انڈیا: کیا مزدوروں کا درجہ ملنے سے سیکس ورکرز کی زندگی بدلے گی؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عمران قریشی
- عہدہ, سینیئر صحافی، انڈیا
انڈیا میں انسانی حقوق کے کمیشن این ایچ آر سی نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے لیے ایک اہم ہدایت نامہ جاری کیا ہے۔
این ایچ آر سی نے مرکز اور ریاستوں سے کہا ہے کہ وہ سیکس ورکرز کو ’غیر رسمی مزدور‘ تسلیم کریں۔ نیز کمیشن نے یہ بھی کہا ہے کہ سیکس ورکرز کو دستاویزات دیے جائیں تاکہ انھیں راشن سمیت دیگر سرکاری فوائد مل سکیں۔
کمیشن نے معاشرے میں خطرناک صورت حال سے دو چار اور پسماندہ طبقات کے لوگوں پر کووڈ 19 کے اثرات کا جائزہ لیا ہے اور یہ پایا ہے کہ وہ دوسرے لوگوں سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔
کمیشن نے کہا ہے کہ ان غیر رسمی مزدوروں کا اندراج ہونا چاہیے تاکہ انھیں ’مزدوروں کو حاصل فوائد‘ مل سکیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
این ایچ آر سی ایک آئینی ادارہ ہے جس کی سربراہی انڈیا کی سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس کرتے ہیں۔
سیکس ورکرز کے حقوق کے لیے کام کرنے والی متعدد تنظیموں کی فیڈریشن نیشنل نیٹ ورک آف سیکس ورکرز (این این ایس ڈبلیو) اسے ایک بڑا اور اہم قدم قرار دے رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عارضی دستاویزات پر بھی راشن ملے گا
این این ایس ڈبلیو کی قانونی مشیر آرتی پائی نے کہا: ’لاک ڈاؤن کے اعلان کے بعد سیکس ورکرز کا ذریعہ معاش ختم ہو گیا۔ بار بار یہ مطالبہ کیا جارہا تھا کہ انھیں بطور مزدور رجسٹر کیا جائے تاکہ انھیں بے روزگار مزدور کے طور پر دیا جانے والا الاؤنس مل سکے۔ اس تناظر میں یہ ایک بڑا قدم ہے۔‘
این ایچ آر سی کی ایڈوائزری میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ریاستی حکومتیں سیکس ورکرز کو مدد اور ریلیف فراہم کرا سکتی ہیں۔
اس میں کہا گیا ہے کہ دودھ پلانے والی ماؤں کے لیے ریاست مہاراشٹر کی حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات پر دوسری ریاستیں بھی عمل پیرا ہو سکتی ہیں۔ مہاراشٹر کی وزارت برائے بہبود خواتین و اطفال نے سیکس ورکرز کو راشن فراہم کرنے کا فیصلہ جولائی میں کیا تھا۔
این ایچ آر سی نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر کسی سیکس ورکر کے پاس راشن کارڈ یا آدھار کارڈ نہیں تو بھی انھیں عارضی دستاویزات کے ساتھ راشن ملنا چاہیے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سیکسں ورکرز کی زندگی کو بہتر بنانے کی کوشش
آرتی پائی کہتی ہیں ’زیادہ تر سیکسں ورکر اپنے گھر بار چھوڑ دیتے ہیں اور ان کے پاس کوئی شناختی کارڈ نہیں ہوتا ہے۔ این ایچ آر سی نے کہا ہے کہ خواہ ان کے پاس دستاویزات نہ بھی ہوں تو بھی ان کی مدد کی جانی چاہیے۔ جس کا مقصد سیکسں ورکرز کے انسانی حقوق کو تسلیم کرنا ہے۔‘
این ایچ آر سی کی طرف سے سیکسں ورکرز کو تسلیم کرتے ہوئے انھیں مزدوروں کے ایک وسیع دائرہ میں شامل کیا گیا ہے۔
اس میں مہاجر سیکس ورکرز کو مہاجر مزدوروں کی سکیموں اور فوائد میں شامل کرنا، پروٹیکشن افسروں کو پارٹنر یا کنبے کے افراد کی جانب سے گھریلو تشدد کی اطلاع پر عمل درآمد کرنے کے لیے متحرک کرنے، صابن، سینیٹائزر اور ماسک سمیت کووڈ 19 کی مفت جانچ اور علاج جیسے انتظامات شامل ہیں۔
اس کے علاوہ ان کے لیے صحت کی سہولیات کی فراہمی کی بات کہی گئی ہے تاکہ انھیں ایچ آئی وی اور جنسی طور پر ہونے والے دیگر انفیکشن سے بچایا جا سکے اور ان کے علاج کے انتظامات بھی اس میں شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بمبئی ہائی کورٹ کا اہم حکم
آرتی پائی مہاراشٹر حکومت کی مہم کی ایک خاص بات کا ذکر کرتی ہیں۔
وہ کہتی ہیں: ’اس میں سیکس اور سمگلنگ کی جانے والی لڑکیوں میں واضح فرق کیا گیا ہے۔ سیکس ورکر ایسی بالغ خواتین ہیں جو اپنی مرضی سے روزی روٹی کمانے کے لیے اس کاروبار میں ہیں۔ دوسری طرف سمگلنگ کا شکار لڑکیاں ہیں جن کا جنسی استحصال کیا جاتا ہے اور زبردستی اس کاروبار میں دھکیل دیا جاتا ہے۔‘
این ایچ آر سی کی ایڈوائزری ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب حال ہی میں بمبئی ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلہ سنایا ہے۔
ہائی کورٹ کے جسٹس پرتھوی راج کے چوان نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ „قانون میں ایسی کوئی شق موجود نہیں جو جسم فروشی کو مجرمانہ فعل سمجھے یا جسم فروشی میں ملوث ہونے کی وجہ سے کسی کو سزا دے۔‘
مہاراشٹر میں ’سنگرام‘ نامی ادارے کی جنرل سیکرٹری مینا سیشو کا کہنا ہے کہ ’ہماری لڑائی زبان کے استعمال پر ہے۔ قانون خود طوائف اور طوائف گیری جیسے الفاظ استعمال کرتا ہے لیکن کہیں بھی یہ نہیں کہا گیا کہ جسم فروشی یا طوائف غیر قانونی ہے۔ ہائی کورٹ کا فیصلہ سیکس ورکرز کے لیے ایک بڑی راحت ہے کیونکہ انھیں جیل یا جیل جیسے حالت میں رہنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ سیکس ورکرز کو قربانی کا بکرا بنانے کا کام برسوں سے جاری ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کیا اگلا قدم جنسی کام کو قانونی حیثیت دینا ہو گا؟
سیشو کا کہنا ہے ’سیکس ورکز کے حقوق کی تحریک اس بارے میں بہت واضح ہے۔ جو اس کام کو غیر مجرمانہ فعل بنانے کا مطالبہ کرتی ہے۔ بنیادی بات یہ ہے کہ سیکس ورکر ہونا جرم نہیں لیکن اس کے ارد گرد کی تمام چیزیں مجرمانہ ہو چکی ہیں۔ ہم اس کو غیر مجرمانہ بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ہم اسے قانونی طور پر تسلیم کرنے کا مطالبہ نہیں کر رہے ہیں۔ ایسی صورتحال کبھی نہیں ہو گی جب کوئی خاتون یہ کہے کہ کل مجھے اپنا لائسنس مل جائے گا اور میں ایک سیکس ورکر بن جاؤں گی۔‘











