انڈین سیاست میں فریبیز یعنی ’مفت کی ریوڑیاں‘ باٹنے پر تنازع

ریاست بہار اور بنگال میں حکومت نے سکولی لڑکیوں میں مفت سائیکل تقسیم کی ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنریاست بہار اور بنگال میں حکومت نے سکول کی لڑکیوں میں مفت سائیکل تقسیم کی ہے
    • مصنف, زویا متین
    • عہدہ, بی بی سی، نئی دہلی

کیا انڈین سیاستدان واقعی بہت زیادہ مفت چیزیں بانٹ رہے ہیں؟

یہ ایک بحث ہے جو ہفتوں سے جاری ہے۔ یہ بحث اس وقت شروع ہوئی جب انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ووٹروں کو سیاست دانوں کے 'خطرناک' رجحان سے خبردار کیا کہ وہ مفت میں تقسیم کرکے 'لوگوں کو خریدنے' کی کوشش کر رہے ہیں۔ انھوں نے اسے 'ریوڈی کلچر' کا نام دیا۔

لیکن مسٹر مودی کے مخالفین کا کہنا ہے کہ عدم مساوات کو کم کرنے کی سکیموں کو مفت بانٹنے کے طور پر نہیں سمجھا جاسکتا۔ انھوں نے مسٹر مودی کے بیانات کو انڈین ریاستوں میں فلاحی پالیسیوں کو غیر قانونی قرار دینے کی ایک پس پردہ کوشش قرار دیا ہے۔

انڈیا کی عدالت عظمی یعنی سپریم کورٹ اس معاملے پر ایک درخواست کی سماعت کر رہی ہے۔ در اصل مسٹر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایک رہنما نے سیاسی جماعتوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جو عوامی فنڈز سے 'غیر معقول فریبیز' یعنی مفت چیزیں دینے کا وعدہ کرتی ہیں یا مفت چیزیں تقسیم کرتی ہیں۔

کیا کوئی اچھی یا بری مفت تقسیم ہے؟

یہ کہنا مشکل ہے کیونکہ اس اصطلاح کی قطیعت کے ساتھ تعریف کی کمی ہے، لیکن موٹے طور پر یہ ووٹرز کو بغیر کسی ادائیگی کے سامان یا خدمات کی فراہمی ہے۔

اگر چہ ابھی تک اس اصطلاح کی تعریف پر کوئی اتفاق رائے نہیں ہے لیکن مفت چیزیں دینے کی 'اچھائی' اور 'برائی' کے بارے میں بہت کچھ کہا گيا ہے۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ تصور اپنے آپ میں ہی توہین آمیز ہے۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جو ووٹرز کو اچھی طرح سے باخبر فیصلے کرنے سے روکتی ہے۔ جبکہ دوسرے ناقدین کا کہنا ہے یہ ایسی چیز ہے جو ووٹروں کو اپنے لیے انتخاب کرنے سے ہی روکتی ہے۔

سپریم کورٹ نے مفت دینے کے وعدے پر فیصلے کے لیے تین رکنی بینچ تشکیل دی ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسپریم کورٹ نے مفت دینے کے وعدے پر فیصلے کے لیے تین رکنی بینچ تشکیل دی ہے

ان دلائل سے قطع نظر مفت میں دینے کا رواج سنہ 1947 میں آزادی کے بعد سے ہی انڈیا کی انتخابی سیاست کی ناگزیر خصوصیات رہی ہیں۔

سیاستدانوں نے ووٹرز سے دنیا بھر کے وعدے کر رکھے ہیں جن میں نقد رقم کی منتقلی سے لے کر ہیلتھ انشورنس اور کھانے پینے کی چیزوں سے لے کر رنگین ٹی وی، لیپ ٹاپ، سائیکل اور سونے تک دینے جیسی چیزیں شامل ہیں۔

پچھلے سال انڈیا کی جنوبی ریاست تمل ناڈو کے ایک سیاست دان نے چاند کے 100 دن کے سفر اور موسم گرما کے دوران لوگوں کو گرمی کو شکست دینے میں مدد کے لیے ایک بہت بڑے برف کے تودے کا وعدہ کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ انھوں نے یہ وعدے سیاست دانوں کے لمبے لمبے وعدوں کے بارے میں 'بیداری پیدا کرنے' کے لیے کیے تھے۔ (وہ انتخابات ہار گئے)

کیا مفت دی جانے والی چیزیں فلاحی منصوبوں کی طرح ہیں؟

مفت کو فلاحی سکیم سے الگ کرنے والی کوئی واضح صورت نہیں ہے۔

ووٹ ڈالنے سے پہلے یا بعد میں ووٹروں کو مراعات فراہم کرنا انڈیا میں غیر قانونی نہیں ہے اور مسٹر مودی کی بی جے پی سمیت ہر پارٹی ایسا کرتی ہے۔

