محمود انصاری: ایک انڈین ’جاسوس‘ کی کہانی جنھیں اپنے بھی اپنانے سے گریزاں ہیں

محمود انصاری

،تصویر کا ذریعہFatima Ansari

،تصویر کا کیپشنمحمود انصاری
    • مصنف, نیاز فاروقی
    • عہدہ, بی بی سی، نئی دہلی

انڈین سپریم کورٹ نے حکومت کو ایک ایسے شخص کو 10 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے جن کا دعویٰ تھا کہ انھیں 1970 کی دہائی میں انڈیا کی ایک خفیہ ایجنسی نے جاسوسی کی غرض سے پاکستان بھیجا تھا جہاں وہ پکڑے گئے اور انھیں جاسوسی کے الزام میں 14 سال قید کی سزا سُنائی گئی۔

دونوں ہمسایہ ممالک میں ایک دوسرے کے لیے جاسوسی کے الزامات کے تحت گرفتاریاں غیر معمولی نہیں تاہم عدالت کی جانب سے کسی شخص کو معاوضہ دینے کا حکم یقیناً اپنی نوعیت کا منفرد واقعہ ہے۔

انڈین سپریم کورٹ نے اس کیس کو ’عجیب حقائق اور حالات‘ پر مبنی قرار دیتے ہوئے محمود انصاری نامی شخص کو معاوضہ ادا کرنے کا حکم تو دیا لیکن اپنے فیصلے میں عدالت نے محمود انصاری کے ’انڈین جاسوس‘ ہونے اور جاسوسی کی غرض سے ’پاکستان مشن پر جانے‘ کے دعوے کو قبول کرنے سے گریز کیا۔

محمود انصاری کا تعلق انڈیا کی ریاست راجستھان کے شہر کوٹا سے ہے۔

اس کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ میں حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل (اے ایس جی) وکرم جیت بنرجی نے اِس بات پر زور دیا کہ انڈین حکومت کا انصاری سے کوئی لینا دینا نہیں۔

مگر انصاری کے وکیل سمر وجے سنگھ نے بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس ضمن میں تمام تر ثبوت جیسا کہ محکمہ ڈاک، سپیشل بیورو آف انٹیلیجینس اور محمود انصاری کے درمیان تمام تر رابطوں کی تفصیلات عدالت کے سامنے پیش کیں جس سے ثابت ہوا کہ انصاری نے سپیشل بیورو آف انٹیلیجینس کے لیے کام کیا اور اِسی بنیاد پر انھیں معاوضہ ادا کرنے کے احکامات جاری ہوئے۔

سپریم کورٹ، انڈیا

،تصویر کا ذریعہREUTERS/ADNAN ABIDI

،تصویر کا کیپشناس کیس کی سماعت انڈین سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی

انھوں نے مزید بتایا کہ ان دستاویزات کی بنیاد پر عدالت کا مؤقف تھا کہ ’ہاں، وہ جاسوس تھے لیکن یہ حکومتی پالیسی ہے کہ ہم انھیں براہ راست یہ نہیں کہہ سکتے۔ لہٰذا جس طرح حکومت نے ان کی ذمہ داری لینے سے انکار کیا، ہم بھی ان کے دعوے کو مسترد کرتے ہیں۔‘

انڈین اخبار ’ہندوستان ٹائمز‘ کے مطابق عدالت نے کہا کہ ’کوئی بھی حکومت اپنے خصوصی ایجنٹوں کو قبول نہیں کرتی۔ کوئی بھی حکومت اُن کی ملکیت نہیں لیتی۔۔۔ شاید یہ صحیح نہ ہو لیکن یہ اسی طرح کام کرتا ہے۔‘

محمود انصاری نے کوٹا شہر سے بی بی سی سے فون پر بات کرتے ہوئے اس فیصلے کو انصاف کی جیت قرار دیا تاہم اُن کی بیٹی فاطمہ، جو اپنے والد کی پاکستان میں گرفتاری کے وقت فقط 11 ماہ کی تھیں، کا کہنا تھا کہ اُن کے والد کو ’پورا انصاف‘ نہیں ملا۔

محمود انصاری پاکستان کیسے پہنچے؟

ریلوے پوسٹل سروس کے ملازم محمود انصاری نے سپریم کورٹ میں دائر اپنی پٹیشن میں دعویٰ کیا کہ انھیں انڈیا کے سپیشل بیورو آف انٹیلیجینس نے پاکستان جا کر جاسوسی کرنے کی دعوت دی اور اس مقصد کے لیے انھیں انڈین حکومت کے خفیہ محکمے کی درخواست پر راجستھان کے کوٹا شہر سے ریاستی دارالحکومت جے پور میں منتقل کیا گیا۔

