبی رشتہ داروں کے مطابق ان کے کم عمر بچے اپنی ماں کو یاد کرتے ہیں۔ اس وقت ان بچوں کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں ہے۔

’زینب عبدالعلی کو شادی سے واپسی پر قتل کیا گیا‘

زینب عبدالعلی کے منگیتر عبدالمجید بشیر یار سابق دور حکومت میں افغان پارلیمنٹ میں ملازمت کرتے تھے۔ اس سے قبل وہ کابل میں پولیس میں بھی ملازمت کرتے رہے تھے۔

ان کا دعویٰ ہے کہ ’زینب عبدالعلی کو پولیس کی ایک چوکی سے گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔‘

عبدالمجید بشیر یار کہتے ہیں کہ ’زینب عبدالعلی اپنی دو سہیلیوں کے ساتھ ایک دوست کی شادی پر گئی تھیں۔ واپسی پر راستے میں تین چوکیاں پڑتی ہیں۔ انھیں تینوں چوکیوں پر روکا گیا، آخری چوکی پر بھی روکا گیا مگر پھر جانے دیا گیا۔ جب وہ پندرہ، بیس میٹر آگے بڑھیں تو پیچھے سے ان پر فائرنگ کی گئی۔‘

عبدالمجید بشیر یار کے مطابق ’زینب عبدالعلی کو دو گولیاں لگی تھیں۔ یہ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ وہ کس طرح ہسپتال پہنچیں مگر وہ ہسپتال پہچنے سے پہلے ہی ہلاک ہوچکی تھیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم مختلف چوکیوں پر گئے۔ انھوں نے ہماری شکایت لکھی یا نہیں یہ تو نہیں معلوم مگر ایک روز قبل طالبان رہنما زینب عبدالعلی کے گھر گئے تھے۔ جہاں پر انھوں نے تعزیت کی اور ایک بیان دیا۔ انھوں نے ہمیں یہ تو نہیں بتایا کہ زینب عبدالعلی کے قاتلوں کا کیا بنا تاہم ہمیں صبر کرنے کی تلقین کی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’زینب عبدالعلی اپنے بوڑھے ماں باپ اور خاندان کا سہارا تھیں۔ ان کے والدین نے جب سے سنا ہے کہ وہ ہلاک ہوچکی ہیں تب سے صدمے کی کیفیت میں ہیں۔ ان کی طبعیت متعدد بار خراب ہو چکی ہے۔ ان کی بڑی بہن اپنی جگہ سے حرکت ہی نہیں کر پارہی ہے، پتا نہیں اس کے ساتھ کیا ہوا ہے۔‘

زینب عبدالعلیٰ انتہائی خوش لباس خاتون تھیں

عبدالمجید بشیر یار کا کہنا تھا کہ زینب عبدالعلی سمیت چھ بہنیں اور دو بھائی ہیں اور ان کا بچپن ایران میں گزارا تھا۔

افغانستان کے حالات بہتر ہونے کے بعد وہ لوگ دوبارہ کابل منتقل ہوگئے تھے۔ زینب کے ایک بھائی افغانستان کو چھوڑ چکے ہیں۔ وہ کہاں پہنچے ہیں اس بارے میں ابھی کوئی مصدقہ اطلاعات نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں کچھ عرصہ قبل جب پولیس میں ملازمت کرتا تھا تو اس وقت میرا دفتر اور زینب عبدالعلی کا بینک پاس پاس تھے۔ میں سر جھکائے زینب کو روز بینک جاتے اور آتے دیکھا کرتا تھا۔ اس کی شخصیت سے نہ صرف متاثر ہوا بلکہ اس کے عشق میں مبتلا ہوگیا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے اپنے والدین کے ذریعے زینب عبدالعلی کے گھر اپنا رشتہ بھیجا جو انھوں نے قبول کرلیا اور ہماری باضابطہ منگنی ہو گئی تھی۔ ہمیں لگتا تھا کہ ہم دونوں کا اب ایک دوسرے کے بغیر گزارہ نہیں ہے۔‘

عبدالمجید بشیر یار کا کہنا تھا کہ زینب عبدالعلیٰ انتہائی خوش لباس خاتون تھیں ’وہ ویسے بھی بہت شاندار شخصیت کی مالک تھی، اس کے ساتھ اس کی ڈریسنگ بھی بہت اچھی ہوتی تھی۔ وہ چن کر ایسے لباس کا انتخاب کرتی تھی جو اس پر شاندار لگتے تھے۔‘

وہ مزید بتاتے ہیں کہ ان کے درمیان اکثر تحائف کا تبادلہ ہوتا تھا۔ ’میں اسے تحفے میں کپڑے دیا کرتا تھا جبکہ وہ بھی میرے لیے تحائف خریدتی تھی۔

'آخری مرتبہ اس نے میرے لیے جوتے اور گھڑی لی تھی جو میں نے ابھی تک استعمال نہیں کیے اور شاید کبھی کر بھی نہ پاؤں، شاید زینب کی یہی یادگار میرے پاس ساری زندگی محفوظ رہے۔'