اس کے ساتھ ہی حکومتوں کی جانب سے اپنے شہریوں کو ان کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے فلاحی اقدامات کیے جاتے ہیں۔

حکمراں بی جے پی نے لوگوں کو مفت یا سبسڈی والے مکانات، گیس سلینڈر، بیت الخلا اور صفائی کی سہولیات کی پیشکش کی ہے۔ ملک بھر میں دوسری جماعتیں بھی ایسا ہی کرتی ہیں۔

شمالی ریاست بہار میں حکومت لڑکیوں کو سکول کی تعلیم مکمل کرنے کے لیے نقد ترغیبات فراہم کرتی ہے۔ تمل ناڈو میں حکومت کینٹین چلاتی ہے جو عوام کو کم قیمت پر کھانا مہیا کرتی ہے۔

لیکن ان میں سے کون سی پیشکش جائز فلاحی اقدامات ہیں اور کون سی مفت کی چیزیں ہیں؟

یہ کہنا مشکل ہے۔

اقتصادی ماہرین اکثر صحت کی دیکھ بھال اور تعلیم، جہاں عوامی فائدہ انفرادی فائدے سے زیادہ ہے کو 'قابل قدر' یا حقدار کہتے ہیں اور انھیں غیر حقدار سے الگ رکھتے ہیں۔

لیکن اس طرح کے امتیازات کا فیصلہ کرنا آسان نہیں ہے۔

وزیر اعظم مودی کی حکومت نے لوگوں کو مفت گیس کنکشن فراہم کیے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنوزیر اعظم مودی کی حکومت نے لوگوں کو مفت گیس کنکشن فراہم کیے ہیں

جیسے کہ کچھ ریاستی حکومتوں اور سیاسی پارٹیوں نے سائیکلوں کی تقسیم کی ہے اور جو محض ایک انتخابی اسٹنٹ لگ سکتا ہے۔ لیکن انڈیا کے وسیع دیہی علاقوں میں رہنے والی لاکھوں نوجوان لڑکیوں کے لیے جہاں پبلک ٹرانسپورٹ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے، یہ سکول یا کالج جانے کا ایک ذریعہ ہو سکتا ہے۔

اسی طرح عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کا دارالحکومت دہلی میں مفت بجلی فراہم کرنے کا وعدہ شہر کے متوسط طبقے کے لیے زیادہ اہمیت کا حامل نہیں لیکن غیر رسمی شعبے میں ملازمت کرنے والے لاکھوں افراد کے لیے یہ زندگی بدلنے والا ثابت ہو سکتا ہے۔

سپریم کورٹ کی سماعت کے دوران اس وقت کے چیف جسٹس این وی رمنا نے ریمارکس دیئے تھے کہ 'ایک حجام کے لیے شیونگ کٹ، ایک طالب علم کے لیے سائیکل، تاڑی نکالنے والے کے لیے اس کا اوزار [لوگ جو خمیر شدہ مشروب بنانے کے لیے ناریل یا کھجور کا رس جمع کرتے ہیں]۔ یا دھوبی کے لیے آئرن (پریس) ان کا طرز زندگی بدل سکتا ہے اور ان کی ترقی کا سامان ہو سکتا ہے۔'

کچھ لوگوں نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ بہت سی اہم فلاحی سکیمیں دراصل نام نہاد مفت دینے کے طور پر شروع ہوئی ہیں۔

مثال کے طور پر سرکاری سکولوں میں بچوں کو دوپہر کا کھانا مفت فراہم کرنے کی تمل ناڈو حکومت کی سکیم کو دیگر ریاستوں اور بعد میں قومی سطح پر نافذ کیا گیا کیونکہ اس سے بچوں کی سکول میں حاضری میں بہتری دیکھی گئی۔

مفت کی ‘ریوڑیاں‘ متنازع کیوں ہیں؟

یہ اس لیے متنازع ہے کیونکہ زیادہ تر یہ بالکل 'مفت' نہیں ہیں، کوئی نہ کوئی اس کی ادائیگی کر رہا ہے، یعنی ملک کا ٹیکس دہندہ اس کی ادائیگی کر رہا ہے۔

مخالفین کا استدلال ہے کہ اس طرح کی خدمات ملک کی مالیات پر دباؤ ڈالتی ہیں اور اقتصادی ترقی کے لیے نقصان دہ ہیں۔

مقدمے کے دلائل سننے کے دوران چیف جسٹس رمنا نے کہا کہ عدالت کی بنیادی تشویش یہ ہے کہ 'مفت کے لباس میں ملبوس اس فیاضی سے کہیں قومی معیشت کا خون نہ بہہ جائے۔'