سرحد عبور کرنے سے قبل ہی محمود انصاری پاکستان رینجرز کے ہاتھوں گرفتار ہو گئے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسرحد عبور کرنے سے قبل ہی محمود انصاری پاکستان رینجرز کے ہاتھوں گرفتار ہو گئے

ان کے دعوے کے مطابق انھوں نے سنہ 1976 میں دو دفعہ مختصر دورانیے کے پاکستان کے دورے کیے اور وہاں اپنا ’خفیہ مشن‘ کامیابی سے مکمل کیا لیکن اُسی سال دسمبر (1976) میں وہ 21 دن پر محیط تیسرے سفر کے بعد جب پاکستان سے انڈیا واپس لوٹ رہے تھے تو سرحد عبور کرنے سے پہلے پاکستانی رینجرز نے انھیں گرفتار کر لیا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے محمود انصاری نے دعویٰ کیا کہ دراصل اُن کے گائیڈ نے انھیں دھوکہ دیا کیونکہ ’وہ شاید ڈبل ایجنٹ تھا۔‘

ان کا دعویٰ ہے کہ وہ کاغذ پر کوڈ الفاظ میں ’کچھ لکھ کر‘ پاکستان سے لا رہے تھے اور وہ کاغذ انھوں نے اپنے کپڑوں کے کالر میں چھپا رکھا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

انھوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ’لیکن تشدد کرنے پر آدمی کب تک معلومات چھپا سکتا ہے۔ میں کوئی بدمعاش تو ہوں نہیں۔ کب تک برداشت کرتا۔ اصل میں کالر میں سے کاغذ برآمد ہونے پر بات خراب ہو گئی اور اس پر درج کوڈ کے باعث وہ (پاکستان رینجرز) سب کچھ سمجھ گئے۔‘

محمود کے مطابق انھیں سنہ 1978 میں جاسوسی کے الزام میں 14 سال قید بامشقت کی سزا سُنائی گئی۔

انھوں نے عدالت میں دعویٰ کیا کہ انھیں پاکستان میں ایک ’خاص کام‘ سرانجام دینے کے احکامات موصول ہوئے تھے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ وہ ’سپیشل بیورو آف انٹیلیجنس‘ کی رہنمائی اور کنٹرول میں قوم کے مفاد میں اپنے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔

اُن کی بیٹی فاطمہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں پکڑے جانے کے بعد تقریباً دو سال تک ان کی فیملی یہ سمجھتی رہی کہ شاید ان کے ساتھ کوئی حادثہ ہو گیا ہے۔

جاسوسی کے الزام میں محمود انصاری کو 14 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنجاسوسی کے الزام میں محمود انصاری کو 14 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی

فاطمہ بتاتی ہیں کہ ’ممی والد کے سینیئر افسران کے پاس گئیں۔ ان لوگوں نے ہاتھ کھڑے کر دیے۔ لیکن ممی کی بے بسی دیکھ کر انھوں نے اشارے میں کہا کہ وہ واپس آ جائیں گے۔‘

فاطمہ کے مطابق اُن کے والد کی غیر موجودگی اور ان کے حق کی لڑائی میں ’ہمارا سب کچھ بک گیا۔ زیورات، زمین، سائیکل، ریڈیو، یہاں تک کہ برتن تک بک گئے۔ والدہ رات کے دو تین بجے تک سلائی کا کام کرتی تھیں۔ انھوں نے گزر اوقات کے لیے سبزی تک بیچی۔‘

’ہماری ایسی حالت ہو گئی تھی جیسا کہ کسی کو آسمان سے زمین پر پٹخ دیا گیا ہو۔‘

انصاری کے مطابق قید کے دوران جب انھیں موقع ملا تو انھوں نے پوسٹل سروس، خفیہ محکمہ اور اپنی اہلیہ کو اپنے حالات کے بارے میں مطلع کیا۔

سپریم کورٹ میں اپنی پٹیشن میں انصاری نے دعویٰ کیا کہ قید کے دوران کویت میں مقیم اُن کے ایک رشتہ دار نے لاہور ہائیکورٹ کے بہاولپور بینچ میں ان کی بے گناہی کا دعویٰ کرتے ہوئے رہائی کی درخواست دائر کی اور آخر کار سنہ 1987 میں انھیں رہا کرنے کے احکامات جاری کیے گئے۔

