کارگل کا منقسم گاؤں اور اپنوں سے ملنے کا انتظار: ’آدھے تو بوڑھے ہو کر مر گئے لیکن اپنوں سے مل نہ سکے‘

ہندرمن، کارگل، انڈیا، پاکستان

،تصویر کا ذریعہSHIB SHANKAR CHATTERJEE/BBC

    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کارگل

’میرے تین بھائی سرحد کے اس طرف تھے اور ایک بہن تھی۔ سب مر گئے۔ ماں باپ، بھائی بہن، سب ایک دوسرے سے ملے بغیر مر گئے۔‘

ہندرمن کی زینب بی بی اپنی بات پوری کرنے سے پہلے رونے لگتی ہیں۔ ان کی آنکھیں سرحد کے اس طرف رہنے والے اپنے رشتے داروں کا انتظار کرتے کرتے تھک چکی ہیں۔

ہندرمن کارگل سے 13 کلومیٹر دور انڈیا اور پاکستان کی سرحد پر اونچے اونچے پہاڑوں کے درمیان بسا ہوا ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔

یہ گاؤں سرحد کے بہت نزدیک ہے۔ ہندرمن اور اس کے اطراف کا خطہ پہلے پاکستان کا حصہ تھا۔ سنہ 1971 کی جنگ میں انڈیا نے اس پر قبضہ کر لیا اور جنگ کی افراتفری میں کئی خاندان بچھڑ گئے۔

کچھ خاندان پاکستان کی طرف گئے، کچھ یہیں رہ گئے۔ اب 50 برس بعد بھی یہ بچھڑے ہوئے رشتے دار ایک دوسرے سے مل نہیں سکے۔

انڈیا کے قبضے کے بعد ہندرمن کے جو لوگ پاکستان چلے گئے ان کے خالی مکانات اب بھی موجود ہیں۔

ہندرمن، کارگل، انڈیا، پاکستان، زینت

،تصویر کا ذریعہSHIB SHANKAR CHATTERJEE/BBC

،تصویر کا کیپشنزینب اب بوڑھی ہو چکی ہیں اور اپنوں کے انتظار میں ان کی آنکھیں تھک چکی ہیں

مقامی باشندے محمد حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ ’سنہ 1971 میں ہمارا گاؤں منقسم ہو گیا۔ آدھا ادھر رہ گیا، آدھا ادھر رہ گیا۔ ہمارا لین دین، ہماری رشتے داری اس گاؤں میں بھی ہے اور یہاں بھی۔ کسی کی بہن اِدھر ہے تو کسی کا بھائی اُدھر ہے۔ کسی کی ماں اِدھر ہے تو کسی کا باپ اُدھر ہے۔‘

’آدھے تو بوڑھے ہو کر مر گئے لیکن اپنوں سے مل نہ سکے۔‘

اس کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ بیشتر لوگ غریب ہیں اور وہ ویزا لے کر ایک دوسرے کے ملک کے اتنے طویل اور مہنگے سفر کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

یہ بھی ایک مسئلہ ہے کہ دونوں حکومتیں انھیں مشکل سے ہی ویزا دیتی ہیں۔

ہندرمن، کارگل، انڈیا، پاکستان، یادوں کا میوزیم

،تصویر کا ذریعہSHIB SHANKAR CHATTERJEE/BBC

یادوں کا میوزیم

محمد حسین کہتے ہیں کہ ’کرتارپور راہداری کھلنے سے ہماری امیدیں بڑھ گئی ہیں۔ ہم ایک عرصے سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ہمارا سرحدی راستہ کھول دیا جائے۔ اس میں دونوں حکومتوں کو کوئی دقت درپیش نہیں۔ راستہ بالکل نزدیک ہے۔ دس منٹ کا راستہ ہے۔‘

ہندرمن کے باشندے محمد الیاس کے چچا جنگ کے دوران سرحد کے دوسری طرف کے گاؤں چلے گئے تھے اور پھر کبھی واپس نہ آسکے۔