جون میں ریزرو بینک آف انڈیا نے ایک رپورٹ میں کچھ ریاستوں کی مالی پریشانیوں کو مفت بجلی اور پانی کی فراہمی جیسے امور پر بہت زیادہ خرچ کرنے سے بھی جوڑا تھا اور یہ کہا تھا کہ انھیں 'عوامی فلاح کے سامان کے اخراجات' سے الگ کرنا ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیے

لیکن حزب اختلاف کے رہنما اور کچھ ماہرین اقتصادیات اس تنازع کو مسترد کرتے ہیں۔

ان کا استدلال ہے کہ سماجی بہبود کی سکیموں کو مفت کے طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس طرح کا کوئی بھی خرچ اپنے شہریوں کے تئیں حکومت کی بنیادی ذمہ داری کا حصہ ہے۔

مڈ ڈے میل مفت کے طور پر شروع کی جانے والی سکیم تھی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنمڈ ڈے میل مفت کے طور پر شروع کی جانے والی سکیم تھی

اخبار انڈین ایکسپریس میں شائع ایک اداریے میں ماہر معاشیات یامینی ایّر نے لکھا: 'سچ یہ ہے کہ 'مفتیوں پر مبنی سیاست' کا پھیلاؤ واقعتا ہماری معاشی پالیسی اور فلاحی ریاست کی تعمیر میں ناکامی کے غماز ہیں۔ یہ وہ چیزیں ہیں جو انسانی وسائل میں سرمایہ کاری کرتی ہیں۔'

مز ایّر نے دلیل دی کہ حکومت صحت اور تعلیم جیسے شعبوں میں خاطر خواہ سرمایہ کاری کرنے میں ناکام رہی ہے جس کے نتیجے میں گہرا عدم مساوات پیدا ہوا ہے۔ لہذا اس کی تلافی کے لیے بے شمار مفت خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔

وہ کہتی ہیں: 'یہ ووٹرز کے 'خریدنے' کے بارے میں نہیں ہے بلکہ ووٹرز اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے سیاست پر جمہوری طور پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ یہ ایک محدود معاشی تخیل اور کمزور ذریعہ معاش کے بارے میں ہے۔'

کچھ لوگ حالیہ بحث کو مرکزی حکومت کی جانب سے ریاستوں سے کنٹرول چھیننے کی کوشش کے طور پر دیکھتے ہیں کیونکہ آئین ریاستی حکومتوں کو اپنے قرضوں اور مالیاتی پالیسیوں کا انتظام کرنے کی اجازت دیتا ہے جس میں وفاقی حکومت کی طرف سے بہت کم مداخلت کی جاتی ہے۔

جبکہ کچھ لوگوں نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ یہ اکثر غریبوں کو دی جانے والی سبسڈی یا مراعت ہوتی ہے جسے طنزیہ طور پر مفتیاں کہا جاتا ہے، یہاں تک کہ کاروباروں کو بھی حکومت کی طرف سے ٹیکسوں میں کٹوتیوں اور قرضوں میں معافی کی صورت میں مدد ملتی ہے۔

خواتین عام طور پر مفت کی جيزوں پر نظر رکھتی ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنخواتین عام طور پر مفت کی جيزوں پر نظر رکھتی ہیں

کیا مفت کی ریوڑیوں سے انتخابات جیتنے میں مدد ملتی ہے؟

اس میں کوئی شک نہیں کہ مفت اور ہینڈ آؤٹ ووٹروں کے ساتھ فوری رابطہ قائم کرتے ہیں۔

لیکن سیاسی جماعتیں معمول کے مطابق ایک دوسرے پر انتخابات سے قبل اس قسم کی پیشکش کرنے پر تنقید کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر عام آدمی پارٹی پر ریاستی انتخابات سے قبل پنجاب اور اتراکھنڈ میں مفت بجلی اور پانی کا وعدہ کرنے پر تنقید کی گئی۔

تاہم، ووٹرز خود اسے مختلف انداز میں دیکھتے ہیں۔ کچھ کہتے ہیں کہ اس سے ان کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد ملتی ہے جبکہ دوسرے اسے بکواس سمجھتے ہیں، اور مزید ساختیاتی تبدیلیوں کا مطالبہ کرتے ہیں۔

بہر حال کسی بھی طرح سے ان انتخابی وعدوں کو پورا نہ کرنے کے لیے کسی پارٹی کو ذمہ دار ٹھہرانے کا کوئی طریقہ نہیں ہے کیونکہ منشور قانونی طور پر قابل عمل نہیں ہوتے ہیں۔ ایسے میں دیکھنا یہ ہے کہ عدالت ان ابہام کو کیسے دور کرتی ہے۔

اردو کے معروف شاعر غالب کا ایک شعر ہے:

میں نے مانا کہ کچھ نہیں غالب

مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے؟