قانونی معاملوں کی ویب سائٹ ’لائیو لا‘ کے مطابق اُن کے وکیل نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ رہائی کے بعد انھیں 1989 تک، جب تک انڈیا واپس نہیں لایا گیا، پاکستان میں انڈیا کے سفارتخانے میں رکھا گیا تھا۔

معاوضہ کیوں؟

محمود انصاری کا کہنا ہے کہ رہائی کے بعد جب وہ کوٹا میں اپنی رہائشگاہ پر پہنچے تو انھیں معلوم ہوا کہ حکام کو قید کے دوران اپنی صورتحال کے بارے میں مطلع کرنے کے باوجود بھی انھیں ’26 نومبر 1976 سے طویل غیر حاضری کے الزام میں‘ ملازمت سے برخاست کر دیا گیا تھا۔

انھوں نے حکام سے درخواست کی کہ انھیں وہ تمام کاغذات دیے جائیں جن میں ان کی سروس ختم کرنے کی تفصیل درج ہے تاہم اس کے جواب میں حکام نے انھیں صرف دو صفحات پر مشتمل ایک فوٹو کاپی فراہم کی جس پر درج تفصیلات پڑھی نہیں جا سکتی تھیں۔

ان کے مطابق ان کاغذات میں انکوائری رپورٹ، اس کے نتائج وغیرہ کی بابت کچھ درج نہیں تھا۔

انصاری کا دعویٰ ہے کہ ان کی مشکلات میں مزید اضافہ اس لیے ہوا کہ وہ خفیہ ادارے کے جس افسر میں رابطے میں تھے وہ اس دوران وفات پا چکے تھے۔

انصاری کے مطابق وہ مختلف محکموں میں اپنا کیس برسوں لڑتے رہے اور سنہ 2017 میں راجستھان ہائیکورٹ نے اس ضمن میں ان کی درخواست ’دائرہ اختیار اور پیٹیشن دائر کرنے میں تاخیر‘ کی بنیاد پر خارج کر دی۔

انصاری کا کہنا ہے کہ حکام کو سب کچھ معلوم تھا کہ وہ ’قوم کی خدمت‘ کر رہے ہیں اور ’سپیشل بیورو آف انٹیلیجینس‘ نے انھیں ’اے فور‘ کے نام سے ایک نئی خفیہ شناخت دی تھی۔

انھوں نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ درحقیقت انھوں نے 1975-76 میں محکمہ جاتی پروموشن کے لیے ایک امتحان کے لیے درخواست دی تھی لیکن سپیشل بیورو آف انٹیلیجینس میں ان کے نئے کردار کی وجہ سے انھیں امتحان میں شرکت کرنے سے روک دیا گیا اور انھیں پوری توجہ سے ’خصوصی خدمات‘ سرانجام دینے کا حکم دیا گیا۔

راجستھان ہائیکورٹ سے درخواست مسترد ہونے کے بعد آخر کار انھوں نے اپنا کیس سپریم کورٹ میں دائر کیا جہاں سے فیصلہ کچھ حد تک ان کے حق میں آیا۔

چیف جسٹس آف سپریم کورٹ یو یو للت اور جسٹس ایس رویندر بھٹ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے حکومت کو تین ہفتے کے اندر انصاری کو 10 لاکھ روپے کی رقم ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

مزید پڑھیے

قانونی اُمور پر لکھنے والی انڈین ویب سائٹ ’لائیو لا‘ کے مطابق سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد سرکاری وکیل نے جج حضرات کے سامنے اس خدشے کا اظہار کیا کہ معاوضے کی ادائیگی کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ ’حکومت ہند پاکستان میں جاسوسی کی ذمہ داری لے رہی ہے۔‘

لیکن عدالت عظمیٰ نے اپنے آرڈر میں کہا کہ ’مذکورہ رقم کی ادائیگی کسی بھی طرح سے جواب دہندگان (حکومت) کی ذمہ داری یا درخواست گزار کے استحقاق کی عکاسی نہیں۔‘

انصاری کی بیٹی فاطمہ کہتی ہیں کہ اُن کے والد کو اُن کا حق نہیں ملا۔

اُن کا ایک فوجی سے موازنہ کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ ’ایک فوجی اگر لڑنے جاتا ہے تو اسے عزت ملتی ہے یا نہیں؟ میرے والد اسی عزت کے مستحق تھے۔‘