الیاس نے بچھڑنے والوں کو یاد رکھنے کے لیے ’یادوں کا میوزیم’ بنایا ہے۔

ہندرمن، کارگل، انڈیا، پاکستان، یادوں کا میوزیم

،تصویر کا ذریعہSHIB SHANKAR CHATTERJEE/BBC

الیاس نے میوزیم میں رکھے ہوئے ایک صندوق کو دکھاتے ہوئے بتایا ’یہ چچا کا صندوق تھا، اسے جب ہم نے کھولا تو اس میں ان کے کپڑے اور دوسرا سامان نکلا۔ ہم نے اس سامان کو یہاں کی دیوار پر لگا دیا۔‘

’ہم اس طرح اپنے بچھڑے ہوئے رشتے داروں کو یاد کرتے ہیں تاکہ ہم دنیا کو بتا سکیں کہ ہم اپنے بچھڑنے والوں کو بھولے نہیں۔ ہمیں ان کا درد ہے۔‘

الیاس نے ایک فوٹو دکھاتے ہوئے بتایا کہ ’یہ ہمارے ماموں کی فوٹو ہے۔ انھیں یاد رکھنے کے لیے ہمارے پاس صرف یہی فوٹو ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

ہندرمن، کارگل، انڈیا، پاکستان، یادوں کا میوزیم

،تصویر کا ذریعہSHIB SHANKAR CHATTERJEE/BBC

’سڑک کھلنے سے سکیورٹی مرکز امن کے خطے میں بدل سکتا ہے‘

گاؤں سے کچھ ہی دور پاکستان کا خطہ دکھائی دیتا ہے۔ شاہراہ ریشم ہندرمن گاؤں اور کارگل قصبے کے درمیان سے گزرتی ہے۔ یہ شاہراہ اب بھی موجود ہے لیکن پاکستان کا خطہ جہاں سے شروع ہوتا ہے، اس سے کچھ پہلے انڈیا کی جانب سے یہ بند کر دی گئی ہے۔

وہاں انڈین فوج کی چھاؤنی ہے لیکن یہ خطہ عموماً پُرسکون رہا ہے۔ مقامی رہنما سجاد حسین کہتے ہیں کہ یہ ایک انسانی مسئلہ ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’لداخ اور بلتستان کے درمان تقریباً 15 ہزار خاندان ایسے ہیں جو آج بھی منقسم ہیں۔ یہ ایک انسانی المیہ ہے۔ ہم نے کئی بار حکومتوں سے اپیل کی کہ اس مسئلے کو انسانی بنیادوں پر حل کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح کی جدوجہد ہم نے کھرمنگ اور بلتستان میں بھی دیکھی ہے۔‘

ہندرمن، کارگل، انڈیا، پاکستان، یادوں کا میوزیم

،تصویر کا ذریعہSHIB SHANKAR CHATTERJEE/BBC

’یہاں تک کہ گلگت بلتستان کی اسمبلی میں قرارداد بھی منظور کی گئی لیکن بدقسمتی سے ابھی تک کوئی پہل نہیں ہوئی۔‘

سجاد حسین مزید کہتے ہیں کہ اگر حکومت راستے نہیں کھول سکتی تو کم از کم ایک ایسا میٹنگ پوائنٹ بنا دے جہاں رشتے دار ایک دوسرے سے مل سکیں۔

’اگر یہ سڑک کھل جائے تو یہ جو پورا خطہ سکیورٹی کا مرکز بنا ہوا ہے، امن کے خطے میں بدل سکتا ہے۔‘

ہندرمن، کارگل، انڈیا، پاکستان

،تصویر کا ذریعہSHIB SHANKAR CHATTERJEE/BBC

زینب بی بی اب بوڑھی ہو چکی ہیں۔ اپنوں کے انتظار میں ان کی آنکھیں تھک چکی ہیں اور اس گاؤں کی نئی نسل سرحد کے اس فاصلےکو ختم ہوتا ہوا دیکھنا چاہتی ہے۔

لیکن اپنی یادوں اور درد کے ساتھ ہندرمن گاؤں ساکت کھڑا ہے۔